قومی زبان

تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میں

تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میں اے زمیں آسماں نہیں ہوں میں کارواں میرے بعد آئے گا گرد ہوں کارواں نہیں ہوں میں پھیل سکتا ہوں چھا نہیں سکتا روشنی ہوں دھواں نہیں ہوں میں ناز ہے مجھ پہ میرے صانع کو زحمت رائیگاں نہیں ہوں میں جزو ہوں ایک جاوداں کل کا ہاں اگر جاوداں نہیں ہوں میں اپنی ...

مزید پڑھیے

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز رستہ ملا دشوار تو میں اور چلا تیز ہاتھوں کو ڈبو آئے ہو تم کس کے لہو میں پہلے تو کبھی اتنا نہ تھا رنگ حنا تیز مجھ کو یہ ندامت ہے کہ میں سخت گلو تھا تجھ سے یہ شکایت ہے کہ خنجر نہ کیا تیز چل میں تجھے رفتار کا انداز سکھا دوں ہمراہ مرے سست قدم مجھ سے ...

مزید پڑھیے

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے صبح تک ختم ہو ہی جائے گا زندگی رات بھر کا قصہ ہے دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے کوئی تلوار کیا بتائے گی دوش کا اور سر کا قصہ ہے ہوش آ جائے تو سناؤں گا چشم دیوانہ گر کا قصہ ہے چلتے رہنا تو کوئی بات نہ ...

مزید پڑھیے

پوری مرے جنوں کی ضرورت نہ کر سکے

پوری مرے جنوں کی ضرورت نہ کر سکے صحرائے جاں بھی ہو تو کفالت نہ کر سکے سعی و عمل کی روح محبت کے ساتھ تھی وہ کچھ نہ کر سکے جو محبت نہ کر سکے دنیا میں جتنے غم ملے دل میں بسا لیے ہم صرف تیرے غم پہ قناعت نہ کر سکے اپنا ہی حال زار سناتے رہے تجھے لیکن ترے ستم کی شکایت نہ کر سکے تاراج کر ...

مزید پڑھیے

اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کم

اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کم اور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کم سہ سکے درد محبت کم سے کم دل میں اتنی تو ہو طاقت کم سے کم اس کی یادوں سے کہاں ہے دشمنی شمع جلتی شام فرقت کم سے کم اس کے ملنے سے نہ ہوتی روشنی گھٹ تو جاتی غم کی ظلمت کم سے کم دیکھنے سے ان کے یہ حاصل ہوا ہو گئی اپنی زیارت کم ...

مزید پڑھیے

جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیں

جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیں جو سوچیے کہ خفا ہیں تو وہ خفا بھی نہیں وہ اور ہوں گے جنہیں مقدرت ہے نالوں کی ہمیں تو حوصلۂ آہ نارسا بھی نہیں حد طلب سے ہے آگے جنوں کا استغنا لبوں پہ آپ سے ملنے کی اب دعا بھی نہیں حصول ہو ہمیں کیا مدعا محبت میں ابھی سلیقۂ اظہار مدعا بھی ...

مزید پڑھیے

آئینہ بن جائیے جلوہ اثر ہو جائیے

آئینہ بن جائیے جلوہ اثر ہو جائیے سامنے وہ ہوں تو سر تا پا نظر ہو جائیے سوز دل سے گوشۂ تنہائی میں کیا فائدہ اس طرح جلیے چراغ رہ گزر ہو جائیے اس اداسی کا دھندلکا ختم ہو شاید کبھی شام سے پہلے ہی عنوان سحر ہو جائیے منزل الفت پہ دل تنہا پہنچ سکتا نہیں آپ اگر چاہیں تو میرے ہم سفر ہو ...

مزید پڑھیے

تم نے رسم جفا اٹھا دی ہے

تم نے رسم جفا اٹھا دی ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی ہے شمع امید کیوں جلا دی ہے عشق تاریکیوں کا عادی ہے آپ نے خود مجھے صدا دی ہے یا مری قوت ارادی ہے ہم تو مدت کے مر گئے ہوتے موت نے زندگی بڑھا دی ہے اب دعا پر بھی اعتماد نہیں نا مرادی سی نا مرادی ہے تجھ سا بیداد گر کہاں ہوگا لب ہر زخم نے ...

مزید پڑھیے

اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک

اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تک مقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تک تڑپنے پر ہمارے آپ روکیں گے ہنسی کب تک یہ ماتھے کی شکن کب تک یہ ابرو کی کجی کب تک کرن پھوٹی افق پر آفتاب صبح محشر کی سنائے جاؤ اپنی داستان زندگی کب تک دیار عشق میں اک قلب سوزاں چھوڑ آئے تھے جلائی تھی جو ہم ...

مزید پڑھیے

اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہے

اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہے آنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہے ہر نفس زیست گزر جانے کا غم طاری ہے موت کا خوف بھی اک روح کی بیماری ہے باوجودیکہ محبت کوئی زنجیر نہیں پھر بھی دل کو مرے احساس گرفتاری ہے کچھ اس انداز سے اس نے غم فرقت بخشا جیسے یہ بھی کوئی انعام وفاداری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1491 سے 6203