قومی زبان

یوں لگے درد کی اس دل سے شناسائی ہے

یوں لگے درد کی اس دل سے شناسائی ہے موسم غم کی تبھی تو یہ لہر آئی ہے توڑ کر رشتہ یوں الزام لگانے والے بے وفا میں ہوں اگر تو بھی تو ہرجائی ہے چاند نکلا نہیں تو بھی نہیں دکھتا اب تو رات ہے میں ہوں اندھیرا ہے یے تنہائی ہے راز تیرے جو چھپاؤں تو یہ دم گھٹتا ہے بات کہہ دوں جو زمانے سے تو ...

مزید پڑھیے

سیاست

ہے کوئی تو بات جو وہ آواز دبانے پہ آمادہ ہے لگا لے جتنا دم ہو اپنا بھی مضبوط ارادہ ہے کفایتی تعلیم و علاج کی حق دار ہے عوام رقم وہاں سے نکالے جن کے پاس ضرورت سے زیادہ ہے آگے چل کر یہی پڑھنے والے لوگ دیش کو آگے لے جائیں گے یہ کیا تہذیب کہ ضرورت مند کو کہتے ہو حرام زادہ ہے کرسی پہ بیٹھ ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

پتیاں کتنی بھی آئیں جائیں سوتنترتا دیوس کی ہاردک شبھ کامنائیں دیش کا کوئی بھی گلی کوچہ رہے ترنگا ہمیشہ سب سے اونچا رہے ترنگے میں کیسریا سفید ہرا رنگ ہیں ترنگے کے رنگ ہمارے دیش کے انگ ہیں کیسریا سوریہ ہرا وکاس کا پرتیک سفید شانتی اور دھرم نربھیک تینوں سے مل کر ترنگا بنتا ...

مزید پڑھیے

کتنی دل کش حیات ہوتی ہے

کتنی دل کش حیات ہوتی ہے جب کہیں دل کی بات ہوتی ہے غم کی تاریکیوں میں روشن تر ان کے وعدے کی رات ہوتی ہے کس نے اپنا مآل دیکھا ہے زندگی بے ثبات ہوتی ہے جو انا کے اسیر ہوتے ہیں ان کا محور تو ذات ہوتی ہے وسعت قلب کی بساط نہ پوچھ اس میں اک کائنات ہوتی ہے لمحہ لمحہ سکوں نہیں ہوتا جب ...

مزید پڑھیے

ہجرتوں کی گود میں پلتے رہے

ہجرتوں کی گود میں پلتے رہے تھے وفاؤں کے دیے جلتے رہے داغ ہجرت سے ملی تسکین جاں حسرتوں میں لوگ کچھ جلتے رہے جن کو دعویٰ تھا رہیں گے ساتھ ساتھ وقت رخصت ہاتھ ہی ملتے رہے موجزن گم گشتہ منزل کی لگن کارواں در کارواں چلتے رہے اک ضیا پاشی محیط بزم تھی داغہائے دل جہاں جلتے رہے اقتدار ...

مزید پڑھیے

تجھے قسم ہے مرا اعتبار رہنے دے

تجھے قسم ہے مرا اعتبار رہنے دے وفا کے نام سے کچھ اختیار رہنے دے مقام و جبہ و دستار کی نہیں خواہش نثار جاں ہو یہ دل خاکسار رہنے دے نہ جانے کون سی منزل پہ دم نکل جائے دل حزیں پہ محبت کا بار رہنے دے وفا کے نام کو رسوا نہ کر سکے کوئی سرور و لذت غم ہم کنار رہنے دے یہ شوخیاں یہ تفاخر ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے بھی نہیں ہیں کہیں چلتے بھی نہیں ہیں

ٹھہرے بھی نہیں ہیں کہیں چلتے بھی نہیں ہیں ہم جسم کی سرحد سے نکلتے بھی نہیں ہیں خود سے ملیں گے سوچ کے گھر سے ہیں نکلتے لیکن کمال یہ ہے کہ ملتے بھی نہیں ہیں پلکوں کے کناروں پہ ہیں بے چین سے آنسو گرتے بھی نہیں اور سنبھلتے بھی نہیں ہیں آنکھوں کی یہ سازش ہے یا نیندوں کی بغاوت بچوں کی ...

مزید پڑھیے

ڈھل چکے سورج کے احساسات کی

ڈھل چکے سورج کے احساسات کی ہے بہت الجھی کہانی رات کی سب بکھر جائیں گے موتی فرش پر کھول دوں گر پوٹلی جذبات کی رکھ دی ہے عزت جنھوں نے تاک پہ بات کرتے ہیں وہی اوقات کی اپنی محنت پر بھروسہ ہے ہمیں ہے نہیں خواہش کسی خیرات کی ہو گیا عادی سچنؔ دل درد کا آنکھ عادی ہو گئی برسات کی

مزید پڑھیے

اک چہرہ پر روز گزارہ ہوتا ہے

اک چہرہ پر روز گزارہ ہوتا ہے پیار کسی کو کب دوبارہ ہوتا ہے میں تم پر ہر بار بھروسہ کرتا ہوں اتنا سچا جھوٹھ تمہارا ہوتا ہے تم میرے اس دل کو پاگل مت کہنا اپنا بچہ سب کو پیارا ہوتا ہے تم جاؤ پر یادوں کو تو رہنے دو یادوں کا بھی ایک سہارا ہوتا ہے اس پنچھی کا حال سچنؔ کس نے سمجھا جو ...

مزید پڑھیے

کتنی دل کش حیات ہوتی ہے

کتنی دل کش حیات ہوتی ہے جب کہیں دل کی بات ہوتی ہے غم کی تاریکیوں میں روشن تر ان کے وعدے کی رات ہوتی ہے کس نے اپنا مآل دیکھا ہے زندگی بے ثبات ہوتی ہے جو انا کے اسیر ہوتے ہیں ان کا محور تو ذات ہوتی ہے وسعت قلب کی بساط نہ پوچھ اس میں اک کائنات ہوتی ہے لمحہ لمحہ سکوں نہیں ہوتا جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1450 سے 6203