قومی زبان

یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھے

یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھے ایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھے سیر گلشن کو گئے تھے جب آپ یاد تو کیجئے ہم بھی تو نہ تھے ہم سے بے جرم وہ کوچہ چھوٹا شائق باغ ارم بھی تو نہ تھے رحم کرتا نہ فلک کیا کرتا ہم سزا وار ستم بھی تو نہ تھے رہتے کعبہ میں اکیلے کیا ہم دل لگانے کو صنم بھی تو نہ ...

مزید پڑھیے

نسبت وہی ماہ آسماں سے

نسبت وہی ماہ آسماں سے لائیں تشبیہ رخ کہاں سے مسی کی صفت بیاں نہ ہوگی سوسن بھی کہے جو سو زباں سے تشبیہ جو مانگ کی نہ ہاتھ آئے لاؤں میں مانگ کہکشاں سے سودا ہے جو بلبلوں کو گل کا تنکے چن لائیں آشیاں سے یہ حارج شب وہ مانع روز درباں سے لڑوں کہ پاسباں سے جیتیں گے نہ ہم سے بازیٔ ...

مزید پڑھیے

گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے

گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے آج ساغر شراب کا چھلکے سوگ میں میرے مہندی کے بدلے لال کرتے ہیں ہاتھ مل مل کے چھوڑیئے اب طواف کعبہ کا دیر کی گرد ڈھونڈھئے چل کے دل ہے پتھر سا ان کا بھاری ہے ورنہ ہیں کان کے بہت ہلکے تلوا کھجلا رہا ہے پھر میرا یاد کرتے ہیں خار جنگل کے آج مردہ سخیؔ کا ...

مزید پڑھیے

دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا

دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا یا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کا قیس و فرہاد سے میں ہوں واقف ہو چکا ہے مقابلہ سب کا کھائی ہے اک نئی مٹھائی آج بوسہ پایا ہے یار کے لب کا مے کدہ میں شراب پیتے ہیں یہ پتا ہے ہمارے مشرب کا شیعہ سنی میں تو بکھیڑے ہیں نام لوں کس کے آگے مذہب کا ملک الموت سے کہو پھر ...

مزید پڑھیے

گفتگو ہو دبی زبان بہت

گفتگو ہو دبی زبان بہت ہیں لگائے رقیب کان بہت کیوں نہ گردش اٹھائے جان بہت ایک میں اور آسمان بہت گالیوں کی روش کو کم کیجے آپ کی چلتی ہے زبان بہت دل کلیجہ دماغ سینہ و چشم ان کے رہنے کے ہیں مکان بہت ماہ سا رخ سخیؔ کو دکھلایا آج تو تھے وہ مہربان بہت

مزید پڑھیے

ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیں

ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیں ہم کو رغبت اسے کیا کہتے ہیں نقد دل لے کے ہمارا نہ دیا خود بدولت اسے کیا کہتے ہیں روز فرقت بھی تو ہے طول بہت اے قیامت اسے کیا کہتے ہیں ہر پری رو پہ تجھے آ جانا اے طبیعت اسے کیا کہتے ہیں غیر کو بزم میں بٹھلا لینا ہم کو رخصت اسے کیا کہتے ہیں ایک تو عشق ...

مزید پڑھیے

نقش فریادی

نقش فریادی بنا پھرتا ہوں میں بازار میں کاغذی اک پیرہن بس ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں پر وہ ملتا ہی نہیں کس طرح اپنی شکایت کے لئے پہنچوں بادشاہ وقت کے دربار میں بادشاہ بد بخت ہے ہر وقت رہتا ہے مدرا میں اسیر یہ مدرا وہ ہے اس کے ذہن میں ہے جو بھری اس مدرا کے ہی کارن اس نے اپنے دیس کے لوگوں ...

مزید پڑھیے

کاو کاو سخت جانی

کاو کاو سخت جانی اور ایسی تنہائی جذبۂ بے اختیاری اور ایسی تنہائی آتش خاموش میں جلتا رہا اور کوئی وصل کو آیا نہیں وحشت ایسی تھی کہ صحرا بھی جلا وہ بھی جلا تھی وہ داغوں کی بہار تھا چراغاں رات میں اور قیس تھا تصویر میں پھر بھی عریاں ہی تھا وہ اس نے کبھی کپڑے نہ پہنے خوشبو بھرے خوشیاں ...

مزید پڑھیے

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

آندھیاں ہوتی ہیں کیا، طوفان کہتے ہیں کسے! پہلے تو مٹی کی اک ہستی بنا، پھر مجھ سے پوچھا بارشیں ہوتی ہیں کیا، سیلاب کہتے ہیں کسے! پہلے تو کاغذ کی اک کشتی بنا، پھر مجھ سے پوچھا پوچھتا کیا ہے بتا! اے خواب، میرے خیال سے ٹوٹ جاتی ہیں میری نیندیں، ترے سنگار سے دیکھ کر یہ جذبہ بے اختیاری، ...

مزید پڑھیے

حادثہ

شخصیت ہاتھوں میں کانپی ہونٹ ناری بن گئے آسماں ٹوٹا زمیں پگھلی بدن کی چاندنی صوفے پہ اوندھی گر پڑی اک کرن جانے کہاں سے روشنی کی نہر میں آ کر گری دیوتا قامت بدن تحلیل ہو کر جام میں ان گنت رتیلے خوابوں کا خدا بن ہی گیا اور شہر سنگ میں پھر موم کا جادو چلا چاقو چلا

مزید پڑھیے
صفحہ 1281 سے 6203