نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا
نہ ہو گر نہیں ان سے ملنے کا یارا خودی ہے سلامت خدا ہے ہمارا بھڑکتا ہے بجھ بجھ کے اکثر دوبارا انوکھا ہے کیا زندگی کا شرارہ اک امید موہوم پر جی رہا ہوں کہ تنکے کا ہے ڈوبتے کو سہارا نگاہ کرم ہو جو رندوں پہ ساقی تو زہر ہلاہل بھی قند گوارا چراغ حرم ہے نہ ہرگز بجھے گا یہ دل شعلۂ عشق ...