قومی زبان

جب نشاط الم نہیں ہوتا

جب نشاط الم نہیں ہوتا جام جم جام جم نہیں ہوتا جانے کیوں تیری بے رخی سے بھی دل کو اب کوئی غم نہیں ہوتا آ گیا ہوں ترے حضور مگر فاصلہ پھر بھی کم نہیں ہوتا وہ مسرت تلاش کرتا ہے جس کو عرفان غم نہیں ہوتا عمر بھر تجھ کو دیکھنے پر بھی ذوق نظارہ کم نہیں ہوتا کیا کہوں دل کو کیا ہوا ...

مزید پڑھیے

سفر زندگی نہیں آساں

سفر زندگی نہیں آساں ہر طرف راہ میں ہیں سنگ گراں دور ہو جائیں دکھ زمانے کے صاحب درد ہو اگر انساں سوچنا پڑ گیا زمانے کو مٹ کے بھی ہم نہ جب ہوئے ارزاں تو اسے طنز کیوں سمجھتا ہے میں تو حالات کر رہا ہوں بیاں جی رہا ہوں کچھ اس طرح جیسے آگ لگ جائے اور ہو نہ دھواں تو مری بات کا جواب نہ ...

مزید پڑھیے

ہوئے جب سے محبت آشنا ہم

ہوئے جب سے محبت آشنا ہم نہیں لاتے زباں پر مدعا ہم سعادت ہے جو بن جائیں جہاں میں کسی مجبور دل کا آسرا ہم چلائے تیر چھپ چھپ کر جنہوں نے کریں گے ان کے حق میں بھی دعا ہم مٹے گا داغ سجدہ کب جبیں سے خدا جانے بنیں گے کب خدا ہم ہمارے درمیاں کیوں فاصلے ہیں کبھی سوچا نہ ہم نے مل کے ...

مزید پڑھیے

اب کہیں سایۂ گیسو بھی نہیں

اب کہیں سایۂ گیسو بھی نہیں چین دل کو کسی پہلو بھی نہیں جانے کیا سوچ کے خوش بیٹھا ہوں موسم گل بھی نہیں تو بھی نہیں اب تری نذر کروں کیا اے دوست اب مری آنکھوں میں آنسو بھی نہیں کس کو سینے سے لگا کر روئیں دشت میں اب کوئی آہو بھی نہیں مسکرا اٹھتی تھی وہ آنکھ کبھی اور اب جنبش ابرو ...

مزید پڑھیے

کہاں پہ لائی ہے میری خودی کہاں سے مجھے

کہاں پہ لائی ہے میری خودی کہاں سے مجھے نہ اپنے دل سے غرض ہے نہ اپنی جاں سے مجھے نہ اس جہان سے نسبت نہ اس جہاں سے مجھے بس ایک ربط ہے دنیائے بے نشاں سے مجھے شعور زیست ملا فکر دو جہاں سے مجھے متاع درد ملی دل کے آستاں سے مجھے قرار جاں نہ بنی اپنی ہستئ موہوم گلا یہی ہے تری عمر جاوداں ...

مزید پڑھیے

یہ اذن عام ہے اے واعظو آؤ وضو کر لو

یہ اذن عام ہے اے واعظو آؤ وضو کر لو خدا کا نام لے کر بیعت دست سبو کر لو گلوں کی چاک دامانی پہ کیوں جاتے ہو دیوانو خود اپنے ہی جگر کے چاک تو پہلے رفو کر لو یہ بزم مے ہے یاں پینا پلانا ہی عبادت ہے اجازت ہے اگر چاہو خدا کو روبرو کر لو کلیم آؤ تو میرے ساتھ تم بھی طور سینا تک ذرا اس ...

مزید پڑھیے

کیوں اندھیروں کا مسافر ہے مقدر اپنا

کیوں اندھیروں کا مسافر ہے مقدر اپنا کوئی سورج تو نکالے یہ سمندر اپنا ظلمت شب میں جلائے ہوئے اشکوں کے چراغ عشق کی راہ میں خود عشق ہے رہبر اپنا کیا لگائے گا کوئی میری انا کی قیمت دونوں عالم سے گراں تر ہے یہ جوہر اپنا کوئی چہرہ تو کہیں ہو ترے چہرے کی طرح شہر خوباں میں نہیں ایک بھی ...

مزید پڑھیے

حسن ازل نے پہلے ہمیں جلوہ گر کیا

حسن ازل نے پہلے ہمیں جلوہ گر کیا دنیائے ہست و بود سے پھر بے خبر کیا اس بے نیاز عشق نے آشفتہ سر کیا دیر و حرم سجائے پریشاں نظر کیا آسودگان خاک کو پھر در بدر کیا ذوق نمود صبح میں برگ و شجر کیا تا عمر اپنی ذات کے اندر بسر کیا اس کائنات شوق کو ہم نے بھی سر کیا دم بھر رکے تھے سایۂ ...

مزید پڑھیے

اگر قدم ترے میکش کا لڑکھڑا جائے

اگر قدم ترے میکش کا لڑکھڑا جائے تو شمع میکدہ کی لو بھی تھرتھرا جائے اب اس مقام پہ لائی ہے زندگی مجھ کو کہ چاہتا ہوں تجھے بھی بھلا دیا جائے مجھے بھی یوں تو بڑی آرزو ہے جینے کی مگر سوال یہ ہے کس طرح جیا جائے غم حیات سے اتنی بھی ہے کہاں فرصت کہ تیری یاد میں جی بھر کے رو لیا ...

مزید پڑھیے

رہا اسیر کئی سال نقش پا کی طرح

رہا اسیر کئی سال نقش پا کی طرح خدا کا شکر اب آزاد ہوں ہوا کی طرح مرے حبیب مجھے اذن باریابی دے کھڑا ہوں در پہ ترے آہ نارسا کی طرح گناہ گار ہوں اک میں ہی شہر میں شاید کہ بات کرتے ہیں سب مجھ سے پارسا کی طرح ابھی ملا نہیں مجھ کو سراغ منزل کا بھٹک رہا ہوں ابھی اپنے رہنما کی طرح کسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1552 سے 6203