قومی زبان

حیران سی ہے بھچک رہی ہے

حیران سی ہے بھچک رہی ہے نرگس کس گل کو تک رہی ہے آئی ہے بہار غنچے چٹکے کیا پھولوں کی بو مہک رہی ہے مے خانے پہ مینہ برس رہا ہے بجلی کیسی چمک رہی ہے باقی ہے اثر ابھی جنوں کا سودا تو گیا ہے جھک رہی ہے پوچھو نہ جلن کا دل کے احوال اک آگ پڑی دہک رہی ہے نرگس کو تو آنکھ اٹھا کے دیکھو کس ...

مزید پڑھیے

خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے

خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے گل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئے امسال فصل گل میں وہ پھر چاک ہو گئے اگلے برس کے تھے جو گریباں سیے ہوئے ہم بھی ہوا میں اک گل نوخیز حسن کے برسوں پھرے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے دوکانیں مے فروشوں کی کب سے پڑی ہیں بند رہ رہ گئے ہیں قفل دیے کے دیے ہوئے عشق ...

مزید پڑھیے

اس چاند کو تم دل میں چھپا کیوں نہیں لیتے

اس چاند کو تم دل میں چھپا کیوں نہیں لیتے اس پیاس کی شدت کو بجھا کیوں نہیں لیتے گر پیار کی آتش میں سلگنے میں مزا ہے پھر عشق میں تم خود کو جلا کیوں نہیں لیتے یہ لاشۂ جاں آئے گا اب کون اٹھانے اس بوجھ کو کاندھوں پہ اٹھا کیوں نہیں لیتے اس شہر میں ہیں لاکھ طبیبوں کی دوکانیں بیمار ہے ...

مزید پڑھیے

ہر دن جس پر پھول کھلیں وہ بے موسم کی ڈال نہیں میں

ہر دن جس پر پھول کھلیں وہ بے موسم کی ڈال نہیں میں ساجے نہ ساجے ہر کندھے پر پڑنے والی شال نہیں میں مٹی کا ہوں پیالہ لیکن پیاس میں سب کا ہاتھ بٹاؤں جوڑ لیں جس میں آرتی جھٹ سے پیتل کی وہ تھال نہیں میں خوب خزاں کو اس کا پتہ ہے حال زبوں بھی میرا جدا ہے دوش ہوا پر اڑنے والے پتوں سا بے ...

مزید پڑھیے

شہر اپنا ہے مگر لوگ کہاں ہیں اپنے

شہر اپنا ہے مگر لوگ کہاں ہیں اپنے کہنے سننے کو زماں اور مکاں ہیں اپنے یہ دعا فرض سمجھ کر میں کیے جاتا ہوں خیر سے خوش رہیں احباب جہاں ہیں اپنے کب الگ تھی مری دنیا سے جو جنت چھوٹی کوئی اپنا تھا وہاں اور نہ یہاں ہیں اپنے آئنہ میز کا اپنی کبھی حصہ نہ بنا شہر میں کہنے کو سب شیشہ گراں ...

مزید پڑھیے

یوں کھلے بندوں محبت کا نہ چرچا کرنا

یوں کھلے بندوں محبت کا نہ چرچا کرنا بات دل کی ہے اسے سوچ کے رسوا کرنا دشمنی مول تو لے سکتے ہیں پل میں سب سے سخت دشوار ہے اک ربط کا پیدا کرنا دوستی ظرف و یقیں کی ہے کٹھن راہگزر سوچ کر اس سے گزرنے کا ارادہ کرنا کل کوئی شخص سر راہ یہ دیتا تھا صدا ہو سکے تو غم دوراں کا مداوا کرنا سب ...

مزید پڑھیے

اب کے سوچا ہے یہ دستور نرالا رکھوں

اب کے سوچا ہے یہ دستور نرالا رکھوں تم قریب آؤ تو میں فاصلہ تھوڑا رکھوں نت نئے عذر سے تم مجھ کو منا لیتے ہو ہوں نئے عذر تو کیوں بغض پرانا رکھوں بستر ہجر پہ حدت سے تصور کے جو خود موم سا پگھلے میں شب بھر وہ سراپا رکھوں لکھنے بیٹھوں جو محبت کا فسانہ میں کبھی عنواں ریشمؔ ہو مگر ذکر ...

مزید پڑھیے

کس کی آمد سے بہاراں ہوا مسکن مسکن

کس کی آمد سے بہاراں ہوا مسکن مسکن آج گل کھلتے رہے چار سو گلشن گلشن وہ جو اٹھی تھی مری سمت اچٹتی سی نگاہ کر گئی راکھ سکوں کا مرے خرمن خرمن سانس حدت سے کئے رکھتی ہے مجھ کو سرشار کون پیکر میں مرے بس گیا دھڑکن دھڑکن دیکھیے اس بت کافر کے ستانے کی ادا خواب میں دکھتا ہے تو بھی پس چلمن ...

مزید پڑھیے

مت جانیے پیکار میں بس ناز و ادا کا

مت جانیے پیکار میں بس ناز و ادا کا عورت میں ہے دم معرکۂ جور و جفا کا منزل پہ پہنچ سکتے نہیں ایسے مسافر ہر گام پہ ہو خوف جنہیں آبلہ پا کا ہر درد کا درماں ہے شراب غم الفت اک گھونٹ میں ہم پیتے ہیں اک جام شفا کا میں سن کے جسے لوٹ گئی بیچ سفر سے مانوس صدا تھی کہ وہ دھوکا تھا صدا کا بے ...

مزید پڑھیے

دریا تھا ساتھ پھر بھی عجب بے بسی رہی

دریا تھا ساتھ پھر بھی عجب بے بسی رہی سیراب ہم ہوئے تو مگر تشنگی رہی اہل سفر کو جستجو منزل پہ لے گئی گرد سفر ہماری یہ آوارگی رہی جھکتے ہیں ہم غرض کے لیے رب کے سامنے بے لوث اب کسی کی کہاں بندگی رہی دیوار کیا کھڑی ہوئی آنگن کے درمیاں چھت سے اترتی دھوپ بھی سہمی ہوئی رہی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1551 سے 6203