قومی زبان

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیا

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیا بجھی جو آتش جاں زیست کا نشاں بھی گیا بہت پناہ تھی اس گھر کی چھت کے سائے میں وہاں سے نکلے تو پھر سر سے آسماں بھی گیا بڑھا کچھ اور تجسس جلا کچھ اور بھی ذہن حقیقتوں کے تعاقب میں میں جہاں بھی گیا رہے نہ ساتھ جو پچھتاوے بھی تو رنج ہوا کہ حاصل ...

مزید پڑھیے

اندیشہ ہائے دور دراز

تری خواہش نے کس تشکیک کا ملبوس پہنا ہے تری بابت کسی سے پوچھنے میں خوف آتا ہے وہ جانے کیا ہے ترے بارے میں کوئی بات بھی کرتا ہوں تو ڈرتا ہوں جانے گفتگو کیا رنگ پکڑے تری بابت کسی سے کوئی رائے بھی طلب کرتے لرزتا ہوں وہ جانے تجھ کو کیسا نام دے مرے احساس کو کس شک نے جکڑا ہے یہی کیوں ...

مزید پڑھیے

پہلی برسات کی گھٹا چھائی

پہلی برسات کی گھٹا چھائی آج کھڑکی سے کچھ ہوا آئی اپنی کٹیا میں روز ماتم ہے ان کے کوٹھے پہ روز شہنائی لو کے موسم پہ فتح پائے گی اک نہ اک دن ضرور پروائی اس کی پازیب کی صدا سن کر گنگناتی ہوئی صبا آئی اک طرف خاک و خون کا عالم اک طرف عیش میں ہے دارائی شب میں جب اس کو خواب میں ...

مزید پڑھیے

درد غزل میں ڈھلنے سے کتراتا ہے

درد غزل میں ڈھلنے سے کتراتا ہے خالی کاغذ میری ہنسی اڑاتا ہے کس چاہت سے قلم پکڑ کر بیٹھے تھے اب تو ایک بھی لفظ نہیں بن آتا ہے آڑی ترچھی لکیروں سے کب بات بنی شوق اندھا ہے ہوا پہ نقش بناتا ہے کس کی صدائیں میرا تعاقب کرتی ہیں دیس نکالے شخص کو کون بلاتا ہے یادیں ٹیسیں سی بن کر رہ ...

مزید پڑھیے

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا مگر وجود پہ اپنا نشان چھوڑ گیا ہر ایک چیز میں خوشبو ہے اس کے ہونے کی عجب نشانیاں وہ میہمان چھوڑ گیا نہ ساتھ رہنے کا وعدہ اگر کیا پورا زمیں کا ساتھ اگر آسمان چھوڑ گیا ذرا سی دیر کو بیٹھا جھکا گیا شاخیں پرندہ پیڑ میں اپنی تھکان چھوڑ گیا وہ ...

مزید پڑھیے

خود میں جھانکا تو عجب منظر نظر آیا مجھے

خود میں جھانکا تو عجب منظر نظر آیا مجھے اپنے اندر بھی عجائب گھر نظر آیا مجھے مجھ سے اس کا ہم سفر بننا بھی کب دیکھا گیا وہ بھی اپنی راہ کا پتھر نظر آیا مجھے حادثوں نے اس کے پاؤں سے بھی دھرتی کھینچ لی وہ بھی سیل وقت کی زد پر نظر آیا مجھے مہرباں کوئی شریک قید تنہائی نہ تھا اپنے ...

مزید پڑھیے

ہم فلک کے آدمی تھے ساکنان قریۂ مہتاب تھے

ہم فلک کے آدمی تھے ساکنان قریۂ مہتاب تھے ہم ترے ہاتھوں میں کیسے آ گئے ہم تو بڑے نایاب تھے وقت نے ہم کو اگر پتھر بنا ڈالا ہے تو ہم کیا کریں یاد ہیں وہ دن بھی ہم کو ہم بھی جب مہر و وفا کا باب تھے زر لٹاتے گزرے موسم آنے والی روشنی لاتی رتیں چند یادیں چند امیدیں ہماری زیست کے اسباب ...

مزید پڑھیے

معصوم خواہشوں کی پشیمانیوں میں تھا

معصوم خواہشوں کی پشیمانیوں میں تھا جینے کا لطف تو انہیں نادانیوں میں تھا آنکھیں بچھاتے ہر کس و ناکس کی راہ میں یوں جذبۂ خلوص فراوانیوں میں تھا ندی میں پہروں جھانکتے رہتے تھے پل سے ہم کیا بھید تھا جو بہتے ہوئے پانیوں میں تھا پتھر بنے کھڑے تھے تجسس کے دشت میں دل گم طلسم شوق کی ...

مزید پڑھیے

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروں

کون سے جذبات لے کر تیرے پاس آیا کروں تو بتا کس زاویے سے میں تجھے دیکھا کروں یہ بھی اک شرط سفر ہے ہم سفر کوئی نہ ہو جس کسی بھی راستے کو طے کروں تنہا کروں اے گزرتے وقت تو کب میرے بس میں آئے گا لمحہ پراں بتا کب تک ترا پیچھا کروں حلقۂ احباب بڑھتا جا رہا ہے دن بدن اب میں اپنے آپ کو بھی ...

مزید پڑھیے

چھپے ہوئے تھے جو نقد شعور کے ڈر سے

چھپے ہوئے تھے جو نقد شعور کے ڈر سے نکل سکے نہ وہ جذبات میرے اندر سے کبھی بھی شہر‌ طلسمات دل کی سیر نہ کی ہر ایک جلوہ لیا مستعار باہر سے رہے ہم اپنی ہی گہرائیوں سے ناواقف اتر سکی نہ کبھی کائی سطح دل پر سے سکوں کی جنتیں دوزخ نہیں اذیت کا عجیب حال ہوا آگہی کے محشر سے ہماری بچوں سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1590 سے 6203