قومی زبان

اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں

اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں غرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیں ادھر دیکھو بھلا ہم کو زمانہ کیا نہیں کہتا تو کیا ہر ایک سے کرتے ہوئے تکرار پھرتے ہیں جو اب وحشت نہیں بھی ہے تو اپنی چال کیوں چھوڑیں جدھر جی چاہے دن بھر رات بھر بے کار پھرتے ہیں تری خاطر محبت ہو گئی ہے ...

مزید پڑھیے

ترا بے مدعا مانگے دعا کیا

ترا بے مدعا مانگے دعا کیا مرض ہے تندرستی میں دوا کیا کہیں کیا کیا کیا ہے ہم نے کیا کیا تجھے اے بے وفا قدر وفا کیا تبسم ہو جواب مدعا کیا کہا کیا آپ نے میں نے سنا کیا کہو آخر ذرا میں بھی تو سن لوں مری نسبت سنا ہے تم نے کیا کیا تمہاری مہربانی ہے تو سب ہے مرا ارمان میرا مدعا کیا نہ ...

مزید پڑھیے

مصور اپنے تصور کا ڈھونڈھتا ہے دوام

مصور اپنے تصور کا ڈھونڈھتا ہے دوام نہ جام جم نہ وصال صنم نہ شہرت و نام حیات جبر مسلسل ہے تو ہے جبر شکن ہر ایک گام پہ آزادگی کا تجھ کو سلام تصورات کے پھولوں میں رنگ بھرتا ہے حقیقتوں کی کڑی دھوپ دیتی ہے انعام سحر بھی ہوگی نسیم سحر بھی گائے گی مگر یہ رات محبت چراغ زہر کے جام شراب ...

مزید پڑھیے

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا وہ نہ اب اس کی رہ گزر دور جنوں گزر گیا کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا چاہنے والے سب ترے نفع و ضرر کے ہو گئے کیوں نہ اٹھی تری نظر دور ...

مزید پڑھیے

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ نئی سحر کے لئے آفتاب لے آؤ نہ رات ہے نہ خیالات شب نہ خواب سحر جو دن کی جوت جگا دیں وہ خواب لے آؤ برا نہیں ہے جو لکھ جائیں اب بھی چند ورق جو آج تک ہے ادھوری کتاب لے آؤ نقاب الٹتی ہے چہرے سے روز تازہ سحر نگاہ میں بھی کوئی انقلاب لے آؤ بہار آئے گی گلشن ...

مزید پڑھیے

رس

میری تخئیل تری ذات میں رس گھولتی ہے ایک مینار فلک بوس جفا جو سرکش گنگناتا تو نہیں حرف بنا لیتا ہے میرے دل میں کبھی دو حرف جھلک اٹھتے ہیں جیسے مضراب سے پھوٹ آتے ہیں سارنگی میں کون مضراب ہے وہ کون سی سارنگی ہے جو مری روح کے ہر تار میں رس گھولتی ہے گل مہک اٹھتے ہیں جب باد صبا ڈولتی ...

مزید پڑھیے

کیوں

اے خدا پھر سے ہمیں جہل کی دولت دے دے تو نے کیوں علم دیا اور جہالت چھینی تو نے کیوں جنت حمقا سے نکالا ہم کو ذہن کو کس لیے ہونے دیا بالغ تو نے آستینوں میں مرے پل کے سپنولے کی طرح ڈس لیے جس نے مرے سارے ہی اوہام کہن آنکھیں چہرے پہ کبھی کو ہیں ملیں کان بھی ہاتھ بھی پاؤں بھی پائے سب ...

مزید پڑھیے

جہات

کل کی یادیں مسجدیں موتی کی قلعے لعل کے مرمر کے تاج مورتیں مندر کلیسا ینتر منتر گرتی دیواریں چھتیں سائے میں ان کے دھندلکے دیمکیں جالے غبار آسماں چھوتی عمارت بلند بار دیگر بار دیگر بار بار سر اٹھاتے حادثات شفقتیں مہر و مروت ظلم بے مہری سوارتھ زندگی لیتی ہی رہتی ہے ہمارا ...

مزید پڑھیے

بے بسی اور کچھ دنوں تک ہے

بے بسی اور کچھ دنوں تک ہے آ گئی چاندنی سروں تک ہے کونسا دور آ گیا صاحب شعر محدود قافیوں تک ہے شمس سے جانے کیوں محبت کی آپ کی حیثیت دیوں تک ہے جب تمہیں وقت ہو چلی آنا ہجر کی شب کئی شبوں تک ہے اس محبت کو کس طرح بھولوں نقش جس کا پڑا دروں تک ہے کیوں یہ خوشبو جگہ جگہ پھیلی پھول پتی ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے جاتے تھے تارے بادباں روشن ہوا

ڈوبتے جاتے تھے تارے بادباں روشن ہوا پو پھٹی خورشید ابھرا آسماں روشن ہوا رات کہتی تھی دیوں کی ٹمٹماہٹ کب تلک تیرگی سوئی ضمیر کن فکاں روشن ہوا بے کسی کے درد نے لو دی جل اٹھا اک چراغ رفتہ رفتہ اس سے پھر سارا جہاں روشن ہوا جب سہارا آخری ٹوٹا تو ہمت جاگ اٹھی بجھ گئے شمس و قمر اپنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1388 سے 6203