کس کی آمد سے بہاراں ہوا مسکن مسکن
کس کی آمد سے بہاراں ہوا مسکن مسکن
آج گل کھلتے رہے چار سو گلشن گلشن
وہ جو اٹھی تھی مری سمت اچٹتی سی نگاہ
کر گئی راکھ سکوں کا مرے خرمن خرمن
سانس حدت سے کئے رکھتی ہے مجھ کو سرشار
کون پیکر میں مرے بس گیا دھڑکن دھڑکن
دیکھیے اس بت کافر کے ستانے کی ادا
خواب میں دکھتا ہے تو بھی پس چلمن چلمن
لوٹ کر لے گیا مجھ سے وہ مرا اپنا وجود
اب تو اپنا سا لگے راہ کا رہزن رہزن
وقت رخصت بھی نہیں آنے دی آنکھوں میں نمی
صبح دم تر تھا مگر پھولوں کا دامن دامن
کیسے کہہ دوں میں نہیں منتظر اس کی ریشمؔ
تن کی دیوار میں دو آنکھیں ہیں روزن روزن