قومی زبان

نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی

نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی اگر وہ وقت نہیں ہے تو لوٹ آئے بھی ہے آبشار تو احساس کو کرے سیراب وہ پیاس ہے تو مری تشنگی بڑھائے بھی وہ موج ہے تو مجھے غرق بھی ضرور کرے ہے ناخدا تو بھنور سے نکال لائے بھی وہ خواب ہے تو کرے بس قیام آنکھوں میں اگر ہے خوف تو نیندیں مری اڑائے بھی وہ ...

مزید پڑھیے

نظر میں دھول فضا میں غبار چاروں طرف

نظر میں دھول فضا میں غبار چاروں طرف ضرور پھیلے گا اب انتشار چاروں طرف تجھے بھی وادیٔ ہو نے قبول کر ہی لیا اب اپنے آپ کو پھر سے پکار چاروں طرف چلے بھی آؤ کہیں کچھ گماں تو باقی رہے کہ ڈھل رہی ہے شب انتظار چاروں طرف سمجھ نہ پایا کوئی درد بکھرے لمحوں کا یہ شام پھر سے ہوئی اشک بار ...

مزید پڑھیے

مصاحبت کا کوئی سلسلہ نہیں ہے کیا

مصاحبت کا کوئی سلسلہ نہیں ہے کیا کسی بھی شخص سے اب رابطہ نہیں ہے کیا ہزار لوگوں سے پوچھا سبھی ہیں ناواقف یہاں بھی تجھ کو کوئی جانتا نہیں ہے کیا تمام رشتے فراموش کر دیے تو نے تعلقات سے اب فائدہ نہیں ہے کیا امیر شہر سے ہے مصلحت بجا لیکن ہے بات سچ تو کہو حوصلہ نہیں ہے کیا زبان ...

مزید پڑھیے

بہت اداس ہے ماہ تمام کس کے لیے

بہت اداس ہے ماہ تمام کس کے لیے رکی ہوئی ہے منڈیروں پہ شام کس کے لیے بھلا کے خود کو چلو گہری نیند سوتے ہیں اگر کریں بھی تو نیندیں حرام کس کے لیے کہ اس دیار میں کون آیا ہے جو آئے گا ہمیں بتاؤ کہ یہ اہتمام کس کے لیے انہیں بھی کاش کسی روز یہ پتہ تو چلے بنے ہیں شوق سے ہم بھی غلام کس کے ...

مزید پڑھیے

وہ اور لوگ تھے جو راستے بدلتے رہے

وہ اور لوگ تھے جو راستے بدلتے رہے سفر ہے شرط سو ہم نیند میں بھی چلتے رہے پگھل رہا تھا یگوں سے وجود کا لاوا خیال و خواب مرے پتھروں میں ڈھلتے رہے انہیں قبول مری رہبری نہ تھی لیکن مخالفین مرے ساتھ ساتھ چلتے رہے جنہیں نصیب ہوا ان کو بخش دی رونق میں جن کے ہاتھ نہ آیا وہ ہاتھ ملتے ...

مزید پڑھیے

اڑتی رہتی تھی سدا خطۂ ویران میں خاک

اڑتی رہتی تھی سدا خطۂ ویران میں خاک آ گئی چپکے سے اب کے مرے دالان میں خاک مطمئن تھا میں کہ آندھی کو تھمے عرصہ ہوا غور سے دیکھا تو قابض تھی دل و جان میں خاک خواہشیں چاک پہ رکھی ہیں کہ صورت ابھرے گرد کے ساتھ ملی ہے مرے ارمان میں خاک جس کو بھی دیکھو وہ بد حال نظر آتا ہے اب تو داخل ...

مزید پڑھیے

سنا کہ خوب ہے اس کے دیار کا موسم

سنا کہ خوب ہے اس کے دیار کا موسم دلوں پہ چھانے لگا پھر خمار کا موسم کبھی کبھی تو بدن کو پتہ نہیں چلتا کہ باغ روح میں کب آیا پیار کا موسم میں اس گلاب کو ناراض کر نہیں سکتا بھلے ہی روٹھ کے جائے بہار کا موسم یہ خوف دل میں ابھرتا ہے درد کی صورت بدل نہ جائے کہیں اعتبار کا موسم میں ...

مزید پڑھیے

تڑپ اٹھتا ہوں یادوں سے لپٹ کر شام ہوتے ہی

تڑپ اٹھتا ہوں یادوں سے لپٹ کر شام ہوتے ہی مجھے ڈستا ہے میرا سرد بستر شام ہوتے ہی پرندے آشیانوں سے پناہیں مانگا کرتے ہیں بدلنے لگتا ہے آنکھوں کا منظر شام ہوتے ہی ہر اک لمحہ نئی یلغار کا خطرہ ستاتا ہے مخالف سمت سے آتے ہیں لشکر شام ہوتے ہی میں بوڑھا ہو چلا ہوں پھر بھی ماں تاکید ...

مزید پڑھیے

پتھر پڑے ہوئے کہیں رستہ بنا ہوا

پتھر پڑے ہوئے کہیں رستہ بنا ہوا ہاتھوں میں تیرے گاؤں کا نقشہ بنا ہوا آنکھوں کی آب جو کے کنارے کسی کا عکس پانی میں لگ رہا ہے پرندہ بنا ہوا صحرا کی گرم دھوپ میں باغ بہشت ہے تنکوں سے تیرے ہاتھ کا پنکھا بنا ہوا صندل کے عطر سے تری مہندی گندھی ہوئی سونے کے تار سے مرا سہرا بنا ...

مزید پڑھیے

تیری مہندی میں مرے خوں کی مہک آ جائے

تیری مہندی میں مرے خوں کی مہک آ جائے پھر تو یہ شہر مری جان تلک آ جائے بس پہ یہ سوچ کے چڑھتے ہوئے رہ جاتا ہوں کیا خبر تیرے رویے میں لچک آ جائے اونٹ اور ریت مری ذات کا حصہ تھے مگر اب قدم گھر سے نکالوں تو سڑک آ جائے گھر کی دیوار پہ کروا کے سفیدی پیلی چاہتا ہوں مری آنکھوں میں چمک آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1659 سے 6203