قومی زبان

وہ دھوپ وہ گلیاں وہی الجھن نظر آئے

وہ دھوپ وہ گلیاں وہی الجھن نظر آئے اس شہر سے اس شہر کا آنگن نظر آئے اس غم کے اجالے میں جو اک شخص کھڑا ہے وہ دور سے مجھ کو مرا ساجن نظر آئے اک ہجر کے شعلے میں کئی بار جلے ہم اس آس میں شاید کہ نیا پن نظر آئے یہ رات گئے کون ہے اس پیڑ کے نیچے اک دیپ سا ہر شاخ پہ روشن نظر آئے وہ بات کہو ...

مزید پڑھیے

کھیل رچایا اس نے سارا ورنہ پھر کیوں ہوتا میں

کھیل رچایا اس نے سارا ورنہ پھر کیوں ہوتا میں اس نے ہی یہ بھیڑ لگائی بنا ہوں صرف تماشا میں اس نے اپنے دم کو پھونکا اور مجھے بیدار کیا میں پانی تھا میں ذرہ تھا لمبی نیند سے جاگا میں اس نے پہلے روپ دیا پھر رنگ دیا پھر اذن دیا بحر و بر میں برگ و ثمر میں نئے سفر پر نکلا میں آئینے کی ...

مزید پڑھیے

وہ رت جگوں کا بھی مجھ سے حساب مانگتا ہے

وہ رت جگوں کا بھی مجھ سے حساب مانگتا ہے وہ اپنا کھویا ہوا کیوں شباب مانگتا ہے عجیب شخص ملا ہے رہ محبت میں جو بات بات کا مجھ سے جواب مانگتا ہے بہت ہی شوخ ہے وہ مجھ سے شام ہوتے ہی خود اپنی آنکھوں کی مجھ سے شراب مانگتا ہے وہ چاہتا ہے مجھے ٹوٹ کر سمجھتی ہوں مگر وہ کیوں مرا مجھ سے ...

مزید پڑھیے

ادھار کے آنسو

میں نے اپنے آنسو بانٹ دئے ہیں بادلوں کو اور یہ اب برستے ہیں تو میرے آنسوؤں کو لے کر بہت منت کی تھی اس نے میری میں بھی اپنی آنکھوں کے تمام آنسوؤں کو اس کی جھولی میں ڈال کر مطمئن ہو گئی تھی اور میری آنکھیں وہ بھی خشک ہو گئیں یہ اب کبھی نہیں برستیں کسی کی خاطر لیکن بادل برستے ہیں میرے ...

مزید پڑھیے

آوارگی

عجیب بات تھی میرے مزاج میں بھاگتی رہی میں جانے کس کی تلاش میں بے ارادہ بے وجہ ادھر ادھر ڈگر ڈگر دریا دریا کو بہ کو سراسیمگی کے عالم میں عجب دیوانگی میں عجب حیرانگی لئے جنوں کی حد کو پار کر کے ہر کسی پر وار کر کے پہنچ گئی وہاں پر میں جس کے آگے کوئی رہ گزر نہ تھی

مزید پڑھیے

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا تمام تعبیر اس کو دینا اور اپنے حصے میں خواب رکھنا ہر اک زمیں سے ہر آسماں سے ہر اک زماں سے گزرتے رہنا کہیں پہ تارے بکھیر دینا کہیں کوئی ماہتاب رکھنا جو بے گھری کے دکھوں سے تم بھی اداس ہو جاؤ ہار جاؤ تو آنسوؤں سے مکاں بنانا اور اس ...

مزید پڑھیے

یہ مہر و مہ بے چراغ ایسے کہ راکھ بن کر بکھر رہے ہیں

یہ مہر و مہ بے چراغ ایسے کہ راکھ بن کر بکھر رہے ہیں ہم اپنی جاں کا دیا بجھائے کسی گلی سے گزر رہے ہیں یہ دکھ جو مطلوب کا ملا ہے فشار اپنی ہی ذات کا ہے کہ ہم خود اپنی تلاش میں ہیں اور اپنے صدموں سے مر رہے ہیں وجود کیوں ہے شہود کیوں ہے ثبات کیا ہے نجات کیا ہے انہی سوالوں کی آگ لے کر ہم ...

مزید پڑھیے

پلکوں پر نم کیا پھیل گیا

پلکوں پر نم کیا پھیل گیا ہر سمت دھواں سا پھیل گیا مری ریکھا پوش ہتھیلی پر اک شام کا سایا پھیل گیا جو حرف چھپایا لوگوں سے وہ چہرہ بہ چہرہ پھیل گیا ترا نام لیا تو صحرا میں اک سایہ اترا پھیل گیا اب میرے اور خدا کے بیچ اک ہجر کا لمحہ پھیل گیا جب نئے سفر پر نکلا میں رستوں پر صدمہ ...

مزید پڑھیے

اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا

اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا وہاں رک جانا وہاں رہ جانا وہاں سکھ کا اجالا آئے گا یہ سوچ کے اٹھنا ہر دن تم اس دل کا پھول کھلے گا ضرور اس آس پہ سونا اب کی شب کوئی خواب نرالا آئے گا جب اس کے ہاتھ نیا ماضی اس صفحۂ ارض پہ لکھیں گے جب سحر و شام رقم ہوں گے تب میرا حوالہ آئے ...

مزید پڑھیے

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے دکھ سے دل آباد ہمیشہ رہتا ہے پاس رہیں یا دور مگر ان آنکھوں میں موسم ابر و باد ہمیشہ رہتا ہے قید کی خواہش اس کا دکھ بن جاتی ہے جو پنچھی آزاد ہمیشہ رہتا ہے ایک گل بے مہر کھلانے کی خاطر قریۂ دل برباد ہمیشہ رہتا ہے اس کے لیے میں کیا کیا سوانگ رچاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1458 سے 6203