آج انکار نہ فرمائیے آپ
آج انکار نہ فرمائیے آپ شب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپ جائیے گھر کو نہ گھبرائیے آپ ہم نہ مر جائیں گے بس جائیے آپ کھول دو شوق سے بند انگیا کے لیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ آتے ہی کہتے ہو میں جاؤں گا میں بھی آنے کا نہیں جائیے آپ ڈھونڈھتے پھریے اگر لے کے چراغ مجھ سا عاشق جو کہیں پائیے ...