قومی زبان

کس لیے پھرتا ہوں تنہا نہ کسی نے پوچھا

کس لیے پھرتا ہوں تنہا نہ کسی نے پوچھا کیوں کہیں جی نہیں لگتا نہ کسی نے پوچھا ذہن آوارہ دل آوارہ نظر آوارہ کیسے اس حال کو پہنچا نہ کسی نے پوچھا کون ہے آیا ہے کس دیس سے کس سے ملنے سب نے دیکھا مگر اتنا نہ کسی نے پوچھا جانے کیا کہتے اگر پوچھتا احوال کوئی خیر یہ بھی ہوا اچھا نہ کسی نے ...

مزید پڑھیے

اس شعلہ خو کی طرح بگڑتا نہیں کوئی

اس شعلہ خو کی طرح بگڑتا نہیں کوئی تیزی سے اتنی آگ پکڑتا نہیں کوئی وہ چہرہ تو چمن ہے مگر سانحہ یہ ہے اس شاخ لب سے پھول ہی جھڑتا نہیں کوئی خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی لوگوں کا کیا ہے آج ملے کل بچھڑ گئے غم دو گھڑی بھی مجھ سے بچھڑتا نہیں ...

مزید پڑھیے

میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے

میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے سچ یہ بھی ہے اس کی مجھے عادت بھی بہت ہے ملتا ہے اگر خواب میں ملتا تو ہے کوئی اس کی یہ عنایت یہ مروت بھی بہت ہے اس نے مجھے سمجھا تھا کبھی پیار کے قابل خوش رہنا ہو تو اتنی مسرت بھی بہت ہے الفت کا نبھانا تو بڑی بات ہے لیکن اس دور میں اظہار محبت بھی ...

مزید پڑھیے

یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے

یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے ہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے ہنگامے بپا کرتی ہے ہر آن تری یاد پر شور دل و جاں کا نگر یوں ہی نہیں ہے تاریخ سنا سکتی ہے صدیوں کے سفر کی یہ گرد سر راہ گزر یوں ہی نہیں ہے ابھرے گا یقیناً کوئی دم میں کوئی سورج بیتابیٔ ارباب نظر یوں ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں

پھر کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں کوئی ان کی طرح ملا ہی نہیں ہو چکی پتھروں کی بارش تک زخم احساس جاگتا ہی نہیں سر سے پانی گزر چکا ہے مگر دل کسی طور ڈوبتا ہی نہیں طے ہوئے مرحلے کئی لیکن فاصلہ تو کوئی مٹا ہی نہیں ان کو کیا کیا گلے رہے ہم سے ہم کو جن سے کوئی گلہ ہی نہیں آس نے آ کے دم کہاں ...

مزید پڑھیے

ظالم پہ عذاب ہو گیا ہوں

ظالم پہ عذاب ہو گیا ہوں میں روز حساب ہو گیا ہوں ہر لفظ مرا ہے ایک گھاؤ زخموں کی کتاب ہو گیا ہوں میں خود میں سمٹ کے تھا سمندر پھیلا تو حباب ہو گیا ہوں خود اپنی تلاش کر رہا تھا دیکھا تو سراب ہو گیا ہوں یوں اٹھ گیا اعتبار ہستی میں خود کوئی خواب ہو گیا ہوں مٹی ہوئی یوں خراب ...

مزید پڑھیے

یاد آتے ہو کس سلیقے سے

یاد آتے ہو کس سلیقے سے جیسے بارش ہو وقفے وقفے سے یاد کوئی رہی ہو وابستہ جیسے ہر رت کے خاص لمحے سے جیسے یہ بھی ہو حسن کا انداز بات کرنا مگر تقاضے سے موسم گل کو کوئی بتلا دو دل بھی کھلتا ہے پھول کھلنے سے رات کا اپنا حسن ہوتا ہے رات کو دیکھ دن کے شیشے سے میرے سینے میں رکھ گیا ہر ...

مزید پڑھیے

یوں آج اپنے آپ سے الجھا ہوا ہوں میں

یوں آج اپنے آپ سے الجھا ہوا ہوں میں جیسے کہ خود نہیں ہوں کوئی دوسرا ہوں میں ذہن اور دل میں چھیڑ گیا کوئی سرد جنگ اک سیل کشمکش کے مقابل کھڑا ہوں میں آ جائے سامنے کوئی معیار تو ترا یہ سوچ کر نگاہ سے اکثر گرا ہوں میں خود کو تو کھو کے تجھ کو نہیں پا سکا مگر کھویا تجھے تو جانے کسے پا ...

مزید پڑھیے

اپنی مرضی ہی کرو گے تم بھی

اپنی مرضی ہی کرو گے تم بھی کچھ کسی کی نہ سنو گے تم بھی وقت سے بچ نہ سکو گے تم بھی جو کرو گے وہ بھرو گے تم بھی ایک آواز سنی ہے ہم نے ایک آواز سنو گے تم بھی آج آندھی ہو تو مٹی کی طرح ایک دن بیٹھ رہو گے تم بھی آج سرکار بنے بیٹھے ہو کل کو فریاد کرو گے تم بھی یہی ہوتا ہے یہی ہونا ہے ایک ...

مزید پڑھیے

معجزہ کوئی دکھاؤں بھی تو کیا

معجزہ کوئی دکھاؤں بھی تو کیا چاند میں شہر بساؤں بھی تو کیا یاد آتا ہے برابر کوئی میں اسے یاد نہ آؤں بھی تو کیا ربط پہلے ہی نہیں کم اس سے رابطہ اور بڑھاؤں بھی تو کیا وہ نہ بدلے گا رویہ اپنا میں اگر بات نبھاؤں بھی تو کیا جانے مجبور ہے کتنا وہ بھی کچھ اسے یاد دلاؤں بھی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1510 سے 6203