مت جانیے پیکار میں بس ناز و ادا کا

مت جانیے پیکار میں بس ناز و ادا کا
عورت میں ہے دم معرکۂ جور و جفا کا


منزل پہ پہنچ سکتے نہیں ایسے مسافر
ہر گام پہ ہو خوف جنہیں آبلہ پا کا


ہر درد کا درماں ہے شراب غم الفت
اک گھونٹ میں ہم پیتے ہیں اک جام شفا کا


میں سن کے جسے لوٹ گئی بیچ سفر سے
مانوس صدا تھی کہ وہ دھوکا تھا صدا کا


بے نام و نشاں برگ سی آوارۂ منزل
کچھ مجھ پہ کرم شاخ کا کچھ زور ہوا کا


صحرائے محبت ہے سرابوں کا تسلسل
حاصل ہے فقط تشنگی ریشمؔ کی وفا کا