پھول چیخ اٹھتے ہیں پتوں پہ نمی بولتی ہے

پھول چیخ اٹھتے ہیں پتوں پہ نمی بولتی ہے
بیل کے پنجرے سے جب شاخ ہری بولتی ہے


میری وسعت مرے اظہار کے آڑے آئی
مجھ سمندر سے زیادہ تو ندی بولتی ہے


میں تو چڑیا کو ہی بلبل کی جگہ لکھوں گا
کہ مرے گھر میں تو دن رات یہی بولتی ہے


دن مرا جاب کی بک بک میں گزر جاتا ہے
اور شب بھر یہ کلائی کی گھڑی بولتی ہے


اے کھلے پھول کے شیدائی تجھے علم نہیں
کتنے ذو معنی طریقے سے کلی بولتی ہے


آنکھ والو یوں مری خاک تماشا نہ کرو
سننے والو یہ مری تیز روی بولتی ہے


تو سمجھ دار اگر ہے تو یہی کافی ہے
تجھے کہتی ہے کہ کیا ہے مجھے جی بولتی ہے