قومی زبان

شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہے

شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہے بت خانہ نشیں باندھ کے زنار ہوا ہے ہر حرف پہ دو آنسو ٹپک پڑتے ہیں اے وائے خط یار کو لکھنا ہمیں دشوار ہوا ہے کوتہ نہ سمجھ آہ ضعیفان کو یہ تیر سو بار دل عرش سے بھی پار ہوا ہے اے صید فگن غم سے ترے دوری کہ میرا ہر زخم دل اک دیدۂ خوں بار ہوا ہے ہستی تری ...

مزید پڑھیے

دروازہ مایوس ہے شاید سوگ میں ہے انگنائی بہت

دروازہ مایوس ہے شاید سوگ میں ہے انگنائی بہت اک مدت پر اپنے گھر کی آئی تو یاد آئی بہت میں کیا جانوں بھید ہے کیسا پوچھو گھاٹ کے پتھر سے دھیرے دھیرے آخر کیسے جم جاتی ہے کائی بہت پورب پچھم اتر دکھن ہر جانب ہے ایک ہی حال کوئی بھی موسم ہو غم کی چلتی ہے پروائی بہت اندھے بہرے گونگے ...

مزید پڑھیے

ناتوانی میں بھی وہ کردار ہونا چاہئے

ناتوانی میں بھی وہ کردار ہونا چاہئے اپنے ہی کاندھے پہ اپنا بار ہونا چاہئے یہ خیال آنے لگا ہے کس توقع پر تمہیں راہ میں ہر پیڑ سایہ دار ہونا چاہئے شہر بھر میں سخت جانی کے لیے مشہور ہوں میری خاطر اک نہ اک آزار ہونا چاہئے میرا دشمن دور تک کوئی نہیں میرے سوا اور دشمن سے مجھے ہشیار ...

مزید پڑھیے

گماں حد نظر تک کیا تھا لیکن کیا نظر آیا

گماں حد نظر تک کیا تھا لیکن کیا نظر آیا جدھر دریا کی موجیں تھیں ادھر صحرا نظر آیا مجھے فرصت کہاں اپنی بصیرت سے میں یہ پوچھوں وہ کیسا آئنہ تھا کون سا چہرہ نظر آیا سمندر بند ہو کر رہ گیا تھا جس کی مٹھی میں تعجب ہے وہ بازی گر سراسیمہ نظر آیا تو کیا آب رواں سے پیاس اپنی دھل نہیں ...

مزید پڑھیے

نندیا آنکھوں میں آ

نندیا آنکھوں میں آ نندیا آنکھوں میں آ ان میں کلیاں ان میں خوشبو ان میں ہے رس بھرا نندیا آنکھوں میں آ ان میں ہے چاندنی ان میں ہے روشنی ان میں تارے ان میں جگنو ان میں ہے اک دیا نندیا آنکھوں میں آ آنکھوں کی راہ سے تو آ جا چاہ سے ان آنکھوں سے دل تک جائے چاہت کا راستہ نندیا آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

ہم پنچھی بن جائیں

بن کے ننھے پنچھی ہم بھی نیل گگن میں اڑتے اڑتے جائیں گہرے گہرے ساگر اونچے اونچے پربت نیلی نیلی جھیلیں سب نیچے رہ جائیں بن کے ننھے پنچھی بادلوں میں ہم تیریں اور دھنک پر جھولیں چاند پہ مل کر دوڑیں تاروں کو ہم چھو لیں کھیلیں آنکھ مچولی کرنوں میں چھپ جائیں ہاتھ کبھی نہ آئیں نفرت کی ...

مزید پڑھیے

چاند نگر سے خط آیا ہے

چاند نگر سے خط آیا ہے دیکھنا اس میں کیا لکھا ہے اس میں لکھا ہے پیارے بچو میں آکاش پہ بیٹھا بیٹھا تم سب لوگوں کی دنیا کو خاموشی سے دیکھ رہا ہوں اس میں لکھا ہے پیاری دنیا پہلے کتنی بھولی بھالی نیلی برف کے گولے جیسی سندر سی اچھی لگتی تھی اس میں لکھا پیارے بچو اب یہ خون کی رنگت جیسی اب ...

مزید پڑھیے

اپنا گھرانا

چھوٹا سا گھرانا اپنا دیکھا ہے آنکھوں نے سدا جس کا سپنا چھوٹا سا وہ اپنا گھرانا ہے شور کہیں بچوں کا بہنوں کو ستانا دن بھر بھائی کا اور شام کو تھک کر سو جانا چھوٹا سا وہ اپنا گھرانا سب کھیلیں آنکھ مچولی جیسے اک عمر کے ہمجولی وہ کھیل میں شامل ہونا ابا کا امی کا مگر وہ شرمانا چھوٹا سا ...

مزید پڑھیے

منا چلا پاؤں پاؤں

منا چلا پاؤں پاؤں بادلوں کی چھاؤں چھاؤں انگلی چھوڑ کے بھاگا امی کا دل شاد ہوا دھوم مچائیں بابا منا چلا پاؤں پاؤں ننھے ننھے پیر اٹھائے چلتے چلتے ڈولا جائے اک پل سنبھلے اک پل جھومے چلنے سے پر باز نہ آئے منا چلا پاؤں پاؤں گرنے سے وہ نہ گھبرائے چلنے سے وہ نہ شرمائے کہتے ہیں ایسا ہی ...

مزید پڑھیے

کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تو

کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تو دل ہی سے کر اپنی پیدا راہ تو ڈوب جا بحر عمیق عشق میں یوں نہ ہرگز لے سکے گا تھاہ تو گھر سے نکلے گا وہ اپنی رات کو مت نکلیے دیکھیو اے ماہ تو کعبہ ڈھ جاوے تو بن سکتا ہے پھر دیکھیے دل ہے اسے مت ڈھاہ تو حال دل تھوڑا سا سن کر بول اٹھا بس اب اس قصہ کو کر کوتاہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1617 سے 6203