قومی زبان

خواب دیکھے تھے سہانے کتنے

خواب دیکھے تھے سہانے کتنے جاگ اٹھے درد پرانے کتنے ایک جلوے کی فراوانی سے بن گئے آئنہ خانے کتنے چال سے حال کی لاتے ہیں خبر لوگ ہوتے ہیں سیانے کتنے بوجھ کر بھی نہ بتاؤں تجھ کو تیری مٹھی میں ہیں دانے کتنے بے ارادہ جو ہوئے اشک رواں لٹ گئے غم کے خزانے کتنے تم ذرا روٹھ کے دیکھو تو ...

مزید پڑھیے

عشق کیا چیز ہے یہ پوچھیے پروانے سے

عشق کیا چیز ہے یہ پوچھیے پروانے سے زندگی جس کو میسر ہوئی جل جانے سے موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے ہو گیا ڈھیر وہیں آہ بھی نکلی نہ کوئی جانے کیا بات کہی شمع نے پروانے سے حسن بے عشق کہیں رہ نہیں سکتا زندہ بجھ گئی شمع بھی پروانے کے جل جانے ...

مزید پڑھیے

دور چرخ کبود جاری ہے

دور چرخ کبود جاری ہے جسم و جاں پر جمود طاری ہے گویا انساں نہیں ہیولیٰ ہوں میری رگ رگ میں دود ساری ہے موت ہم سایے میں ہوئی ہے تو کیا بزم رقص و سرور جاری ہے دوستوں سے وہ کیا کریں گے سلوک جن پر اپنا وجود بھاری ہے ہے تصور میں اک رخ روشن اور لب پر درود جاری ہے عمر بھر کھل سکی نہ دل ...

مزید پڑھیے

بس فرق اس قدر ہے گناہ و ثواب میں

بس فرق اس قدر ہے گناہ و ثواب میں پیری میں وہ روا ہے یہ جائز شباب میں تاثیر جذب شوق کا یہ سحر دیکھیے خود آ گئے ہیں وہ مرے خط کے جواب میں آخر تڑپ تڑپ کے یہ خاموش ہو گیا دل کو سکون مل ہی گیا اضطراب میں آنکھیں ملا کے یا تو عنایت ہو ایک جام یا زہر ہی ملا دو ہماری شراب میں رخ آفتاب ہونٹ ...

مزید پڑھیے

دیار حبس میں بجھتے ہوئے چراغوں کو

دیار حبس میں بجھتے ہوئے چراغوں کو ذرا سہارا ہوا کا ملے چراغوں کو بجھے چراغوں کی سرگوشیوں میں خطرہ ہے ہوا بھی کان لگا کر سنے چراغوں کو دکھا نہ پائیں جو رستہ کسی مسافر کو تو کیا کرے کوئی رہ میں پڑے چراغوں کو تمہارے بس میں نہیں ہے تو روشنی دوں گا چراغ بن کے جو اترے کہے چراغوں ...

مزید پڑھیے

تارے

ہیں کتنے پیارے سارے کے سارے یہ شوخ تارے ہرگز نہیں ہیں قسمت کے مارے یہ شوخ تارے کرتے ہیں دیکھو کیا کیا اشارے یہ شوخ تارے کھیلو تو ہوں گے ساتھی تمہارے یہ شوخ تارے

مزید پڑھیے

امنگ

سب کو ہے چین سا سب کو ہے آسرا میں ہوں چھوٹا تو کیا آتی ہے جب کلی بنتی ہے پھول بھی میں چھوٹا تو کیا ننھی سی بوند سے کتنے دریا بہے میں ہوں چھوٹا تو کیا ہلکی ہلکی پھوار لاتی ہے کیا بہار میں ہوں چھوٹا تو کیا ایک چیونٹی ارے اور ہاتھی مرے میں ہوں چھوٹا تو کیا اک گلہری اٹھے ٹکڑے پتھر ...

مزید پڑھیے

چڑیاں

مل مل کر ہٹنا پتوں کا تھم تھم کر کھلنا کلیوں کا ٹکرائے جانا لہروں کا جگ مگ ہے مندر نغموں کا پیاری چڑیو چہکے جاؤ سورج کی چنچل کرنوں سے ڈھلتے ہیں جب راگ تمہارے ایسے رنگیں ایسے میٹھے کیا ہوں گے دنیا کے گانے پیاری چڑیو چہکے جاؤ آنکھیں ہیں ہر دم ہنسنا ہے دل اک راحت کی دنیا ہے ایک تڑپ ہے ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے

کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے یہ حقیقت تو نگاہوں سے بیاں ہوتی ہے وہ نہ آئے تو ستاتی ہے خلش سی دل کو وہ جو آئے تو خلش اور جواں ہوتی ہے روح کو شاد کرے دل کو جو پر نور کرے ہر نظارے میں یہ تنویر کہاں ہوتی ہے ضبط سیلاب محبت کو کہاں تک روکے دل میں جو بات ہو آنکھوں سے عیاں ہوتی ...

مزید پڑھیے

مثل رقص شرر نہیں آتی

مثل رقص شرر نہیں آتی زندگی لوٹ کر نہیں آتی دل دہی کا تو کوئی ساماں کر دل ربائی اگر نہیں آتی ہجر میں موت ڈھونڈھنے والے ایسی شب کی سحر نہیں آتی دل کو دے کر فریب شوق و طلب اب تمنا نظر نہیں آتی یہ طبیعت ہے حضرت ناصح یہ سمجھ سوچ کر نہیں آتی عالم بے دلی سے بھی یا رب دل کی کوئی خبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1361 سے 6203