قومی زبان

اپنے عہد وفا سے رو گردانی کرتا رہتا ہے

اپنے عہد وفا سے رو گردانی کرتا رہتا ہے میری صبحوں شاموں کی نگرانی کرتا رہتا ہے کیا کہیے کس مشکل میں باقی ہے محبت کا میثاق جس پر آئے دن وہ خود نگرانی کرتا رہتا ہے اس کے اپنے گھر کا صفایا دن کو کیسے ہو پایا وہ جو شب بھر شہر کی خود نگرانی کرتا رہتا ہے دل نے اس کو بھلا دینے کا عزم تو ...

مزید پڑھیے

اس سے بڑا دکھ کیا ہوگا

اس سے پہلے جتنی عیدیں گزری ہیں ہر عید سے پہلے میرے بچے اپنی نرم روپہلی بانہیں میری گردن میں جب ڈال کے کہتے تھے ہم عیدی لینے آئے ہیں وہ خوشیوں سے لبریز منور گھڑیاں کتنی اچھی لگتی تھیں جب بڑی بڑی رقموں کو وہ ٹھکراتے تھے اور بڑے بڑے تحفوں پر بھی وہ اپنے منہ لٹکاتے تھے وہ مجھ سے روٹھ ...

مزید پڑھیے

چار سو حسرتوں کی پہنائی

چار سو حسرتوں کی پہنائی زندگی کس طرف چلی آئی آ غم زندگی کہاں ہے تو آرزو لے رہی ہے انگڑائی پھر وہی تیرہ بختیاں اپنی پھر شب غم ہے اور تنہائی غور کیجے تو یاد آئے گا تھی کبھی آپ سے شناسائی جائیے آپ کوئی بات نہیں آنکھ تھی بے خودی میں بھر آئی ابتلاؤں میں کیا گھرے صفدرؔ زندگی کی روش ...

مزید پڑھیے

یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا

یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا وہ با خبر تھا جسے ہم نے بے خبر جانا ہم اس کے دوست ہیں کیا ذکر وصف یار کریں جسے خود اس کے رقیبوں نے معتبر جانا جہاں پہ طاق ہیں بغض و ریا کے فن میں تمام اس ایک شخص نے اخلاص کو ہنر جانا کچھ اس کے ساتھ سفر سہل بھی نہیں تھا مگر اب اس کے بعد تو مشکل ہے لوٹ ...

مزید پڑھیے

دیے کتنے اندھیری عمر کے رستوں میں آتے ہیں

دیے کتنے اندھیری عمر کے رستوں میں آتے ہیں مگر کچھ وصف ہیں جو آخری برسوں میں آتے ہیں چراغ انتظار ایسی نگہبانی کے عالم میں منڈیروں پر نہیں جلتے تو پھر پلکوں میں آتے ہیں بہت آب و ہوا کا قرض واجب ہے مگر ہم پر یہ گھر جب تنگ ہو جاتے ہیں پھر گلیوں میں آتے ہیں میان اختیار و اعتبار اک حد ...

مزید پڑھیے

رستوں پہ نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی

رستوں پہ نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی بچھڑے ہوئے لوگوں کی صدا تنگ کرے گی اعصاب پہ پہرے نہ بٹھا صبح سفر ہے ٹوٹے گا بدن اور قبا تنگ کرے گی مت ٹوٹ کے چاہو اسے آغاز سفر میں بچھڑے گا تو اک ایک ادا تنگ کرے گی اتنا بھی اسے یاد نہ کر شام غریباں مہکے گی فضا بوئے حنا تنگ کرے گی خوابوں کے ...

مزید پڑھیے

محبتوں میں بھی مال و منال مانگتے ہیں

محبتوں میں بھی مال و منال مانگتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں اجر وصال مانگتے ہیں وبال جاں تھے شب و روز کل جو اپنے لیے گزر گئے تو وہی ماہ و سال مانگتے ہیں سمجھ میں آیا نہیں ان کا مدعا کیا ہے لکھیں جواب تو پھر وہ سوال مانگتے ہیں محبتوں کی دکانیں اجڑنے والی ہیں عروج دیکھ چکے ہیں زوال ...

مزید پڑھیے

اپنی سانسیں مری سانسوں میں ملا کے رونا

اپنی سانسیں مری سانسوں میں ملا کے رونا جب بھی رونا مجھے سینے سے لگا کے رونا قید تنہائی سے نکلا ہوں ابھی جان سفر مجھ سے ملنا مجھے زلفوں میں چھپا کے رونا اتنا سفاک نہ تھا گھر کا یہ منظر پہلے تری یادوں کے چراغوں کو بجھا کے رونا ہم نے اس طرح بھی کاٹی ہیں بہت سی راتیں دل کے خوش رکھنے ...

مزید پڑھیے

سونے ہی رہے ہجر کے صحرا اسے کہنا

سونے ہی رہے ہجر کے صحرا اسے کہنا سوکھے نہ کبھی پیار کے دریا اسے کہنا برباد کیا ہم کو تری کم نظری نے یوں ہوتے نہ ورنہ کبھی رسوا اسے کہنا اک حشر بپا کر کے سر شام سفر میں پھر تو نے مرا حال نہ پوچھا اسے کہنا جس حشر کے ڈر سے وہ جدا مجھ سے ہوا تھا وہ حشر تو پھر بھی ہوا برپا اسے کہنا اک ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ کسی گھاٹ اتارے جاتے

اس سے پہلے کہ کسی گھاٹ اتارے جاتے ہم ہی بیتاب تھے ہم مفت میں مارے جاتے حد ادراک سے آگے تھی ترے قرب کی شام ڈھونڈنے تجھ کو کہاں چاند ستارے جاتے تو نے خود اپنی محبت کا بھرم کھول دیا ورنہ ہم پاس مروت میں ہی مارے جاتے تجھ سے منسوب ہوئے ہیں تو یہ حسرت ہی رہی ہم کبھی اپنے حوالے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1393 سے 6203