قومی زبان

شہادت میں ظفر روشن جبیں کو دیکھ لے آ کر

شہادت میں ظفر روشن جبیں کو دیکھ لے آ کر سن اے قاتل مری فتح مبیں کو دیکھ لے آ کر مری یادوں میں ہیں آباد مظلوم جہاں سارے کہاں تک عدل ہے دل کی زمیں کو دیکھ لے آ کر ملا ہے یک جہاں غم مجھ کو تیری بے وفائی سے یہ کیسا اوج ہے جان حزیں کو دیکھ لے آ کر مجھے فکر جہاں کتنی ہے اپنی ذات میں ...

مزید پڑھیے

وحشت دل چشم حیراں خواب صحرا اور میں

وحشت دل چشم حیراں خواب صحرا اور میں اک بساط شوق پر میرا تماشا اور میں تیرے ہاتھوں سے بنا کشکول بھرتا ہی نہیں قریہ قریہ گھومتے ہیں میرا کاسہ اور میں ایک ہی صورت کے دو ٹکڑے ہوئے ہوں کیا خبر شام کے ماتھے پہ وہ پہلا ستارہ اور میں دم بہ دم صوت و صدا نا معتبر ہوتی گئی پشت پر ہے پھر ...

مزید پڑھیے

ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو

ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو ڈراتا رہتا ہے اپنا ہی آئینہ مجھ کو میں کس فسانے کا حصہ ہوں کہہ نہیں سکتا وجود اپنا بھی لگتا ہے واقعہ مجھ کو اب آسماں کی چلو حد تلاش کی جائے بلا رہا ہے ستاروں کا قافلہ مجھ کو میں کائنات پہ اپنی نگاہ ڈالتا ہوں ترے خیال کی ملتی ہے جب ضیا مجھ ...

مزید پڑھیے

کبھی یوں بھی کرو شہر گماں تک لے چلو مجھ کو

کبھی یوں بھی کرو شہر گماں تک لے چلو مجھ کو جہاں تک روشنی ہے تم وہاں تک لے چلو مجھ کو بھٹکتا جا رہا ہوں راہ رو ملتا نہیں کوئی غبار راہ میرے کارواں تک لے چلو مجھ کو غم آوارگی سے میں شکستہ ہوتا جاتا ہوں پرندو تم ہی اپنے آشیاں تک لے چلو مجھ کو خموشی جھیل لی میں نے رہائی کی گھڑی ...

مزید پڑھیے

پاسباں بن کے ارادہ مرے آگے ہوگا

پاسباں بن کے ارادہ مرے آگے ہوگا ہوگا پایاب جو دریا مرے آگے ہوگا زیر ہو جائے گی ہر تیرہ شبی آخر کار تیری صورت کا اجالا مرے آگے ہوگا اب تو میں آگ سے کھیلوں گا چراغاں کر کے شہر تاریک یہ سارا مرے آگے ہوگا میں مگر جاؤں گا رکھے ہوئے آنکھوں پر ہاتھ لاکھ راہوں میں تماشا مرے آگے ...

مزید پڑھیے

روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا

روشنی بن کے اندھیرے پہ اثر ہم نے کیا دشت تنہائی سے کیا خوب گزر ہم نے کیا بندش ہجر کو توڑا نہیں تو نے آ کر یاد کیا تجھ کو نہیں شام و سحر ہم نے کیا اک بیاباں بھی ملا منتظر نور ازل دل کی ویرانی کو جب پیش نظر ہم نے کیا اور کچھ ہو نہ سکا صورت درماں لیکن اپنا دامن تو سر دیدۂ تر ہم نے ...

مزید پڑھیے

اپنے ہونے کا کوئی ساز نہیں دیتی ہے

اپنے ہونے کا کوئی ساز نہیں دیتی ہے اب تو تنہائی بھی آواز نہیں دیتی ہے جانے یہ کون سی منزل ہے شناسائی کی ذات مطلق کوئی اعجاز نہیں دیتی ہے اپنی افتاد طبیعت کا گلا کیا ہو کہ جو خواہشوں کو پر پرواز نہیں دیتی ہے ساعت خوبی گزر جاتی ہے آتے جاتے پر یہ تحریک تگ و تاز نہیں دیتی ہے جانے ...

مزید پڑھیے

کسی بھی حال میں یہ حق کشی گوارہ نہیں

کسی بھی حال میں یہ حق کشی گوارہ نہیں لہولہان ہمیں زندگی گوارہ نہیں وجود کے لئے لڑتے رہیں گے آخر تک صلیب پر بھی ہمیں خامشی گوارہ نہیں انہیں کے نام اندھیرے فلک سے آتے ہیں جنہیں ہماری کبھی روشنی گوارہ نہیں خدا کا اول و آخر ہے حق عبادت پر زمین والے تری بندگی گوارہ نہیں ہر ایک ظلم ...

مزید پڑھیے

رات آخر ہو ستم پیشوں پہ ایسا بھی نہیں

رات آخر ہو ستم پیشوں پہ ایسا بھی نہیں وقت رک جائے کہیں آ کے یہ ہوتا بھی نہیں اپنے ہونے کی سزا کس کو ملا کرتی ہے کس کو یہ زخم دکھاؤں جو ہویدا بھی نہیں منتظر آئینہ خانے ہیں نہ جانے کس کے شہر تمثال میں اب تو کوئی چہرہ بھی نہیں تجھ سے منسوب تھے سب جور سہے ہم نے مگر پاس ناموس محبت تھا ...

مزید پڑھیے

زندگی کی شراب پانی ہے

زندگی کی شراب پانی ہے اور وہ بھی خراب پانی ہے جانے والی صدی صدا بر لب آنے والا عذاب پانی ہے نفرتوں کا بدل محبت ہے آگ کا اک جواب پانی ہے حرف باطن بھی حرف ظاہر بھی ایک ایسی کتاب پانی ہے یہ سمندر سمجھ نہیں سکتا ایک پیاسے کا خواب پانی ہے ایک قطرہ نہیں ہے آنکھوں میں ہر طرف بے حساب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1615 سے 6203