حیران سی ہے بھچک رہی ہے
حیران سی ہے بھچک رہی ہے نرگس کس گل کو تک رہی ہے آئی ہے بہار غنچے چٹکے کیا پھولوں کی بو مہک رہی ہے مے خانے پہ مینہ برس رہا ہے بجلی کیسی چمک رہی ہے باقی ہے اثر ابھی جنوں کا سودا تو گیا ہے جھک رہی ہے پوچھو نہ جلن کا دل کے احوال اک آگ پڑی دہک رہی ہے نرگس کو تو آنکھ اٹھا کے دیکھو کس ...