قومی زبان

جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیں

جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیں وہ ایسے ہیں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں بڑے جنتی ہیں یہ مے خوار زاہد مئے تلخ کو انگبیں جانتے ہیں جوانی خود آتی ہے سو حسن لے کر جواں کوئی ہو ہم حسیں جانتے ہیں شب ماہ بنتی ہے ہر شب مرے گھر یہ سب بادہ وش مہ جبیں جانتے ہیں بناوٹ بھی اک فن ہے جو جانتا ہو تری ...

مزید پڑھیے

عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی

عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی سامنے کی چوٹ خالی جائے گی یہ قیامت بھی نکالی جائے گی اس گلی سے کھا کے گالی جائے گی کعبے میں بوتل کھلے موقع کہاں زمزمی سے آج ڈھالی جائے گی گل تو کیا ہیں تا قفس اے باد تند پتہ پتہ ڈالی ڈالی جائے گی بزم ساقی میں اگر لغزش ہوئی ہاتھ سے مے کی پیالی جائے ...

مزید پڑھیے

دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتے

دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتے ہم کو وہ بری راہ بھی چلنے نہیں دیتے آنکھیں ہمیں تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے ہم چٹکیوں سے دل کو مسلنے نہیں دیتے کہتے ہیں مئے ناب حسینوں کا ہے جوبن ہم بزم میں اپنی اسے ڈھلنے نہیں دیتے وہ کیا لحد غیر کو پامال کریں گے چلتے ہوئے فقرے بھی تو چلنے نہیں ...

مزید پڑھیے

آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا

آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا دیکھا کسے کہ شمع سے پروانہ ہو گیا گل کر کے شمع سوئے تھے ہم نامراد آج روشن کسی کے آنے سے کاشانہ ہو گیا دیوانہ قیس پہلے ہمیں چھیڑتا رہا پھر رفتہ رفتہ نجد میں یارانہ ہو گیا کافی نہ مہر خم کو ہوئے لک ہائے‌ ابر اب اس قدر وسیع یہ خم خانہ ہو گیا حاصل ...

مزید پڑھیے

آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کی

آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کی روشن ہے اب تو سینے میں بھٹی شراب کی اتنا عتاب سرخ ہے رنگت نقاب کی تار نقاب ہیں کہ نگاہیں عتاب کی دیکھے کوئی جھلک نہ رخ لا جواب کی ستر ہزار پردوں میں ٹھہری حجاب کی کیوں حشر میں ہو فکر عذاب و ثواب کی صحبت ہے یہ بھی ایک شراب و کباب کی کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف

روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف پیارا ہے دل تو ناز بھی دل کے اٹھائے زلف در گزرے دل کی یاد سے ہم جان تو بچی پیچھے پڑی ہے جان کے اب کیوں بلائے زلف وہ کیوں بتائے ہم کو دل گم شدہ کا حال پوچھیں جناب خضر تو رستہ بتائے زلف بکھرائے بال دیکھ لیا کس کو بام پر ہر وقت ہائے زلف ہے ہر لحظہ ...

مزید پڑھیے

مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے

مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے میرے ساقی تو رہے آباد مے خانہ رہے حشر بھی تو ہو چکا رخ سے نہیں مٹتی نقاب حد بھی آخر کچھ ہے کب تک کوئی دیوانہ رہے کچھ نہیں ہم دل جلوں کی بے قراری کچھ نہیں تیری محفل وہ ہے جس میں شمع پروانہ رہے گورے ہاتھوں میں بنے چوڑی خط ساغر کا عکس تیرے دست ناز ...

مزید پڑھیے

پی لی ہم نے شراب پی لی

پی لی ہم نے شراب پی لی تھی آگ مثال آب پی لی اچھی پی لی خراب پی لی جیسی پائی شراب پی لی عادت سی ہے نشہ نہ اب کیف پانی نہ پیا شراب پی لی چھوڑے کئی دن گزر گئے تھے آئی شب ماہتاب پی لی منہ چوم لے کوئی اس ادا پہ سرکا کے ذرا نقاب پی لی منظور تھی شستگی زباں کی تھوڑی سی شراب ناب پی ...

مزید پڑھیے

یہ ہماری زمیں وہ تمہاری زمیں

یہ ہماری زمیں وہ تمہاری زمیں سرحدیں کھا گئی ہیں یہ ساری زمیں تیری خاطر ہی کٹوائے سر بے شمار قیمت ایسی چکا دی ہے بھاری زمیں آنکھ اٹھی بھی نہ تھی تیری جانب ابھی ضرب سینوں پہ لگوا دی کاری زمیں غیر کوئی قدم رکھ نہ پائے یہاں ندیاں خون کی کر دیں جاری زمیں آسماں کا گماں سب کو ہونے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں مری ابر رواں اور طرح کے

آنکھوں میں مری ابر رواں اور طرح کے دل میں بھی کئی دشت تپاں اور طرح کے ہیں یاس ترے تیر و کماں اور طرح کے لفظوں کے سپر میرے یہاں اور طرح کے احباب سناتے ہیں کوئی اور کہانی ہیں میرے حریفوں کے بیاں اور طرح کے اجداد وراثت میں گھٹن چھوڑ گئے ہیں تعمیر کریں اب کے مکاں اور طرح کے یہ بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1526 سے 6203