قومی زبان

بنائے کتنے فسانے مرے فسانے سے

بنائے کتنے فسانے مرے فسانے سے دعائیں دوں کہ شکایت کروں زمانے سے یہ آنسوؤں میں سلگتی ہوئی تمنائیں دھواں ملا ہے محبت میں دل جلانے سے مرے سوا نہ ملا کوئی ان کا دیوانہ بھرم یہ ٹوٹ گیا ان کو آزمانے سے مجھے خوشی ہے کسی کو تو مل گئی منزل کوئی تو پار ہوا میرے ڈوب جانے سے یہ حال کیسا ...

مزید پڑھیے

اور ابھی تیز دوڑنا ہے مجھے

اور ابھی تیز دوڑنا ہے مجھے زندگی دور کی صدا ہے مجھے ہوں مسلسل سفر میں مثل ہوا خود سری میری رہنما ہے مجھے جانے اس کی جدائی کیا ہوگی جس کا ملنا ہی حادثہ ہے مجھے وہ بھی یاد آئے گا خدا کے ساتھ وہ بھی ممنون کر گیا ہے مجھے ہو چکا ختم دور خوابوں کا اب حقائق کا سامنا ہے مجھے وہ کہ جابر ...

مزید پڑھیے

منہ زور آرزوؤں کی بے مہریاں نہ پوچھ

منہ زور آرزوؤں کی بے مہریاں نہ پوچھ بیگانہ ہو رہی ہیں یہ لا کر کہاں نہ پوچھ فہرست محسنوں کی نہایت طویل ہے مجھ سے مری تباہیوں کی داستاں نہ پوچھ مجھ کو پناہ دی نہ ترے غم نے بھی کبھی میں دے رہا ہوں کتنے غموں کو اماں نہ پوچھ ہر زخم چند زخموں کی کرتا ہے پرورش کیسے سدا بہار ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کسی بھی کام کا میرا ہنر نہیں نہ سہی

کسی بھی کام کا میرا ہنر نہیں نہ سہی ہوائے دہر موافق اگر نہیں نہ سہی کنواں ہے اور سبھی ناقدان شعر و ادب مرے کلام پہ ان کی نظر نہیں نہ سہی یہ تیری بزم ہے یاں تیرا سکہ چلتا ہے کوئی بھی بات مری معتبر نہیں نہ سہی یہی بہت ہے کہ کچھ لوگ سوچنے تو لگے کوئی بھی میرا اگر ہم نظر نہیں نہ ...

مزید پڑھیے

چین گھر میں نہ کبھی تیرے نگر میں پاؤں

چین گھر میں نہ کبھی تیرے نگر میں پاؤں خود کو ہر لمحہ میں اک لمبے سفر میں پاؤں کوئی آواز نہ سایہ نہ ہوا میں ہلچل معترض سوچ میں کیا بیٹھ کے گھر میں پاؤں تو کبھی پھول کبھی چاندنی تھا میرے لیے اب تجھے پیرہن برق و شرر میں پاؤں میں کہیں جسم کہیں اور مری روح کہیں خود کو بکھرا ہوا ہر ...

مزید پڑھیے

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا فیصلہ اپنا ہمیں آپ ہی کرنا ہوگا زخم احساس کبھی چین نہ لینے دے گا سر میدان تمنا ہمیں مرنا ہوگا تجھے چھو کر بھی تجھے پا نہ سکیں گے تو ہمیں صورت درد ترے دل میں اترنا ہوگا جانے لے آئی کہاں تیزئ رفتار ہمیں کہ ٹھہر جائیں تو صدیوں کا ٹھہرنا ہوگا عصر ...

مزید پڑھیے

اب تو یوں لب پہ مرے حرف صداقت آئے

اب تو یوں لب پہ مرے حرف صداقت آئے ناگہاں شہر پہ جیسے کوئی آفت آئے مصلحت ہو گئی ممنوعہ شجر کی صورت لاکھ روکوں مگر اس پر ہی طبیعت آئے دخل خوشیوں کا مری زیست میں کیسے ہو کہ جب تیرا غم بھی غم دوراں کی بدولت آئے جس پہ میں چھاپ سکوں سکۂ خود مختاری زندگی میں کوئی ایسی بھی تو ساعت ...

مزید پڑھیے

ہزار رنگ جلال و جمال کے دیکھے

ہزار رنگ جلال و جمال کے دیکھے وہ معرکے ترے حسن خیال کے دیکھے سمجھ میں آنے لگا مقصد حیات و ممات وہ زاویے ترے ہجر و وصال کے دیکھے ہر ایک غم ہے تر و تازہ پہلے دن کی طرح امانتیں کوئی یوں بھی سنبھال کے دیکھے فضا نہ بجھنے لگے اس خیال سے اکثر دل و نگاہ کے رستے اجال کے دیکھے نگر بھی اور ...

مزید پڑھیے

تجھ پہ ہر حال میں مرنا چاہوں

تجھ پہ ہر حال میں مرنا چاہوں میں تو یہ کام ہی کرنا چاہوں حاصل زیست ہے جرم الفت مر کے بھی میں نہ مکرنا چاہوں اپنے اسلوب میں چاہوں جینا اپنے انداز میں مرنا چاہوں متوجہ کرے کوئی تو اسے مثل گل میں بھی نکھرنا چاہوں کتنا محدود ہوا جاتا ہوں میں کہ ہر حد سے گزرنا چاہوں ایک جگنو ہوں ...

مزید پڑھیے

آب رواں ہوں راستہ کیوں نہ ڈھونڈ لوں

آب رواں ہوں راستہ کیوں نہ ڈھونڈ لوں میں تیرے انتظار میں کب تک رکا رہوں تاریکیاں محیط ہیں ہر انجمن پہ آج لازم نہیں کہ میں تری محفل میں ہی جلوں گھبرا رہا ہے جی مرا تن کے مکان میں مجبوریوں کے سائے میں کب تک پڑا رہوں نکلا ہوں تیری بزم سے مانند دود شمع چاہوں بھی اب کبھی تو میں واپس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1509 سے 6203