قومی زبان

دل کو حریف ناز کیے جا رہا ہوں میں

دل کو حریف ناز کیے جا رہا ہوں میں ہر شے سے بے نیاز کئے جا رہا ہوں میں شکر نگاہ ناز کیے جا رہا ہوں میں فطرت کو کارساز کیے جا رہا ہوں میں ہے جستجوئے سر حقیقت رواں فروز راہ طلب دراز کیے جا رہا ہوں میں دنیا کو دے رہا ہوں سبق حسن و عشق کا افشا ہر ایک راز کیے جا رہا ہوں میں ہوگا کبھی تو ...

مزید پڑھیے

حسن صورت دیکھ کر رنگ طبیعت دیکھ کر

حسن صورت دیکھ کر رنگ طبیعت دیکھ کر محو حیرت ہوں سواد بزم غربت دیکھ کر مجھ سے پوچھے راز کی باتیں مجھے معلوم ہیں کیوں پریشاں ہو کوئی نیرنگ فطرت دیکھ کر واقعہ ہے واقعہ اہل نظر سے پوچھئے حسن بھی حیرت میں ہے شان محبت دیکھ کر تیز گامی مقتضائے جوش الفت ہی سہی لیکن اے رہرو نقوش راہ ...

مزید پڑھیے

یہ مری روح سیہ رات میں نکلی ہے کہاں

یہ مری روح سیہ رات میں نکلی ہے کہاں بدن عشق سے آگے کوئی بستی ہے کہاں تم نے نذرانے گزارے تھے کہاں بانٹ دیئے ساتھ جو عمر گزاری تھی وہ رکھ دی ہے کہاں میرے اعصاب پہ لہراتی ہوئی شاخ گلاب آج وہ ہاتھ ہلاتی ہوئی لڑکی ہے کہاں ایک ہی چاند کو تکتا ہوا بے نام پڑوس ایک ہی چاند دکھاتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اسی بکھرے ہوئے لہجے پہ گزارے جاؤ

اسی بکھرے ہوئے لہجے پہ گزارے جاؤ ورنہ ممکن ہے کہ چپ رہنے سے مارے جاؤ ڈوبنا ہے تو چھلکتی ہوئی آنکھیں ڈھونڈھو یا کسی ڈوبتے دریا کے کنارے جاؤ وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ تم ہی کہتے تھے رضاؔ فرق دوئی ختم کرو جاؤ اب اپنی ہی تصویر نہارے جاؤ

مزید پڑھیے

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے یار اکتائے ہوئے رہتے ہیں ایسا کر لوں آج کی شام کوئی جھوٹی کہانی ہو جائے یوں بھی ہو جائے کہ برتا ہوا رستہ نہ ملے کوئی شب لوٹ کے گھر جانا ضروری ہو جائے یاد آئے تو بدلنے لگے گھر کی صورت طاق میں جلتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

سب ہوت نہ ہوت سے نتھری ہوئی آسان غزل ہوں چھا کے سنو

سب ہوت نہ ہوت سے نتھری ہوئی آسان غزل ہوں چھا کے سنو کبھی گزرو نور سرا سے میری کبھی مجھ کو مجھ سے چرا کے سنو مرا دل بھی کوئی پنگھٹ ہے جہاں پریاں پانی بھرتی ہیں کوئی پیڑا نہیں کوئی شور نہیں سب پانی مرا گہرا کے سنو دن رات زمین کی گردش پر سر تال بٹھاتے رہتے ہو کبھی خود کو بھی حیران ...

مزید پڑھیے

جتنا پاتا ہوں گنوا دیتا ہوں

جتنا پاتا ہوں گنوا دیتا ہوں پھر اسی در پہ صدا دیتا ہوں ختم ہوتا نہیں پھولوں کا سفر روز اک شاخ ہلا دیتا ہوں ہوش میں یاد نہیں رہتے ہیں خط بے خیالی میں جلا دیتا ہوں سب سے لڑ لیتا ہوں اندر اندر جس کو جی چاہے ہرا دیتا ہوں کچھ نیا باقی نہیں ہے مجھ میں خود کو سمجھا کے سلا دیتا ہوں

مزید پڑھیے

کچھ عجب سا ہوں ستم گر میں بھی

کچھ عجب سا ہوں ستم گر میں بھی اس پہ کھلتا ہوں بدن بھر میں بھی نئی ترتیب سے وہ بھی خوش ہے خوبصورت ہوں بکھر کر میں بھی آ مرے ساتھ مرے شہر میں آ جس سے بھاگ آتا ہوں اکثر میں بھی اب یہ پا پوش انا کاٹتی ہے لو ہوا اپنے برابر میں بھی جھلملا لے ابھی عجلت کیا ہے اور کچھ دیر ہوں چھت پر میں ...

مزید پڑھیے

بہت خوبیاں ہیں ہوس کار دل میں

بہت خوبیاں ہیں ہوس کار دل میں نیا شور مچتا ہے ہر بار دل میں بدن کو کسو اور بس مسکرا دو اتر جاؤ اب آخری بار دل میں ابھی میرے چہرے کی رنگت الگ تھی ابھی ہو رہی ہے دھواں دار دل میں نئے چاند پر اب کے صدقہ کریں گے سلامت رہیں سب گل و خار دل میں ہمیں رزق کی کچھ ضرورت پڑے گی دعا پک رہی ہے ...

مزید پڑھیے

ہر موسم میں خالی پن کی مجبوری ہو جاؤ گے

ہر موسم میں خالی پن کی مجبوری ہو جاؤ گے اتنا اس کو یاد کیا تو پتھر بھی ہو جاؤ گے ہنستے بھی ہو روتے بھی ہو آج تلک تو ایسا ہے جب یہ موسم ساتھ نہ دیں گے تصویری ہو جاؤ گے ہر آنے جانے والے سے گھر کا رستہ پوچھتے ہو خود کو دھوکا دیتے دیتے بے گھر بھی ہو جاؤ گے جینا مرنا کیا ہوتا ہے ہم تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1603 سے 6203