قومی زبان

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ اسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ میں کشت زیست میں فصلوں کی صورت کچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ گزاری ہیں ہزاروں دکھ کی راتیں بہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوں وہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ میں ہو کر بے خطا مجرم ہی ٹھہری تو باغی ہو گئی ...

مزید پڑھیے

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی خود اپنی ذات کے سائے میں کھو گئے ہم بھی لگاؤ سنگ صدا شیشہ سکوت پہ آج زمانے والو پکارو کہ سو گئے ہم بھی لگے تو شاخ پہ اک برگ زرد کی مانند گرے تو گرد حقارت میں کھو گئے ہم بھی نہ دیکھ پائے حقیقت کے ہولناک نقوش ہزار رنگ نقابوں میں کھو گئے ہم بھی ہمارا ...

مزید پڑھیے

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئی

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئی یہ جرأت ہم کو مگر آپ کے کرم سے ہوئی جہان عشق میں اہل جنوں بھی کم تو نہ تھے ہوئی شناخت اس اقلیم کی تو ہم سے ہوئی قتیل عشق کیا پھر گلے لگائے رہا کہ ابتدائے محبت بھی اک ستم سے ہوئی مجھے تو جاننے والے بھی کم ہی جانتے ہیں مری شناخت سر ملک فن قلم سے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں ہماری فکر کے محور بدلتے رہتے ہیں حریم جاں کو منور کریں گے کیا وہ چراغ کہ جن کے طاق برابر بدلتے رہتے ہیں نہ حوصلہ تھا جنہیں قسمتیں بدلنے کا وہ کم سواد فقط گھر بدلتے رہتے ہیں طرح طرح کے ملے زخم دل تو حیرت کیا کہ چارہ ساز بھی نشتر بدلتے رہتے ...

مزید پڑھیے

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں اور اگر کچھ بن نہیں پڑتا چپکے چپکے رو لوں ہوں موتی اشک ستارے آنسو زرداروں کی تشبیہات بھوک میں پلکوں پر گویا میں جوار کے دانے تولوں ہوں جب کوئی زردار ملے ہے راہ میں اپنی چال میں مست پتھر سے کیا ٹکرانا میں ایک کنارے ہو لوں ...

مزید پڑھیے

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیں

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیں راہ کے سارے طلسمات مرے اپنے ہیں قفل گو ڈال گیا دست تشدد لب پر ہم نوا میرے خیالات مرے اپنے ہیں کیسے ہو رد بلا کیا ہو تباہی سے گریز وہ جو ہیں باعث آفات مرے اپنے ہیں دیر سے مجھ پہ جو ہیں سنگ زنی میں مصروف دیکھتی ہوں تو سبھی ہات مرے اپنے ہیں نہ ہوا مجھ ...

مزید پڑھیے

جن کی تعبیر نہ ہو خواب وہ آنے سے رہے

جن کی تعبیر نہ ہو خواب وہ آنے سے رہے یہ عذاب اب تو ہم آنکھوں میں بسانے سے رہے کھول ہی لیں گے فصیلوں میں نئے در ہم لوگ لاکھ محبوس سہی وقت گنوانے سے رہے اہل پندار ہیں دریوزہ گری کب ہے قبول بھیک لینے کو کسی در پہ تو جانے سے رہے ایک دن قید قفس توڑ کے اڑ جائیں گے قید میں رہ کے عبث شور ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے مسکرا دی خود ہی گھبرائی کبھی

بیٹھے بیٹھے مسکرا دی خود ہی گھبرائی کبھی پیار کے موسم میں ایسی بھی گھڑی آئی کبھی آپ کا دامن تو ساحل ریت کا ثابت ہوا موج اشک خوں بھی جس کو تر نہ کر پائی کبھی اپنے سر لے کر زمانے بھر کی ساری تہمتیں دفن کر دی اپنی خاموشی میں گویائی کبھی ساتھ گزرے چند لمحوں کی سنہری یاد سے چلنے ...

مزید پڑھیے

کس قدر معصوم دکھیارے ہیں یہ

کس قدر معصوم دکھیارے ہیں یہ روشنی کی رات کے تارے ہیں یہ ہم کو تو گنتی تلک آتی نہیں کتنا کچھ جیتا ہے اور ہارے ہیں یہ ہائے کیسی دوپہر کا سامنا پا برہنہ ہم ہیں بنجارے ہیں یہ مکر ہے سب پانیوں پہ تیرنا دور رہنا جلتے انگارے ہیں یہ کون جانے ان کی بخشش ہے کہاں پتھروں پہ روز سر مارے ہیں ...

مزید پڑھیے

جھلستی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھیج

جھلستی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھیج چمن سے جانب صحرا بھی کوئی تحفہ بھیج مجھے تغیر موسم کا کچھ یقین دلا اگر تسلسل باراں نہیں تو قطرہ بھیج بہت دنوں سے مجھے تیرے خواب آتے ہیں کوئی پیام کوئی خیر کا سندیسہ بھیج کبھی مری بھی سماعت پہ کوئی نغمہ لکھ مرے بھی گھر کے شجر پر کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1652 سے 6203