قومی زبان

آج انکار نہ فرمائیے آپ

آج انکار نہ فرمائیے آپ شب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپ جائیے گھر کو نہ گھبرائیے آپ ہم نہ مر جائیں گے بس جائیے آپ کھول دو شوق سے بند انگیا کے لیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ آتے ہی کہتے ہو میں جاؤں گا میں بھی آنے کا نہیں جائیے آپ ڈھونڈھتے پھریے اگر لے کے چراغ مجھ سا عاشق جو کہیں پائیے ...

مزید پڑھیے

وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے

وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے ظہور قدرت پروردگار دیکھ چکے نقاب کھول کے روئے نگار دیکھ چکے کچھ ایک بار نہیں لاکھ بار دیکھ چکے جہاں کے عیش و غم روزگار دیکھ چکے جو دیکھتا تھا سو پروردگار دیکھ چکے وہ جیتے جی ہوئے ایذا سے نزع کی آگاہ جو صدمے تیرے شب انتظار دیکھ چکے خدا کے واسطے ...

مزید پڑھیے

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا کیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتا خط لے کے گیا جو وہ کبوتر نہیں ملتا کیا ذکر کبوتر کا ہے اک پر نہیں ملتا زلفوں کی طرح عمر بسر ہو گئی اپنی ہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہیں ملتا کیا خاک مداوا کریں شوریدہ سری کا سر پھوڑنے کو ڈھونڈھیں تو پتھر نہیں ...

مزید پڑھیے

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں جو بات مانو تو منت ہزار بار کریں یہ ہاتھ کیسے ہیں بیکار کچھ تو کار کریں بہار آئی گریبان تار تار کریں کہاں سے لائیں اب اس کو جو ہمکنار کریں تسلی کیا تری او جان بے قرار کریں وہ ربط تم سے بڑھائیں وہ تم کو یار کریں ہزار طرح کے جو جبر اختیار ...

مزید پڑھیے

تسخیر سب نجوم و مہ و کہکشاں ہوئے

تسخیر سب نجوم و مہ و کہکشاں ہوئے مجھ کو تھا وہ جنوں کہ نگوں دو جہاں ہوئے میں زیست کے سفر میں اکیلی جو چل پڑی عزم و جنوں و شوق مرے کارواں ہوئے دریا تو ایک پل میں سمندر سے جا ملا آنسو ٹھٹھک کے آنکھ میں اک داستاں ہوئے نشے میں تخت و تاج کے کل تک جو چور تھے سچ ہے لحد میں آج وہی بے نشاں ...

مزید پڑھیے

ذرا سی مشق کرے بے ضمیر بن جائے

ذرا سی مشق کرے بے ضمیر بن جائے تو کیا عجب ہے کہ انساں وزیر بن جائے جو کام چور ہو بچے کرائے پر لے لے انہیں صدائیں سکھا لے فقیر بن جائے جوان رند جو ہو روزگار سے محروم مرید مجمع کرے اور پیر بن جائے کچھ اشتہار ہوں کچھ پگڑیاں اچھالنے کو یہ خاکسار بھی پھر تو مدیر بن جائے وہ بدگماں ...

مزید پڑھیے

جدھر تجھ کو جاتے صنم دیکھتے ہیں

جدھر تجھ کو جاتے صنم دیکھتے ہیں ادھر پہروں حسرت سے ہم دیکھتے ہیں نئی قبر کس کی بنی ہے کہ جس پر تمہارے سے نقش قدم دیکھتے ہیں لبوں کو دبائے ہنسی کو چرائے یوں ہی مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں خدا جانے کیوں ہاتھ سینے پہ رکھا وہ دل دیکھتے ہیں کہ دم دیکھتے ہیں مقدر انہیں کا مقدر ہے ...

مزید پڑھیے

ایسے بیمار کی دوا کیا ہے

ایسے بیمار کی دوا کیا ہے جو بتاتا نہیں ہوا کیا ہے کون سنتا ہے اس زمانہ میں کس سے کہئے کہ التجا کیا ہے لب بیمار تھرتھراتے ہیں جھک کے سنئے ذرا دعا کیا ہے مجھ کو جو دیکھتا ہے روتا ہے کوئی کیا جانے ماجرا کیا ہے حضرت خضر بھی بتا نہ سکے زندگانی کا مدعا کیا ہے درد پر دوسروں کے ہنس ...

مزید پڑھیے

رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو

رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو بات کرتے نہیں سلام تو لو مے پیو تم سرور ہو مجھ کو ہاتھ سے میرے ایک جام تو لو بات تم نے نہیں کی غیر سے کل سر پہ اللہ کا کلام تو لو بندہ ہوتا ہوں آپ کا بے دام ہووے درکار اگر غلام تو لو ناز و انداز حسن و خوبی میں کون ہے تم سا اس کا نام تو لو آپ فرمائیں ...

مزید پڑھیے

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا عشق نے پھر مفسدہ برپا کیا آج پھر اس شوخ نے فقرا کیا وعدۂ امروز بھی فردا کیا خون ناحق اک مسلماں کا کیا کیا غضب او شوخ بے پروا کیا دل کو مائل شعلہ رویوں کا کیا دین زردشتی کو پھر احیا کیا ابر اکثر اس برس برسا کیا کیا تتبع دیدۂ تر کا کیا کیوں اجل کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1550 سے 6203