قومی زبان

زہر میں ڈوبی ہوئی سرخ حکایات میں گم

زہر میں ڈوبی ہوئی سرخ حکایات میں گم دل گرفتہ ہے ہوا موجۂ اصوات میں گم منکشف ہوتا ہوا لمحۂ ماضی کا نشاں آنکھ جھپکی تھی ہوا دود خرابات میں گم شام کی ساعت اول میں فلک پر جا کر ہم نے دیکھا ہے سمندر کو خیالات میں گم اونگھتی رات کے ماتھے پہ چمکتی بندیا دیکھ کر ہو گئی ندیا بھی ...

مزید پڑھیے

آرزوئیں سب خاک ہوئیں

آرزوئیں سب خاک ہوئیں سانسیں آخر چاک ہوئیں منظر منظر خوشبوئیں پل میں جل کر راکھ ہوئیں دیکھ کے مردہ لفظوں کو سوچیں بھی نمناک ہوئیں پچھلے پہر جو ابھری تھیں آوازیں خاشاک ہوئیں روشن ہیں سپنوں کے الاؤ اب راتیں بے باک ہوئیں تیرے بدن کی شبنم سے نظریں دھل کر پاک ہوئیں تنہائی پا کر ...

مزید پڑھیے

درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں

درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں بوجھ ایسا بھی نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں یوں سمائی ہے ان آنکھوں میں بتا بھی نہ سکوں دل کی دیوار پہ تصویر سجا بھی نہ سکوں خیریت پوچھتے رہتے ہو مگر حال یہ ہے اس کی آواز میں آواز ملا بھی نہ سکوں آ مرے پاس ذرا سن کے بتا کہتی ہے کیا دل کی دھڑکن ...

مزید پڑھیے

لا سے خلا تک

ابوجہل ان پڑھ کہاں تھا کہ ان پڑھ تو نبی تھے جنہیں لا پہ اصرار تھا اور یہ بھی کہ لا سے خلا تک خلا سے پرے بھی خدا کا جہاں تھا کہ معراج آدم میں تکریم آدم خدا لا مکاں تھا ابوجہل اپنے قبیلے میں افضل تھا عالم صفت تھا کہ اجداد نے جن بتوں کو تراشا ابوجہل نے ان کو سجدہ کیا لا کو جانا تماشا

مزید پڑھیے

دل کے شیشے کے گھر ہیں

دل شیشے کے گھر ہیں ان کو مت ٹکراؤ پھر کچھ اتنے چور ملیں گے چہرے بھی آنکھوں سے اوجھل ہوں گے بے حد دور ملیں گے زہریلی تنہائی چاہت میں اترے گی صوت و صدا کی لہروں میں بھی موج طلب کی غار ہلاکت میں اترے گی دل شیشے کے گھر ہیں ان کو مت ٹکراؤ

مزید پڑھیے

نیا روشن صحیفہ دکھ رہا نئیں

نیا روشن صحیفہ دکھ رہا نئیں خجستہ کوئی لہجہ دکھ رہا نئیں تری سرگوشیوں کا نرم سایہ لگایا زور سارا دکھ رہا نئیں یہیں رکھا تھا خوابوں کے کنارے ترا انمول تحفہ دکھ رہا نئیں دبا کر دل میں جو رکھا تھا شعلہ بہت میں نے کریدا دکھ رہا نئیں تھکن نظروں پہ طاری ہو رہی ہے نہ جانے کیوں وہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے ٹوٹ کر گری تھی نیند

آنکھ سے ٹوٹ کر گری تھی نیند وہ جو مدہوش ہو چکی تھی نیند میری آنکھوں کے کیوں جھروکے تک آ کے چپ چاپ سی کھڑی تھی نیند کس نے چھیڑا ہوا کے لہجے میں کیسی خاموش سی پڑی تھی نیند نیلی آنکھوں کی کر رہا تھا میں جب تلاوت تو جل گئی تھی نیند کتنی پر لطف تھیں مری راتیں ان دنوں جب ہری بھری تھی ...

مزید پڑھیے

روح کو پہلے خاکسار کیا

روح کو پہلے خاکسار کیا پھر بدن میں نے تار تار کیا درد کو شعلۂ خمار کیا شیشۂ غم کو شرمسار کیا انگلیاں اٹھتے اٹھتے گرنے لگیں ہم نے جب آسمان پار کیا میں نہتا تھا کیسے بچ پاتا اور پیچھے سے اس نے وار کیا رائیگاں ہو رہی تھی تنہائی تیری یادوں کا کاروبار کیا جب نظر میں گرہ پڑی ...

مزید پڑھیے

رنگ لائے گا ہماری بے زبانی کا ہنر

رنگ لائے گا ہماری بے زبانی کا ہنر عام ہوگا اب یہاں آتش بیانی کا ہنر اک تبسم سے جگا دی گلستاں کی ہر روش دیکھیے اس رشک گل کی گل فشانی کا ہنر دوستو یہ تو فریب و مصلحت کا دور ہے قصۂ پارینہ ہے اب مہربانی کا ہنر ہم جسے ہم راز سمجھے تھے وہی نکلا رقیب ہم کو لے ڈوبا ہماری خوش گمانی کا ...

مزید پڑھیے

ہر قدم منزل بے نشاں کی طرف

ہر قدم منزل بے نشاں کی طرف یعنی اک لمحۂ امتحاں کی طرف گل نہیں میں اتارو مجھے چاک سے میں چلا کوئے شیشہ گراں کی طرف ہم کو احساس غربت ہوا کچھ سوا جب اٹھائی نظر آسماں کی طرف اپنی بے چارگی بے بسی کی خبر ہم نے بھیجی تو ہے لا مکاں کی طرف یار ہستی اٹھائے کوئی اور اب ہم چلے قریۂ جاوداں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1287 سے 6203