قومی زبان

رنج و آلام سے محبت ہے

رنج و آلام سے محبت ہے سعیٔ ناکام سے محبت ہے زندگی بھر نہ ہو سحر جس کی ہم کو اس شام سے محبت ہے کیا خطر گردش فلک سے ہمیں گردش جام سے محبت ہے بادہ صہبا شراب سے دارد ایسے ہر نام سے محبت ہے بادہ و جام سے محبت تھی بادہ و جام سے محبت ہے ہر گھڑی دل میں یاد ہے ان کی بس اسی نام سے محبت ...

مزید پڑھیے

غم دل رخ سے عیاں ہو یہ ضروری تو نہیں

غم دل رخ سے عیاں ہو یہ ضروری تو نہیں عشق رسوائے جہاں ہو یہ ضروری تو نہیں لب پہ ہر وقت فغاں ہو یہ ضروری تو نہیں ہم نوا دل کی زباں ہو یہ ضروری تو نہیں جان تنہا پہ گزر جائیں ہزاروں صدمے آنکھ سے اشک رواں ہو یہ ضروری تو نہیں مل ہی جائے گی کہیں ڈھونڈھنے والے کو بہار ہر گلستاں میں خزاں ...

مزید پڑھیے

یہ اخلاص گراں مایہ بہت ہے

یہ اخلاص گراں مایہ بہت ہے تم آئے دل کو چین آیا بہت ہے غم دل کو بہت راس آئے ہیں ہم غم دل ہم کو راس آیا بہت ہے فریب دشمناں ہم کھائیں گے کیا فریب دوستاں کھایا بہت ہے مبارک تم کو قصر و چتر شاہی ہمیں دیوار کا سایہ بہت ہے بہت ہم نے بھی سمجھایا ہے دل کو ہمیں بھی دل نے سمجھایا بہت ...

مزید پڑھیے

بے طرح دل خوشی سے ڈرتا ہے

بے طرح دل خوشی سے ڈرتا ہے کون اتنا کسی سے ڈرتا ہے اف رے نیرنگیاں زمانے کی آدمی آدمی سے ڈرتا ہے دشمنی ہی نہ ہو مآل اس کا دل تری دوستی سے ڈرتا ہے یہ بھی ہے اک تعلق خاطر کون ورنہ کسی سے ڈرتا ہے منزلیں گرد بن گئیں پھر بھی رہ نما رہبری سے ڈرتا ہے عشق فرما روائے ہفت افلاک آپ کی برہمی ...

مزید پڑھیے

قوت جسم و جاں یاد آئی

قوت جسم و جاں یاد آئی دل کی تاب و تواں یاد آئی آج مجھے اک بات تمہاری مجھ سے بھی پنہاں یاد آئی کل تم حجرہ غم سے چلے مجھ کو عمر رواں یاد آئی بزم طرب میں بات خوشی کی بن کر غم کا سماں یاد آئی مجھ سے ہوا یہ کام بھی ورنہ کس کو اپنی فغاں یاد آئی اپنے جرم سیہ یاد آئے تیری خوئے اماں یاد ...

مزید پڑھیے

میرے مرنے کی بھی ان کو نہ خبر دی جائے

میرے مرنے کی بھی ان کو نہ خبر دی جائے کس لیے اپنوں کو تکلیف سفر دی جائے لاکھ کو لے کے چلیں غیر بڑی شان کے ساتھ گھر سے لے جا کے یہ چوراہے پہ دھر دی جائے عمر بھر تو نے عطا کی ہے مے ہوش ربا وقت آخر ہے مئے ہوش اثر دی جائے سیم و زر سے نہ سہی صبر و قناعت سے سہی مجھ سے خوددار کی جھولی بھی ...

مزید پڑھیے

تیرے گا فضا میں جو سمندر نہ ملے گا

تیرے گا فضا میں جو سمندر نہ ملے گا دل سا بھی زمانے میں شناور نہ ملے گا ساحل سے تو اندازۂ طوفاں بھی ہے دشوار تہ میں جو نہ اترو گے تو گوہر نہ ملے گا وابستہ ہے اس بزم سے ہی گھر کا تصور اٹھ جائے گی جب بزم تو پھر گھر نہ ملے گا پرواز خلاؤں میں مبارک تمہیں لیکن اک بار بکھر کر تو یہ پیکر ...

مزید پڑھیے

غم کا صحرا نہ ملا درد کا دریا نہ ملا

غم کا صحرا نہ ملا درد کا دریا نہ ملا ہم نے مرنا بھی جو چاہا تو وسیلہ نہ ملا مدتوں بعد جو آئینے میں جھانکا ہم نے اتنے چہرے تھے وہاں اپنا ہی چہرہ نہ ملا قتل کر کے وہ غنیموں کو جو واپس آئے اپنے ہی گھر میں انہیں کوئی شناسا نہ ملا ہم بھی جا نکلے تھے سورج کے نگر میں اک دن وہ اندھیرا تھا ...

مزید پڑھیے

زندگی ہم سے خفا ہو جیسے

زندگی ہم سے خفا ہو جیسے اب دوا ہو نہ دعا ہو جیسے تیری فرقت میں ہوا یوں محسوس زندگی ایک سزا ہو جیسے اس طرح کرتا ہوں پوجا تیری تو محبت کا خدا ہو جیسے ایسا ارمان ملاقات بھی کیا دل میں طوفان بپا ہو جیسے اب تو احساس تمنا بھی نہیں قافلہ دل کا لٹا ہو جیسے میرے ہونٹوں پہ ترا ذکر ...

مزید پڑھیے

خود وہ آتے اگر یقیں ہوتا

خود وہ آتے اگر یقیں ہوتا درد پرسش طلب نہیں ہوتا دل تو کیا جان تک فدا کرتے تم سا لیکن کوئی حسیں ہوتا سجدہ کرتے ہزار بار مگر کوئی در لائق جبیں ہوتا اس میں شامل جو ہوتا ذکر ان کا یہ فسانہ بہت حسیں ہوتا تیرے وعدوں پہ بھی یقیں کرتے ہم کو دل پر اگر یقیں ہوتا دل پہ جب تک نہ اس کے چوٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1360 سے 6203