قومی زبان

یہ نہ سوچا تھا کڑی دھوپ سے رشتہ بھی تو ہے

یہ نہ سوچا تھا کڑی دھوپ سے رشتہ بھی تو ہے صرف دریا ہی نہیں راہ میں صحرا بھی تو ہے داستاں گو کی ہر اک بات توجہ سے سنوں اس حکایت میں مرے یار کا قصہ بھی تو ہے تجھ کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھاؤں تو لگے پھول کے ساتھ ہر اک شاخ میں کانٹا بھی تو ہے خود ہی کھینچے تھے حصار اس نے مگر اب کی ...

مزید پڑھیے

ریت قابض تھی بہت خاموش لگتی تھی ندی

ریت قابض تھی بہت خاموش لگتی تھی ندی پار کرتے وقت یہ جانا کہ گہری تھی ندی جس جگہ اب ہے گھنی آبادیوں کا سلسلہ کل اسی قصبے کے بیچوں بیچ بہتی تھی ندی ایک ہیبت ناک منظر دل کو دہلاتا ہوا راستہ اپنا اچانک پھر سے بدلی تھی ندی اس کے اندر کی خموشی میں غضب کا راز تھا اپنے اک مخصوص لے میں ...

مزید پڑھیے

سرخ رو نظروں میں ہونے کا بہانہ چاہوں

سرخ رو نظروں میں ہونے کا بہانہ چاہوں جو مرے پاس ہے سب تجھ پہ گنوانا چاہوں پاس ہی چشمہ ابلتا ہے یہ معلوم نہ تھا تشنگی چل کہ تری پیاس بجھانا چاہوں لہریں ساحل سے لپٹنے کو مچل جاتی تھیں تجھ کو منظر میں وہی یاد دلانا چاہوں وہ کہ ہر لمحہ مری روح کو سیراب کرے میں کہ ہر رات بچھڑنے کا ...

مزید پڑھیے

اب تو اک پل کے لیے بھی نہ گنوائیں گے تمہیں

اب تو اک پل کے لیے بھی نہ گنوائیں گے تمہیں خود کو ہاریں گے مگر جیت کے لائیں گے تمہیں ہم کو پتھر کے پگھلنے کا عمل دیکھنا ہے ڈوبتے ڈوبتے آواز لگائیں گے تمہیں دل پہ اک بوجھ ہے کچھ سوچ کے ڈر لگتا ہے قصۂ درد کبھی اور سنائیں گے تمہیں ظاہری آنکھیں ہمیں ڈھونڈھ کہاں پائیں گی چشم باطن سے ...

مزید پڑھیے

یوں نہ بیگانہ رہو گیت سناتی ہے ہوا

یوں نہ بیگانہ رہو گیت سناتی ہے ہوا دل کی سرگوشی سنو گیت سناتی ہے ہوا زندگی ساز ہے اس ساز پہ نغمے چھیڑو تم بھی کچھ خواب بنو گیت سناتی ہے ہوا رات کے پچھلے پہر خواب لبادہ تج کر آج تم خود سے ملو گیت سناتی ہے ہوا راہ میں آئیں گی چٹانیں بہت سی لیکن موج کے ساتھ بہو گیت سناتی ہے ہوا شب ...

مزید پڑھیے

دل کی کیا قدر ہو مہماں کبھی آئے نہ گئے

دل کی کیا قدر ہو مہماں کبھی آئے نہ گئے اس مکاں میں ترے پیکاں کبھی آئے نہ گئے آپ عشق گل و بلبل کی روش کیا جانیں اندرون چمنستاں کبھی آئے نہ گئے ہم نے گھر اپنا ہی وحشت میں بیاباں سمجھا بھول کر سوئے بیاباں کبھی آئے نہ گئے پھر بھی کرتے ہیں بیاں ملک عدم کا احوال جیتے جی حضرت انساں ...

مزید پڑھیے

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں نہ گئیں آہ و زاریاں نہ گئیں دن کو چھوٹا نہ انتظار ان کا شب کو اختر شماریاں نہ گئیں نہ چھپا گریۂ شب فرقت رخ سے اشکوں کی دھاریاں نہ گئیں آ گئے وہ بھی وعدے پر لیکن آہ کی شعلہ باریاں نہ گئیں تنگ آ کر وہ چل دیے گھر کو جب مری اشک باریاں نہ گئیں اس نے خط پھاڑ ...

مزید پڑھیے

دل کی عمارت جھوٹے جذبوں پر تعمیر نہیں کرنا

دل کی عمارت جھوٹے جذبوں پر تعمیر نہیں کرنا خواب ادھورا دیکھو تو کوئی تعبیر نہیں کرنا پھول کھلیں تو ہوا میں خوشبو ہو ہی جاتی ہے تحلیل دل کی باتیں سمجھو پر ان کی تفسیر نہیں کرنا ماں کہتی ہے گھٹتی جلتی رہنا پی لینا آنسو شعروں میں بھی بیٹی اپنا غم تحریر نہیں کرنا نا صاحب ہم سے مت ...

مزید پڑھیے

ایک تصویر جو کمرے میں لگائی ہوئی ہے

ایک تصویر جو کمرے میں لگائی ہوئی ہے گھر کی ٹوٹی ہوئی دیوار چھپائی ہوئی ہے قبر پہ دیپ نہ رکھ نام کا کتبہ نہ لگا ہم نے مشکل سے یہ تنہائی کمائی ہوئی ہے تخت اور تاج تو جوتوں میں پڑے رہتے ہیں وہ گدائی ترے درویش نے پائی ہوئی ہے ڈھول کا شور قیامت ہے کہ تیری بارات دوسرے گاؤں سے گاؤں میں ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی جھیل میں کہرام سے آئے ہوئے ہیں

آنکھ کی جھیل میں کہرام سے آئے ہوئے ہیں چاند ڈھلنے کو ہے اور شام سے آئے ہوئے ہیں چوڑیوں اور پرندوں کے نہیں ہیں گاہک ہم تو میلے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں تیری تصویر تو کمرے میں ہے یادوں کا گلاب زرد پتے تو در و بام سے آئے ہوئے ہیں بس کے اسٹینڈ پہ ٹھیلوں کو سجائے ہوئے لوگ خود کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1660 سے 6203