قومی زبان

نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا

نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا بھڑکتا ہے بجھ بجھ کے اکثر دوبارا انوکھا ہے کیا زندگی کا شرارہ اک امید موہوم پر جی رہا ہوں کہ تنکے کا ہے ڈوبتے کو سہارا نگاہ کرم ہو جو رندوں پہ ساقی تو زہر ہلاہل بھی قند گوارا چراغ حرم ہے نہ ہرگز بجھے گا یہ دل شعلۂ عشق ...

مزید پڑھیے

صحرا میں ذرہ قطرہ سمندر میں جا ملا

صحرا میں ذرہ قطرہ سمندر میں جا ملا میں خاک میں ملا تو ملا تجھ کو کیا ملا تعمیر دوزخوں میں ہو شداد کی بہشت جنت کو چھوڑ آئے تو غم دوسرا ملا یہ تو نہیں کہ خواب میں دنیا بدل گئی بیدار جب ہوئے تو تصور نیا ملا کیا کم ہیں اب بھی شہر میں بے‌ مغز و بے لباس سودا تھا ایک سر میں وہ تن سے جدا ...

مزید پڑھیے

رقص میں ہے جہاں کا جہاں آج کل

رقص میں ہے جہاں کا جہاں آج کل ماند ہے گردش آسماں آج کل آسماں پر نہیں زہرہ و مشتری ہے زمیں پر ہر اک دل ستاں آج کل نشۂ فصل گل بوئے مے حسن مہ کھنچ کے سب آ گئے ہیں کہاں آج کل منزل نہ فلک مجھ کو آواز دے ہے مری راہ میں کہکشاں آج کل علم کے آلپس پر ہیں طلب کے قدم حوصلے اس قدر ہیں جواں آج ...

مزید پڑھیے

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی کلیجے میں کیوں تیر بن کر گڑی فروزاں ہوئی خلوت ماہتاب مجھے یاد ہے وہ سماں وہ گھڑی جھمکنے لگی عرش اعظم کی جوت نگاہوں پہ اک چھوٹ ایسی پڑی جو چاہا تھا مانگا نہ تھا مل گیا لڑی آنکھ اس سے تو ایسی لڑی کبھی کھلکھلا کر ہنسا بھی کرو لگائی بہت آنسوؤں کی جھڑی

مزید پڑھیے

کھو دیا ہم نے اعتبار اپنا

کھو دیا ہم نے اعتبار اپنا بس یہیں تک تھا اختیار اپنا داغ دل جل اٹھے جو گل مہکے رنگ دکھلا گئی بہار اپنا جانے کس کس کے منتظر ٹھہرے صرف ہم کو تھا انتظار اپنا آنکھیں دل کی سفیر ہوں شاید آپ دیکھیں تو شاہکار اپنا

مزید پڑھیے

تذکرہ ان کا ہی جو رنگ بدل جاتے ہیں

تذکرہ ان کا ہی جو رنگ بدل جاتے ہیں بات سایوں کی نہیں سائے تو ڈھل جاتے ہیں آپ زحمت نہ کریں پرسش حال دل کی منہ سے نا گفتنی جملے بھی نکل جاتے ہیں اتنا خوش فہم نہ ہو اے دل پژمردہ کہ اب وہ شگوفے جو نہ کھل پائیں کچل جاتے ہیں کچھ دیے خون رگ جاں سے ہوئے ہیں روشن کچھ دیے تندیٔ صہبا سے بھی ...

مزید پڑھیے

ہم نے محکم جنہیں جانا وہ ستارے ٹوٹے

ہم نے محکم جنہیں جانا وہ ستارے ٹوٹے موج ساحل سے جو گزری تو کنارے ٹوٹے اہل دل سوچ رہے ہیں یہ بڑے کرب کے ساتھ ہم ہی زنجیر ہوئے دل بھی ہمارے ٹوٹے آج ہر ذہن میں روشن میں تفکر کے چراغ دل وہ شعلہ ہے کہ جس سے یہ شرارے ٹوٹے آپ نے جن پہ نظر کی وہی ذرے چمکے ہم جنہیں دیکھ رہے تھے وہ ستارے ...

مزید پڑھیے

جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں

جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے وہ صحرا ہو یا گلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں جب بھی ذہن میں جاگ اٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں اس سے زیادہ کیا ...

مزید پڑھیے

ہم اہل دل بھی اگر فکر جان و تن کرتے

ہم اہل دل بھی اگر فکر جان و تن کرتے تو لوگ حسن پہ اظہار حسن ظن کرتے بھٹک رہی ہیں خزاں دیدہ خار و خس کی طرح وہ کم نظر جو چلے تھے چمن چمن کرتے بہار کب تھی ترا آئنہ کہ دیوانے قبائے گل کی طرح چاک پیرہن کرتے سنوارتا نہ کوئی تیری زلف مشکیں کو جو ہم بھی پیرویٔ آہوئے ختن کرتے

مزید پڑھیے

گلشن کو بہاروں نے اس طرح نوازا ہے

گلشن کو بہاروں نے اس طرح نوازا ہے ہر شاخ کے کاندھے پر کلیوں کا جنازہ ہے کس طرح بھلائیں ہم اس شہر کے ہنگامے ہر درد ابھی باقی ہے ہر زخم ابھی تازہ ہے مستی بھی امیدیں بھی حسرت بھی اداسی بھی مجھ کو تری آنکھوں نے ہر طرح نوازا ہے مٹی کی طرح اک دن اڑ جائے گا راہوں سے سب شور مچاتے ہیں جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1389 سے 6203