اب کے سوچا ہے یہ دستور نرالا رکھوں

اب کے سوچا ہے یہ دستور نرالا رکھوں
تم قریب آؤ تو میں فاصلہ تھوڑا رکھوں


نت نئے عذر سے تم مجھ کو منا لیتے ہو
ہوں نئے عذر تو کیوں بغض پرانا رکھوں


بستر ہجر پہ حدت سے تصور کے جو خود
موم سا پگھلے میں شب بھر وہ سراپا رکھوں


لکھنے بیٹھوں جو محبت کا فسانہ میں کبھی
عنواں ریشمؔ ہو مگر ذکر تمہارا رکھوں