قومی زبان

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح میں اپنے دشت میں تنہا چراغ شب کی طرح خیال و فکر کی سچائیاں بھی شامل ہیں مرے لہو میں مرے شجرۂ نسب کی طرح وہ اپنی خلوت جاں سے پکارتا ہے مجھے میں چاہتا ہوں اسے حرف زیر لب کی طرح خوشا یہ دور کہ وہ بھی ہے ساتھ ساتھ مرے مرے خیال کی صورت مری طلب کی ...

مزید پڑھیے

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی میں تو سمجھا تھا کہ اک میری ہی گویائی گئی پھر وہی بادل کہ جی اڑنے کو چاہے جن کے ساتھ پھر وہی موسم کہ جب زنجیر پہنائی گئی پھر وہی طائر وہی ان کی غزل خوانی کے دن پھر وہی رت جس میں میری نغمہ پیرائی گئی کچھ تو ہے آخر جو سارا شہر تاریکی میں ہے یا ...

مزید پڑھیے

رنگ اب یوں تری تصویر میں بھرتا جاؤں

رنگ اب یوں تری تصویر میں بھرتا جاؤں تجھ پہ رنگ آئے میں جاں سے بھی گزرتا جاؤں وہ دیا ہوں کہ ہواؤں سے بھی ڈرتا جاؤں فرط پندار سے پھر رقص بھی کرتا جاؤں عجب آشوب دیا میرے خدا نے مجھ کو اک تمنائے مسیحائی میں مرتا جاؤں مجھ کو جھٹلاتی رہیں وہ مری منکر آنکھیں اور میں صورت خورشید ...

مزید پڑھیے

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتا

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتا ابھی آ جائے گا بادل کوئی بارش کرتا گھر سے نکلا تو جہاں زاد خدا اتنے تھے میں انا زاد بھی کس کس کی پرستش کرتا ہم تو ہر لفظ میں جاناں تری تصویر ہوئے اس طرح کون سا آئینہ ستائش کرتا کسی وحشت زدہ آسیب کی مانند ہوں میں اک مکاں میں کئی ناموں سے رہائش ...

مزید پڑھیے

آوارگان شوق سبھی گھر کے ہو گئے

آوارگان شوق سبھی گھر کے ہو گئے اک ہم ہی ہیں کہ کوچۂ دلبر کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ تجھ سے بچھڑنا پڑا ہمیں پھر یوں لگا کہ شہر سمندر کے ہو گئے کچھ دائرے تغیر دنیا کے ساتھ ساتھ ایسے کھنچے کہ ایک ہی محور کے ہو گئے اس شہر کی ہوا میں ہے ایسا بھی اک فسوں جس جس کو چھو گئی سبھی پتھر کے ہو ...

مزید پڑھیے

آئے ہم شہر غزل میں تو اس آغاز کے ساتھ

آئے ہم شہر غزل میں تو اس آغاز کے ساتھ مدتوں رقص کیا حافظ شیراز کے ساتھ اول عشق ہے اور ہم سفری کی لذت اور آہستہ قدم اور ذرا ناز کے ساتھ اول اول تو دھنک بن کے اڑا وہ طائر اور پھر رنگ بدلتے گئے پرواز کے ساتھ ایک ویران دریچے پہ خزاں کی بارش کوئی تصویر بناتی رہی آواز کے ساتھ میں وہ ...

مزید پڑھیے

میں کہاں اور عرض حال کہاں

میں کہاں اور عرض حال کہاں وہ کہاں اور مرا خیال کہاں میں ستارہ نہ تم گلاب ہوئے مل رہے ہیں مگر وصال کہاں آگ سوچوں تو خاک لکھتا ہوں متفق لفظ اور خیال کہاں ہے وفا کا صلہ وفا سچ ہے لیکن ایسی کوئی مثال کہاں مجھ کو پامال عمر کرتے ہوئے جا رہے ہیں یہ ماہ و سال کہاں پوچھتا ہوں جواز کون ...

مزید پڑھیے

میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں

میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں تو اپنوں ہی کا لشکر دیکھتا ہوں میں دنیا اپنے اندر دیکھتا ہوں یہیں پہ سارا منظر دیکھتا ہوں کبھی تصویر کر دیتا ہوں اس کو کبھی تصویر بن کر دیکھتا ہوں مجھے اس جرم میں اندھا کیا ہے کہ بینائی سے بڑھ کر دیکھتا ہوں نشاط دید تھا آنکھوں کا جانا کہ اب پہلے ...

مزید پڑھیے

تھا مری جست پہ دریا بڑی حیرانی میں

تھا مری جست پہ دریا بڑی حیرانی میں کیوں مرا عکس بہت دیر رہا پانی میں شاید اس خاک سے خورشید کوئی اٹھے گا سو میں رہتا ہوں عناصر کی نگہبانی میں پاس آداب کہ یاں دیر نہیں لگتی ہے میر زنداں کو بدلتے ہوئے زندانی میں ان کی آواز کو خاطر میں نہ لانے والو تم نے دریاؤں کو دیکھا نہیں طغیانی ...

مزید پڑھیے

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہے

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہے جو میرے نام سے تنہا رہی ہے اب اس سے اور بھی شمعیں جلا لو سواد جاں میں اک مشعل جلی ہے ہمارے سر گئے سنگ حریفاں مے و مینا سے آفت ٹل گئی ہے میں بہر آزمائش بھی جلا ہوں کہ دیکھوں مجھ میں کتنی روشنی ہے الٰہی خیر ہو ان بستیوں کی پس دیوار اک پرچھائیں سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1578 سے 6203