زہر میں ڈوبی ہوئی سرخ حکایات میں گم
زہر میں ڈوبی ہوئی سرخ حکایات میں گم دل گرفتہ ہے ہوا موجۂ اصوات میں گم منکشف ہوتا ہوا لمحۂ ماضی کا نشاں آنکھ جھپکی تھی ہوا دود خرابات میں گم شام کی ساعت اول میں فلک پر جا کر ہم نے دیکھا ہے سمندر کو خیالات میں گم اونگھتی رات کے ماتھے پہ چمکتی بندیا دیکھ کر ہو گئی ندیا بھی ...