یہ انتہائے جنوں ہے کہ غیر ہی سا لگا
یہ انتہائے جنوں ہے کہ غیر ہی سا لگا جو آشنا تھا کبھی آج اجنبی سا لگا وہ ایک سایہ جو بے حس تھا مردہ کی مانند قریب آیا تو اک عکس زندگی سا لگا خود اپنی لاش لیے پھر رہا تھا کاندھوں پر وہ آدمی تو نہ تھا پھر بھی آدمی سا لگا وہ اک وجود جو پالے ہوئے تھا سانپوں کو نظر کی زد میں جو آیا تو ...