قومی زبان

دل صد چاک میں کیا رہ گیا ہے

دل صد چاک میں کیا رہ گیا ہے لہو بہہ بہہ کے آدھا رہ گیا ہے جہاں بانی رہا تھا جس کا شیوہ وہ بالکل بے سہارا رہ گیا ہے بنا بیٹھے ہیں کتنے بت جہاں میں جو سچا ہے وہ تنہا رہ گیا ہے عداوت کے یہ کس نے بیج بوئے ہر اک انساں اکیلا رہ گیا ہے تجھے سعدیؔ تھی دریا کی بشارت مگر آنکھوں میں صحرا رہ ...

مزید پڑھیے

دل کی بات زباں پر لاؤ پھر دیکھو

دل کی بات زباں پر لاؤ پھر دیکھو ہم کو اپنا حال سناؤ پھر دیکھو ہم تیری باتوں میں بھی آ سکتے ہیں سچ میں تھوڑا جھوٹ ملاؤ پھر دیکھو سورج چاند ستارے توڑ کے لا دوں گا تھوڑی سی امید دلاؤ پھر دیکھو وحشت ہو کا عالم سناٹا اور غم تم اپنے اطراف سجاؤ پھر دیکھو تم نے اس کا کہنا یوں ہی مان ...

مزید پڑھیے

کبھی دور تم سے نہ جا سکا

کبھی دور تم سے نہ جا سکا میں تمہیں کبھی نہ بھلا سکا ترا قرب تو بڑی دور تھا تری گرد کو بھی نہ پا سکا تری یاد کی شب تار میں میں چراغ تک نہ جلا سکا ترا درد جاگ اٹھا ہے پھر میں نہ سو سکا نہ سلا سکا جو محبتوں کے تھے درمیاں میں وہ فاصلے نہ مٹا سکا

مزید پڑھیے

تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی

تری فرقت کا موسم اور تری یادوں کی رعنائی انہی سے زندگی کا کچھ ہمیں احساس ہے باقی دلوں کے ٹوٹنے کی گر کوئی آواز ہوتی تو عجب ہوتا اگر کوئی سماعت تاب لے آتی بنا ہے خاک سے لیکن نہ ہو گر خاکساری تو برابر ہے ترا ہونا نہ ہونا پیکر خاکی زباں پہ لا کے دل کی بات میں زیر عتاب آیا اگر چپ چاپ ...

مزید پڑھیے

مسکراتا ہے کنول

آج مانا درد دل بے حد بڑا ہے رات کو شکوہ ہے دن سے صبح کا غم بھی سوا ہے تم مگر اتنا تو سوچو زندگی کب ایک جیسے راستے پر چل سکی ہے جو چلے گی آب دیدہ منظروں سے قہقہے بھی پھوٹتے ہیں اور زمیں کو جھک کے اونچے آسماں بھی چومتے ہیں اک ذرا رک کر تو دیکھو حوصلہ کر کے تو دیکھو کس قدر کیچڑ میں رہ ...

مزید پڑھیے

ضد

عجب سی دیکھو فضا بنی ہے عداوتوں سے بھری ہے دنیا ہماری خوشیوں سے غم ہو تم کو خوشی ہو ہم کو جو غم ہو تم کو اندھیرے رستے میں ہم جو بھٹکیں سجاؤ محفل چراغوں سے تم ہوں نرم کرنیں عزیز تم کو جو صبح کی ہم پکاریں اس دم اجالا دن کا جلاتا آنکھیں فلک کے تاروں کا ذکر جب ہو تو اٹھ کے دیکھیں ...

مزید پڑھیے

پہلے وہ قید مرگ سے مجھ کو رہا کرے

پہلے وہ قید مرگ سے مجھ کو رہا کرے پھر ہو تو بے وفائی کا بے شک گلہ کرے اب کشمکش کے بوجھ کی طاقت نہیں رہی اب دل میں کوئی آس نہ جاگے خدا کرے ہو شمع تو بتائے کہ جلتے ہیں کس طرح جگنو بھی مر گئے ہوں تو پروانہ کیا کرے وہ حکم دے رہے ہیں مگر سوچتے نہیں کس طرح کوئی دل کو جگر سے جدا کرے وہ ...

مزید پڑھیے

شہر کے فٹ پاتھ پر کچھ چبھتے منظر دیکھنا

شہر کے فٹ پاتھ پر کچھ چبھتے منظر دیکھنا سرد راتوں میں کبھی گھر سے نکل کر دیکھنا یہ سمجھ لو تشنگی کا دور سر پر آ گیا رات کو خوابوں میں رہ رہ کر سمندر دیکھنا کس کے ہاتھوں میں ہیں پتھر کون خالی ہاتھ ہے یہ سمجھنے کے لیے شیشہ سا بن کر دیکھنا بے حسی ہے بزدلی ہے حوصلہ مندی نہیں بیٹھ کر ...

مزید پڑھیے

غم رات دن رہے تو خوشی بھی کبھی رہی

غم رات دن رہے تو خوشی بھی کبھی رہی اک بے وفا سے اپنی بڑی دوستی رہی ان سے ملن کی شام گھڑی دو گھڑی رہی اور پھر جو رات آئی تو برسوں کھڑی رہی شام وصال درد نے جاتے ہوئے کہا کل پھر ملیں گے دوست اگر زندگی رہی بستی اجڑ گئی بھی تو کیکر ہرے رہے دربند ہو گئے بھی تو کھڑکی کھلی رہی اخترؔ ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے حسن کی جلوہ گری ہے

یہ کس کے حسن کی جلوہ گری ہے جہاں تک دیکھتا ہوں روشنی ہے اگر ہوتے نہیں حساس پتھر تری آنکھوں میں یہ کیسی نمی ہے یقیں اٹھ جائے اپنے دست و پا سے اسی کا نام لوگو خودکشی ہے اگر لمحوں کی قیمت جان جائیں ہر اک لمحہ میں پوشیدہ صدی ہے تجھے بھی منہ کے بل گرنا پڑے گا ابھی تو سر سے ٹوپی ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1424 سے 6203