خواب دیکھے تھے سہانے کتنے
خواب دیکھے تھے سہانے کتنے جاگ اٹھے درد پرانے کتنے ایک جلوے کی فراوانی سے بن گئے آئنہ خانے کتنے چال سے حال کی لاتے ہیں خبر لوگ ہوتے ہیں سیانے کتنے بوجھ کر بھی نہ بتاؤں تجھ کو تیری مٹھی میں ہیں دانے کتنے بے ارادہ جو ہوئے اشک رواں لٹ گئے غم کے خزانے کتنے تم ذرا روٹھ کے دیکھو تو ...