رات
اندھ سے بھرے بستر پر اپنے بے ترتیب کپڑوں میں چھپی اور ناچھپی بکھری ہوئی سہمی ہوئی میری آنکھوں میں خدا کو پڑھ رہی ہے اور ابھی کچھ دیر پہلے گھر کی ساری روشنی اس کی آنکھوں میں غروب ہو گئی ہے
اندھ سے بھرے بستر پر اپنے بے ترتیب کپڑوں میں چھپی اور ناچھپی بکھری ہوئی سہمی ہوئی میری آنکھوں میں خدا کو پڑھ رہی ہے اور ابھی کچھ دیر پہلے گھر کی ساری روشنی اس کی آنکھوں میں غروب ہو گئی ہے
رخ روشن دکھائیے صاحب شمع کو کچھ جلائیے صاحب روح ہو کر سمائیے صاحب میرے قالب میں آئیے صاحب شیخ جی ہو تمہیں سرود حرام آپ اپنی نہ گائیے صاحب وصل کی شب قریب آئی ہے اب نہ مہندی لگائیے صاحب خون عشاق ہے معانی میں شوق سے پان کھائیے صاحب میں تجلی طور دیکھوں گا آج کوٹھے پہ آئیے ...
پانی میں عکس دیکھا جنگل میں رقص دیکھا سورج لباس پہنے چندا سے زیادہ ٹھنڈا اس رات آئینے میں اک ایسا شخص دیکھا چاندنی کے رتھ پر سج کے اس شخص کی سواری اب ہو رہی ہے دیکھو سوئے افق روانہ اب لائے گی وہاں سے کچھ درد کا خزانہ ان منظروں سے ہٹ کے جھرنے کے شور و شر میں ہم نے نہاتے دیکھی اک ...
سمجھا کے خواہشوں کو تمنا کی دھوپ میں وہ آ گئی ہے میرے مکاں کے سراب میں انگارے رکھ رہی ہے مسلسل کتاب پر وہ بد حواس پھاڑ رہی ہے ورق ورق خود میں سمٹ رہا ہوں مگر بھاگتی نہیں لمحے گزر رہے ہیں مگر بھاگتی نہیں اب میں اگر زبان کو پاؤں پہ پھینک دوں وہ مجھ کو تنہا چھوڑ کے لکھ جائے گی کہیں اک ...
آتش عشق سے میری شب تنہائی میں سائے نے بھی نہ دیا ساتھ مری جاں کا وہ ناراض رہا میں نے جب آئنہ دیکھا تو پشیمان ہوا اپنا چہرہ نہ نظر آیا مجھے آئنے میں کوئی ویرانہ تھا پیالہ گردش میں تھا مے اس میں نہیں تھی ہرگز میں بلاتا رہا ساقی کو پہ وہ نکلا نہیں مے خانے سے خس و خاشاک ہوئی میری ...
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر گیا بہت روئے ہیں ہم ہزار بار در پہ تمہارے بیٹھ کے چلمن اٹھا کے ایک دن دیکھا نہیں جناب نے دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم شاید جناب کا گزر اس رہ گزر سے ہو کبھی ہم دیکھ لیں گے گر تمہیں آنکھوں میں دید آئے گی ہم کو نوید امن ...
سیاہ راتوں کے بے اماں راستوں پہ چھٹکے ہوئے یہ چہرے کہ جیسے پت جھڑ میں بکھر گئے ہوں بس ان کی بے چین زخم خوردہ سی پتلیوں میں رقم ہے باقی جو گھومتی ہیں جو منتظر ہیں مرے زمانے میں پھل نہیں ہیں فقط اخزاں کے زوال ہیں اور ایسے طوفاں کہ دیکھتے دیکھتے ہزاروں درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں امید ...
باغ میں اضطراب ایسا ہے جیسے گہر میں کرتا ہے قطرہ اضطراب یہ خزاں کی ہی تو بخشش ہے جو آتی ہے بہار کلفتیں اور اضطراب اور ان کے ساتھ ساتھ وصل خزاں ہی زندگی میں است ہے پیوست ہے یہ اندھیری شب ہے کیسی دور تک جلتی نہیں مشعل کوئی کوئی چراغ دل ہی جلتا ہے مرا اور اس کی روشنی میں بت کدہ کے در ...
رات کئی دنوں سے غائب تھی سخت کہرے کی دبیز ساعتوں میں حلق میں رم کی ایک پوری بوتل جھونک کے سارجنٹ رات کی وجلینس پہ نکلا رات کئی راتوں سے غائب تھی لوٹا آٹھ گھنٹے کے بعد خالی ہاتھ مضمحل نڈھال سا اپنے گھر دیکھا رات بے لباس اس کے سامنے پلنگ پر پڑی ہوئی تھی گاڑ رہا تھا سورج اپنا نیزہ اس ...
آنگن میں اک شجر ہے دالان میں ہوائیں کمرے میں ایک لڑکی اجلی اداس لڑکی واٹر کلر سے دل پہ پتے بنا رہی ہے اتنے میں پیڑ آیا کمرے میں پیڑ آیا پتے گرا کے بولا ''باہر ہوا بہت ہے'' لڑکی تھی پہلے اجلی اب پیلی ہو گئی ہے پھر چند پل بیتے داخل ہوئی ہوائیں پتے اڑا کے بولیں اندر ہوا بہت ہے لڑکی تھی ...