قومی زبان

یہ انتہائے جنوں ہے کہ غیر ہی سا لگا

یہ انتہائے جنوں ہے کہ غیر ہی سا لگا جو آشنا تھا کبھی آج اجنبی سا لگا وہ ایک سایہ جو بے حس تھا مردہ کی مانند قریب آیا تو اک عکس زندگی سا لگا خود اپنی لاش لیے پھر رہا تھا کاندھوں پر وہ آدمی تو نہ تھا پھر بھی آدمی سا لگا وہ اک وجود جو پالے ہوئے تھا سانپوں کو نظر کی زد میں جو آیا تو ...

مزید پڑھیے

یہ کیا ہوا کہ ہر اک رسم و راہ توڑ گئے

یہ کیا ہوا کہ ہر اک رسم و راہ توڑ گئے جو میرے ساتھ چلے تھے وہ ساتھ چھوڑ گئے وہ آئنہ جنہیں ہم سب عزیز رکھتے تھے وہ پھینکے وقت نے پتھر کہ توڑ پھوڑ گئے ہمارے بھیگے ہوئے دامنوں کی شان تو دیکھ فلک سے آئے ملک اور گنہ نچوڑ گئے بپھرتی موجوں کو کشتی نے روند ڈالا ہے خوشا وہ عزم کہ طوفاں کا ...

مزید پڑھیے

ایک اک لمحہ مجھے زیست سے بے زاری ہے

ایک اک لمحہ مجھے زیست سے بے زاری ہے میری ہر سانس سلگتی ہوئی چنگاری ہے کیا ہی اوراق مصور ہیں کتاب دل کے خون ارماں سے ہر اک صفحے پہ گل کاری ہے زخم ہی زخم ہیں آنکھوں سے لگا کر دل تک سوچ میں ہوں کہ یہ کس قسم کی دل داری ہے یہ سمٹتے ہوئے سائے یہ لرزتے در و بام اک نئی صبح کے اعلان کی ...

مزید پڑھیے

صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں

صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں ورنہ چاہنے والے سر اٹھا کے چلتے ہیں کیا گنہ ہوا ان سے کیوں تری گلی کے لوگ اپنے گھر کے اندر بھی منہ چھپا کے چلتے ہیں ہاں خدا بھی ہو شاید کوئی اپنی بستی کا حکم اس جگہ سارے ناخدا کے چلتے ہیں زخم بھی نہیں لگتے خون بھی نہیں بہتا تیر اس کی محفل ...

مزید پڑھیے

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی ہر صبح سلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا اپنا تو نہیں تھا میں کبھی اور غموں نے مارا مجھے ایسا رہا تیرا نہ خدا کا پھیلے ہوئے ہر سمت جہاں حرص و ہوس ہوں پھولے گا پھلے گا وہاں کیا پیڑ وفا ...

مزید پڑھیے

عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں

عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں آسماں بانی بھی ہے اب حلقۂ امکان میں عقل و دل کا سامنا تھا دیدۂ حیران میں میں کھڑا ساحل پہ تھا وہ حلقۂ؎ طوفان میں خلد سے دنیا میں آتے دم کہاں معلوم تھا رنج و غم سو باندھ رکھے ہیں مرے سامان میں دھند چھٹ جائے گی واعظ چار دن میں دیکھنا ڈوب جائیں ...

مزید پڑھیے

روشنی کا سراغ

ہمارے ذہنوں پہ کتنی صدیوں کے مہیب اندھیرے کی حکمرانی میں ایک مہر لا زوال چمکا تاریک راہوں کو روشنی کا سراغ ملا نگاہ و دل کو نئی منزلوں نئی رفعتوں نئی عظمتوں کا پتہ بتا کر عمل کی اک شمع نو جلا کر جس نے ہمارے وجدان و ادراک کو جھنجھوڑا غنودگی کے شکار احساس کو جگایا شعور کی بے حسی ...

مزید پڑھیے

لمحوں کا کرب

دل افسردہ کی آرزوؤں کے رمیدہ لمحو تمہاری بے کیفی کے قافلے رفتہ رفتہ حریم جاں سے گزر رہے ہیں اور تمہیں پتہ ہے کہ آسماں کی بلندیوں پہ پہنچ کے انسان مردہ ہو چکا ہے تو پھر کشید جاں سے نکال کر کوئی حسین منظر قطرہ قطرہ حیات کی تشنگی کے اس کاسۂ تہی میں ڈالو تاکہ ثبات کی خاطر بھٹکے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جسم کی تلاش

جسم بھی ٹوٹ چکا کون اسے پہچانے روح میری مجھے آواز نہ دے پائی کبھی راستے بھی مری پرچھائیں سے آگے نہ بڑھے اور احساس کی قندیل بجھی شام ڈھلے رات گزری تو ہوا یوں محسوس نیم وحشی سی کہانی تھی سنانے کو جسے صبح نو جیسے دبے پاؤں چلی آئی مرے کمرے میں اور میں شہر خموشاں میں کئی صدیوں تک یہی ...

مزید پڑھیے

سبھی کچھ مٹا دیں

سڑکوں پہ نالیاں کمروں میں مکڑی کے جالے بے معنی شامیں بے مطلب سحر کے اجالے روشنی پھیلی کھڑکیاں کھلیں گنگناہٹیں جاگیں سڑکوں پر جی اٹھا پھر ایک شہر بند ہو گئیں سرسراہٹیں جھیلیں گے سب سر ہے آسمان کے حوالے فرش پر گرے گھونسلے بکھر گیا تنکوں کا میلا لاکھوں خبروں کی بھیڑ میں ایک خبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1438 سے 6203