قومی زبان

میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں

میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں صدا تو دے کہ جانوں میں کہاں ہوں یہی ہے فرق مجھ میں اور اس میں یقیں ہے وہ تو میں بس اک گماں ہوں زمیں سے آسماں تک شور کیسا تو کیا سب کے لئے بار گراں ہوں بہم اس کو فضائے آسمانی میں گویا بند کمرے میں دھواں ہوں میں پھوٹی اس کی پسلی سے تو ٹیڑھی وہ ...

مزید پڑھیے

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں منہ بناتا ہے برا کیوں وقت وعظ آج واعظ تو نے پی اچھی نہیں زلف یار اتنا نہ رکھ دل سے لگاؤ دوستی نادان کی اچھی نہیں بت کدے سے مے کدہ اچھا مرا بے خودی اچھی خودی اچھی نہیں مفلسوں کی زندگی کا ذکر کیا مفلسی کی موت بھی اچھی ...

مزید پڑھیے

درد ہو تو دوا کرے کوئی

درد ہو تو دوا کرے کوئی موت ہی ہو تو کیا کرے کوئی بند ہوتا ہے اب در توبہ در مے خانہ وا کرے کوئی قبر میں آ کے نیند آئی ہے نہ اٹھائے خدا کرے کوئی حشر کے دن کی رات ہو کہ نہ ہو اپنا وعدہ وفا کرے کوئی نہ ستائے کسی کو کوئی ریاضؔ نہ ستم کا گلہ کرے کوئی

مزید پڑھیے

میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی

میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی میں بھی اچھا مری قسمت بھی نہایت اچھی آپ کی شکل بھلی آپ کی صورت اچھی آپ کے طور برے آپ سے نفرت اچھی حشر کے دن ہمیں سوجھی یہ شرارت اچھی لے چلے خلد میں ہم دیکھ کے صورت اچھی تجھ سے کہتا تھا کوئی یا تری تصویر سے آج آنکھیں اچھی تری آنکھوں کی مروت ...

مزید پڑھیے

ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریں

ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریں پائیں خدا سے ہم جو بتوں سے دغا کریں صیاد اڑا دیا مجھے سر سے اتار کر صدقے ترے ہما ترے سر پر اڑا کریں وہ دن خدا دکھائے کہ ہم بھی انہیں ستائیں یہ نازنیں حسین ہمارا گلا کریں آنکھوں میں اشک آئے تو ہنسنے کا لطف کیا اتنا نہ گد گداؤ کہ ہم رو دیا ...

مزید پڑھیے

صبح سے اور میاں شام سے کیا ملتا ہے

صبح سے اور میاں شام سے کیا ملتا ہے یہ ہے دنیا یہاں آرام سے کیا ملتا ہے تو کسی شہر کا مالک ہے تو ہوگا مری جان یہ بتا مجھ کو ترے نام سے کیا ملتا ہے جب غلط کام کرے گا تبھی شہرت ہوگی تیری بستی میں سہی کام سے کیا ملتا ہے ساتھ چل جام اٹھا منہ سے لگا پی تو سہی مجھ سے کیا پوچھتا ہے جام سے ...

مزید پڑھیے

نا معلوم سفر

گھر سے نکلا ہے ہر اک شخص کچھ امید لیے دل میں ارمان بھی ہیں راستے پر خار بھی ہیں کہیں ٹھوکر کہیں پتھر کہیں دیواریں بھی نہیں معلوم ہے منزل کا پتہ دنیا میں پر سفر زیست کا ہر حال میں طے کرنا ہے کوئی اس جد و جہد میں ہے کہ دولت مل جائے کوئی کہتا ہے مجھے میری محبت مل جائے کوئی چاہتا ہے ...

مزید پڑھیے

نا معلوم سفر

گھر سے نکلا ہے ہر اک شخص کچھ امید لیے دل میں ارمان بھی ہیں راستے پر خار بھی ہیں کہیں ٹھوکر کہیں پتھر کہیں دیواریں بھی نہیں معلوم ہے منزل کا پتا دنیا میں پر سفر زیست کا ہر حال میں طے کرنا ہے کوئی اس جد و جہد میں ہے کہ دولت مل جائے کوئی کہتا ہے مجھے میری محبت مل جائے کوئی چاہتا ہے ...

مزید پڑھیے

ستی

لوگ ہر صبح مجھے بتاتے ہیں میں بیوہ ہو چکی ہوں اور میں ہر شام دھان کے کھیت جیسی وہ ساڑی اوڑھ لیتی ہوں جس سے ابھرتے میرے سنہری بازوؤں کو وہ گندم کی بالیاں کہتا تھا تب محبت خوشبو بن کر دالان اور کمروں میں پھیل جاتی ہے اور پیانو کو ان دیکھی متحرک انگلیاں گدگداتی ہیں اور میں آتش دان کے ...

مزید پڑھیے

محبت کا مرقد

ایک روز سورج طلوع نہیں ہوگا کیونکہ میں مر چکی ہوں گی ایک روز رات سیاہ سیال بن کر میرے حلق سے اتر جائے گی کیونکہ میں مر چکی ہوں گی ایک روز شام دن اور رات کے درمیان ہجر بن کر ٹھہر جائے گی کیونکہ اس روز میں شام بن جاؤں گی ایک روز سارے زخمی خواب مل کر گنگنائیں‌ گے اور میں اس لوری سے سو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1527 سے 6203