تعریف سن رہے ہیں تمہارے جمال کی

تعریف سن رہے ہیں تمہارے جمال کی
تحریر کیجئے کوئی صورت وصال کی


لے کر تمہارا نام جو جیتے ہیں عمر بھر
تم کو بھی کچھ خبر ہے غریبوں کے حال کی


دل میں ہمارے ظلمت غم کا گزر نہیں
اک شمع جل رہی ہے کسی کے خیال کی


ساقی سے ہے شراب حسیں تر کی آرزو
تصویر کھینچنی ہے کسی کے جمال کی


دل لے کے پہلے دل کا ہی پھر حال پوچھنا
بس آپ کی یہی تو ادا ہے کمال کی


وہ دن بھی تھے کہ آپ کو شائقؔ سے ربط تھا
باتیں ہوئی ہیں آج وہ خواب و خیال کی