یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے
یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے ایسا بھی کوئی ہے کہ جسے غم شجر کا ہے یہ کیسا کارواں ہے کہ ایک ایک گام پر سب سوچتے ہیں کیا کوئی موقع سفر کا ہے یہ کیسا آسماں ہے کہ جس کی فضاؤں میں ایک خوف سا شکستگیٔ بال و پر کا ہے یہ کیسا گھر ہے جس کے مکینوں کو ہر گھڑی دھڑکا سا ایک لرزش دیوار و در ...