قومی زبان

تم اپنی آنکھوں کو بند کر لو

تمہاری آنکھیں جو میری آنکھوں میں بس گئی ہیں وہ صبح سے شام تک مرے ساتھ گھومتی ہیں وہ رات بھر میری نیند سے چور بند آنکھوں میں جاگتی ہیں میں صبح آئینہ دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے جھانکتی ہیں مجھے ہر اک بات پر کچھ اس طرح ٹوکتی ہیں کہ جیسے میں ایک طفل ناداں ہوں جانتا ہی نہیں زمانے کے ...

مزید پڑھیے

وقت وقت کی بات ہے

وہی ہم تھے کہ اس شہر سکوں میں رت جگوں کی دھوم تھی ہم سے وہی ہم ہیں کہ شہر بے اماں کی بھیڑ میں خود اپنی تنہائی پہ حیراں ہیں ہمارا جبر مجبوری ہمیں جب صبر آمادہ بناتا ہے تو آنکھیں اس قدر شعلے اگلتی ہیں کہ خاموشی بھی اک شور فغاں معلوم ہوتی ہے

مزید پڑھیے

رات کے سائے

میزوں کے شیشوں پر بکھرے خالی جام کے گیلے حلقے سگریٹوں کے دھوئیں کے چھلے دیواروں پر ٹوٹ چلے ہیں سارا کمرہ دھواں دھواں ہے ساری فضا ہے مہکی مہکی دو اک دھندلے دھندلے سر ہیں جھکے ہوئے بے سدھ ہاتھوں پر رات کا نشہ ٹوٹ رہا ہے جب آئے تھے اس محفل میں نئے پرانے سب ساتھی تھے کون کسے پہچانے گا ...

مزید پڑھیے

ان چاہی موت

فاصلہ جب تمہارے مرے درمیاں کا ذرا بڑھ گیا تو تمہاری جدائی کے احساس کی گرم بوندیں مری منتظر چشم بے خواب سے رات بھر قطرہ قطرہ ٹپکتی رہیں صبح تک کروٹیں میرے بستر پہ جلتی رہیں آگ سی خون کے ساتھ میرے بدن میں دہکتی رہی یاد کی شمع کمرے میں شب بھر سلگتی رہی اور تمہارا نشہ میری نس نس ...

مزید پڑھیے

بے بسی

یہ جینا کیا یہ مرنا کیا کچھ بھی تو ہمارے بس میں نہیں اک جال بچھا ہے خواہش کا اور دل ہے کہ پھیلا جاتا ہے ہم بچنے کی جتنی کوشش کرتے ہیں پھنستے جاتے ہیں یہ ریگ روان عمر ہی کچھ ایسی ہے کہ دھنستے جاتے ہیں جب ریت ہمارے پیروں کے نیچے سے کھسکنے لگتی ہے دنیا کی تمنا بجھتی ہوئی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

آبلہ

وہ رات کتنی عجیب تھی کٹ نہیں رہی تھی کہ وقت ہی جیسے رک گیا تھا زبان چپ تھی نگاہیں اک داستان محرومیٔ تمنا سنا رہی تھیں بساط آغوش بجھ گئی تھی ہمارا ہی انتظار تھا فرش دل بری کو مگر ہم اپنی شرافت نفس کی گراں باریوں سے مجبور ہو گئے تھے خود اپنی فطرت سے اس قدر دور ہو گئے تھے کہ دل کی آواز ...

مزید پڑھیے

بہتی ہوئی آنکھوں سے دھواں دیکھ رہا ہوں

بہتی ہوئی آنکھوں سے دھواں دیکھ رہا ہوں شعلوں میں گھرا اپنا مکاں دیکھ رہا ہوں بچپن جہاں بیتا جہاں آئی تھی جوانی اس شہر میں اب جائے اماں دیکھ رہا ہوں جو ہاتھ ہوا کرتے تھے آغوش محبت ان ہاتھوں میں اب تیر و کماں دیکھ رہا ہوں سب آپ کے چہرے کی طرف دیکھ رہے ہیں میں آپ کے قدموں کے نشاں ...

مزید پڑھیے

زاد سفر

یہ زندگی کا سفر عجب ہے کہ اس میں جو بھی ملا وہ مل کر بچھڑ گیا ہے چلا تھا جب کارواں ہمارا نئے افق کی طرف تو ہم بھی جواں امنگوں کے پاسباں تھے قدم قدم پر جب ایک اک کر کے سب ہمارے رفیق چھوٹے تو جن نئی منزلوں کی جانب چلے تھے کل ہم وہ سب افق کی طرح گریزاں خلاء میں تحلیل ہو گئی تھیں میں اس ...

مزید پڑھیے

تجزیہ

دوستو آج بے سمت چلتے ہیں لوگ تم بھی اس بھیڑ میں کھو کے رہ جاؤگے آؤ ماضی کی کھولیں کتاب عمل اک نظر سرسری ہی سہی ڈال کر دیکھ لیں اپنے سب کارناموں کا حشر تجزیہ اپنی ناکامیوں کا کریں اپنی محرومیوں پر ہنسیں خوب جی کھو کر اور سوچیں کہ کیوں شہر کے شور میں گم کراہوں کا نوحہ ہوا ہم پہ کیوں ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے رشتے

وہ خواب جو میری زندگی تھے وہ کب کے ردی کی ٹوکری میں پڑے ہوئے ماندگی کے وقفے کے منتظر ہیں کہ میں کبھی کارزار ہستی کے شور و غل سے تھکوں تو بس ایک لمحہ رک کر انہیں اٹھا لوں

مزید پڑھیے
صفحہ 1640 سے 6203