قومی زبان

افلاک گونگے ہیں

مگر یہ آرزو کب تھی کہ ہم افلاک کے فرمان کی سولی پہ جا لٹکیں تو آخر کس لیے وقت و مکاں کی گھاٹیاں اتریں بنا کر مرقدوں کو در عدم کے آسماں کی خاک چھانیں اور پھر جیون کے موسم کو اسیری کا کفن اوڑھیں مگر ان سب سوالوں کے جوابوں سے بہت پہلے نیا دن سورجوں پر بیٹھ کر کھڑکی کے رستے خواب زاروں ...

مزید پڑھیے

وقت آخر کام جذب ناتمام آیا تو کیا

وقت آخر کام جذب ناتمام آیا تو کیا ہچکیوں کی شکل میں ان کا پیام آیا تو کیا رہ گئی رندوں میں جب ساغر اٹھانے کی نہ تاب اب تغافل آشنا ساقی بہ جام آیا تو کیا وقت ہی پر لے کے ابھرے گا پیام صبح نو ڈوبتے سورج کو تاروں کا سلام آیا تو کیا لطف تو جب ہے کہ جلوہ ہو بقدر ظرف دید بن کے برق طور وہ ...

مزید پڑھیے

مری کشتیٔ محبت یوں ہی پا گئی کنارا (ردیف .. ہ)

مری کشتیٔ محبت یوں ہی پا گئی کنارا کسی موج نے ڈبویا کسی موج نے ابھارا بہت آسرا لگا کر بڑے پیار سے پکارا تمہیں سامنے نہ آئے تمہیں کر گئے کنارا کوئی تلخئ محبت کو نہ کر سکا گوارا یہ تو صرف میرا دل تھا کہ یہ بن گیا تمہارا مرے پیار سے نہ کھیلو مرا زخم دل نہ چھیڑو کہیں جل نہ جائے دامن ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے

تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے نہ زندگی کی خوشی ہے نہ موت کا غم ہے وہ ایک اشک کا قطرہ جو حاصل غم ہے وہی تو زخم جگر کا ہمارے مرہم ہے مقام اپنا ہے اس طرح دار فانی میں کہ جیسے دامن گل پر ثبات شبنم ہے بدل سکے نہ قفس کے مصائب و آلام ہماری فطرت آزاد کتنی محکم ہے مٹا چکے تھے جو مجھ ...

مزید پڑھیے

بجھا بجھا سا چراغ سر مزار ہوں میں

بجھا بجھا سا چراغ سر مزار ہوں میں خزاں نے جس کو سنوارا ہے وہ بہار ہوں میں وہ جس پہ غیر بھی روتے ہیں آٹھ آٹھ آنسو وہ ایک محفل ماضی کی یادگار ہوں میں جو تیرے دامن رحمت کی آبرو رکھ لے مرے کریم وہی اک گناہ گار ہوں میں نگاہ ہو تو ذرا دیکھ عالم تخریب اجل کی گود میں قدرت کا شاہکار ہوں ...

مزید پڑھیے

منزل کا محبت میں کہیں نام نہیں ہے

منزل کا محبت میں کہیں نام نہیں ہے آغاز ہی آغاز ہے انجام نہیں ہے صیاد یہ کیوں کر کہوں آرام نہیں ہے جو کل تھی تڑپ آج تہ دام نہیں ہے نظارے سے ہاں اور بھی دل ہوتا ہے بے چین بے آپ کے دیکھے بھی تو آرام نہیں ہے آرام سکوں میں ہے سکوں موت میں یعنی جینے میں تو ظاہر ہے کہ آرام نہیں ہے ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیر

کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیر کہے تو ہے یہ عالم بزم تصویر جلے تک کا میں اپنے قدرداں ہوں یہ چٹکی راکھ ہے اک طرفہ اکسیر نگاہ عجز کچھ کچھ کارگر تھی سو اب جاتی رہی اس کی بھی تاثیر وہ دن کیا با حلاوت تھے کہ احباب موافق تھے بہم جوں شکر و شیر کروں کیوں کر نہ میں راسخؔ مباہات کہ ہیں ...

مزید پڑھیے

ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کا

ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کا شکوہ نہ کیا دل نے کبھو شکر خدا کا اعضا کے تناسب کا نہ وارفتہ ہو اتنا آنکھیں ہیں تو رہ حیرتی انداز و ادا کا ہر دم ہے ہدف ناوک بیداد کا تیری پتھر کا کلیجا ہے مگر اہل وفا کا تابوت ہی دیکھا نہ مرا آنکھ اٹھا کر کیا شرم ہے کشتہ ہوں میں اس شرم و حیا ...

مزید پڑھیے

غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم

غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم سوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہم یہ بے خبری دیکھ کہ جب ہم سفر اپنے کوسوں گئے تب آہ خبردار ہوئے ہم صیاد ہی سے پوچھو کہ ہم کو نہیں معلوم کیا جانئے کس طرح گرفتار ہوئے ہم تھی چشم کہ تو رحم کرے گا کبھو سو ہائے غصہ کے بھی تیرے نہ سزا وار ہوئے ہم آتا ہی ...

مزید پڑھیے

دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارا

دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارا اس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہمارا بازار جہاں میں ہیں عجب جنس زبوں ہم کوئی نہیں اے وائے خریدار ہمارا تھی داور محشر سے توقع سو تجھے دیکھ وہ بھی نہ ہوا ہائے طرف دار ہمارا کیونکر نہ دم سرد بھریں ہم کہ ہر اک سے ملتا ہے بہت گرم کچھ اب یار ہمارا تجھ بن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1616 سے 6203