قومی زبان

مختصر وقت ہے پر باتیں کر

مختصر وقت ہے پر باتیں کر زندگی بیچ سفر باتیں کر آ کبھی حجرہ دل میں میرے رات کے پچھلے پہر باتیں کر چل چلا جاؤں تجھے لے کر میں پھر کسی خواب نگر باتیں کر چھوڑ کر دنیا و دیں کی باتیں ہے تو دشوار مگر باتیں کر لم یزل شعر کی صورت تو بھی مسند دل پہ اتر باتیں کر زندگی رقص میں ہے میری ...

مزید پڑھیے

تمہارے لمس کو خود میں اتار سکتا ہوں

تمہارے لمس کو خود میں اتار سکتا ہوں میں اپنے آپ کو یوں بھی سنوار سکتا ہوں وہ سانس سانس میں گھلنے لگا ہے یوں میرے میں پور پور سے اس کو پکار سکتا ہوں مرے خیال کی طاقت سے تم نہیں واقف زمین پر میں فلک بھی اتار سکتا ہوں مرے مزاج کی شدت سے تم تو واقف ہو تمہیں میں اپنا بنا کر بھی ہار ...

مزید پڑھیے

پہلے جو ہم چلے تو فقط یار تک چلے

پہلے جو ہم چلے تو فقط یار تک چلے پھر فن سے لے کے حجرۂ فن کار تک چلے بت خانۂ جہان سے انکار ہے مجھے لیکن وہ کیا ہوئے تھے جو انکار تک چلے محو خیال تیری تجلی میں کیا ہوئے موسیٰ بھی کوہ طور کے اسرار تک چلے رمز خدا کی رمز بھری روشنی میاں میں چاہتا تو ہوں مرے کردار تک چلے کچھ ربط حسن ...

مزید پڑھیے

ہم فقیروں کی جیب خالی ہے

ہم فقیروں کی جیب خالی ہے یاد لیکن تری بچا لی ہے آسماں سے کوئی خیال اترے ذوق یا رب مرا سوالی ہے راز پنہاں تھے سب خزاؤں کے خشک پتوں نے بات اچھالی ہے تیری یادوں سے بھاگنا کیسا بس توجہ ذرا ہٹا لی ہے لوگ آتے ہیں ڈوب جاتے ہیں ذات قلزم جو اب بنا لی ہے نور یزداں کا طور پہ جا کر ہم نے ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے یاد کہ وہ یاد کب نہیں آیا

نہیں ہے یاد کہ وہ یاد کب نہیں آیا اسے بھلا کے میں جی لوں یہ ڈھب نہیں آیا یہ سب غلط ہے کہ سنتا نہیں کسی کی وہ یہ سچ نہیں کہ پکارا تو رب نہیں آیا وہ یوں تو آتا ہے جاتا ہے میری سانسوں میں بلایا ویسے اسے جب وہ تب نہیں آیا کسی کو رزق نہ پہنچا ہو شام سے پہلے ابھی زمین پہ ایسا غضب نہیں ...

مزید پڑھیے

دیار دل سے کسی کا گزر ضروری تھا

دیار دل سے کسی کا گزر ضروری تھا اجاڑ رستے پہ کوئی شجر ضروری تھا ذرا سی دیر میں بجھنے کو تھا مگر اس دم دیے کو چلتی ہوا کا ثمر ضروری تھا اگر نہ ہوتے یہ دنیا اسی طرح چلتی ہمارا ہونا جہاں میں مگر ضروری تھا نظر میں شعر سجاتے غزل سماعت میں سخن کے شہر میں ایسا نگر ضروری تھا ہمارے دل ...

مزید پڑھیے

چل تجھے یار گھما لاتا ہوں

چل تجھے یار گھما لاتا ہوں آسماں پار گھما لاتا ہوں وقت مٹھی میں ہے گر چاہو تو پچھلے ادوار گھما لاتا ہوں دل تجھے موت پڑی ہے کیسی کیوں ہے بیزار گھما لاتا ہوں اب ذرا دشت کو بھی دیکھ آئیں کر نہ انکار گھما لاتا ہوں میں تو اس پار بھی جا سکتا ہوں اے مرے یار گھما لاتا ہوں

مزید پڑھیے

نظر میں وہ اتارے جا رہے ہیں

نظر میں وہ اتارے جا رہے ہیں مقدر یوں سنوارے جا رہے ہیں اے دریا ہم تمہارا ساتھ دیں گے جہاں تک بھی کنارے جا رہے ہیں جنہیں پہلے ڈبویا جا چکا ہے وہی پھر کیوں ابھارے جا رہے ہیں ذرا نمکین پانی سے سنا ہے دلوں کے زنگ اتارے جا رہے ہیں قیامت جس جگہ ٹوٹی تھی ہم پر وہیں سے پھر گزارے جا رہے ...

مزید پڑھیے

کہانی یوں ادھوری چل رہی ہے

کہانی یوں ادھوری چل رہی ہے ہمارے بیچ دوری چل رہی ہے ہمیں پیچھے دھکیلا جا رہا ہے یہ کوشش بھی شعوری چل رہی ہے نہیں سننا کسی نے شعر کوئی یہاں پر جی حضوری چل رہی ہے زمیں اور آسماں کے درمیاں تو کوئی نسبت ضروری چل رہی ہے مکمل ذکر اس کا ہو چکا ہے غزل پھر بھی ادھوری چل رہی ہے

مزید پڑھیے

آنکھوں کو خواب ناک بنانا پڑا مجھے

آنکھوں کو خواب ناک بنانا پڑا مجھے سو رتجگوں سے ربط بڑھانا پڑا مجھے شاید ہوا تھی ایک بہانے کی منتظر کچھ اس لیے بھی دیپ جلانا پڑا مجھے اس کی لگائی آگ نے شہروں کو آ لیا ملا کو جا کے دین سکھانا پڑا مجھے دل شوخیوں سے باز نہ آتا تھا اس لیے اس کو دیار عشق میں لانا پڑا مجھے سنتی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1362 سے 6203