گھر کی دیواروں کو ہم نے اور اونچا کر لیا
گھر کی دیواروں کو ہم نے اور اونچا کر لیا شور صد محشر سنا اور خود کو بہرا کر لیا بند نافہ کی طرح رہتے ہیں اپنے آپ میں اپنی خوشبو سے معطر دل کا صحرا کر لیا درد مہجوری کا آئینہ ہے اپنے روبرو جب نظر آیا نہ تو اپنا تماشا کر لیا در پہ ہر امید کے پھیلا دیا دامان دل کج کلاہ زندگی نے خود ...