جو نقش تھے پامال بنائے میں نے
جو نقش تھے پامال بنائے میں نے پھر الجھے ہوئے بال بنائے میں نے تخلیق کے کرب کی جو کھینچی تصویر پھر اپنے خد و خال بنائے میں نے
جو نقش تھے پامال بنائے میں نے پھر الجھے ہوئے بال بنائے میں نے تخلیق کے کرب کی جو کھینچی تصویر پھر اپنے خد و خال بنائے میں نے
محراب کی پرچھائیاں تڑپاتی ہیں گنبد کی یہ گولائیاں چھا جاتی ہیں آتی ہیں ترے جسم کی دل میں یادیں یہ کیسی عمارات نظر آتی ہیں
میری فریاد کے شعلوں کو عنایت سمجھو میرے ہر زخم کو الفت کی روایت سمجھو ایک مجبور تمنا کی گراں بار تھکن میں نے کب تم سے کہا یہ اسے الفت سمجھو لذت غم میں نہیں خون تمنا کا علاج مری ہر ٹیس کو خاموش بغاوت سمجھو یہ گراں باریٔ احساس مری مشعل ہے میری فریاد کو تم ایک ہدایت سمجھو ایک ...
در پہ کس کے صدا کرے کوئی روشنی لے کے کیا کرے کوئی حسرتوں کا کفن بھی بھاری ہے کس کی حاجت روا کرے کوئی جب دواؤں میں مرض پلتے ہیں مرض کیسے جدا کرے کوئی جن سے آتی ہے بو غلامی کی ان کتابوں کو کیا کرے کوئی قید ہیں راکھ میں جو انگارے ان کو چھیڑے رہا کرے کوئی
جراحتوں کی ملاحتوں سے متاع دل خوب رو کریں گے ہم اپنے دامن کی دھجیوں سے ہزار داماں رفو کریں گے شعاع برق و شرار لے کر جمال رنگ بہار لے کر نگار فردا کو حسن دیں گے بشر کو ہم سرخ رو کریں گے ہمارا غم ہے وہ بار ہستی جسے ملائک اٹھا نہ پائیں جہاں پہ چھلکے ہمارے ساغر فرشتے اس جا وضو کریں ...
کل جو پیچھے چھوٹ گیا سپنے میرے لوٹ گیا آنکھ سے کوئی آنسو ٹپکا یا کوئی چھالا پھوٹ گیا ہونٹ تک اپنے آتے آتے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ گیا جس سے دل کی آس لگی تھی وہ تارا بھی ٹوٹ گیا چارہ گری بھی کام نہ آئی زخم پہ نشتر ٹوٹ گیا
تن کے لئے احکام دقیقہ بھی سناؤ غسل مخصوص کا سلیقہ بھی سکھاؤ نظریں برا کام کر کے طاہر ہوں، مجھے اے اہل شریعت وہ طریقہ بھی بتاؤ
بچپن میں تجھے یاد کیا تھا میں نے جب شعر کا کب لفظ سنا تھا میں نے اس پر نہیں موقوف رباعی تجھ کو ہر روز ہی تختی پہ لکھا تھا میں نے
اک شور سمیٹو جیون بھر اور چپ دریا میں اتر جاؤ دنیا نے تم کو تنہا کیا تم اس کو تنہا کر جاؤ اس ہجر و وصال کے بیچ کہیں اک لمحے کو جی چاہتا ہے بس ابر و ہوا کے ساتھ پھرو اور جسم و جاں سے گزر جاؤ تم ریزہ ریزہ ہو کر بھی جو خود کو سمیٹے پھرتے ہو سو اب کے ہوا پژمردہ ہے اس بار ذرا سا بکھر ...
راہ میں شہر طرب یاد آیا جو بھلایا تھا وہ سب یاد آیا جانے اب صبح کا عالم کیا ہو آج وہ آخر شب یاد آیا ہم پہ گزرا ہے وہ لمحہ اک دن کچھ نہیں یاد تھا رب یاد آیا جب نہیں عمر تو وہ پھول کھلا کب کا بچھڑا ہوا کب یاد آیا رقص کرنے لگی تاروں بھری شب تو بھی اس رات عجب یاد آیا کتنا اقرار چھپا ...