اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں
اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں غرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیں ادھر دیکھو بھلا ہم کو زمانہ کیا نہیں کہتا تو کیا ہر ایک سے کرتے ہوئے تکرار پھرتے ہیں جو اب وحشت نہیں بھی ہے تو اپنی چال کیوں چھوڑیں جدھر جی چاہے دن بھر رات بھر بے کار پھرتے ہیں تری خاطر محبت ہو گئی ہے ...