قومی زبان

گھر کی دیواروں کو ہم نے اور اونچا کر لیا

گھر کی دیواروں کو ہم نے اور اونچا کر لیا شور صد محشر سنا اور خود کو بہرا کر لیا بند نافہ کی طرح رہتے ہیں اپنے آپ میں اپنی خوشبو سے معطر دل کا صحرا کر لیا درد مہجوری کا آئینہ ہے اپنے روبرو جب نظر آیا نہ تو اپنا تماشا کر لیا در پہ ہر امید کے پھیلا دیا دامان دل کج کلاہ زندگی نے خود ...

مزید پڑھیے

جس کو دیکھو وہی آوارہ و سودائی ہے

جس کو دیکھو وہی آوارہ و سودائی ہے زندگی ہے کہ کسی دشت کی پہنائی ہے شعلۂ غم کو رگ جاں میں کیا جذب تو پھر ہر نظر صورت خورشید نظر آئی ہے ڈوب کر دل میں ابھرتی ہے کوئی موج خیال ابر چھایا ہے کبھی برق سی لہرائی ہے گیت کے روپ میں پابند بہاروں کی فضا چمن دل میں مرے اور نکھر آئی ہے لذت ...

مزید پڑھیے

رہ گیا انساں اکیلا بستیوں کے درمیاں

رہ گیا انساں اکیلا بستیوں کے درمیاں گم ہوا سورج خود اپنی تابشوں کے درمیاں ہاتھ لگتے ہی بکھر جاتے ہیں رنگوں کی طرح پھول سے پیکر سمے کی آندھیوں کے درمیاں روح کی اندھی گلی میں چیختا ہے رات دن جسم کا زخمی پرندہ خواہشوں کے درمیاں بن گیا زنجیر میرے پاؤں کی میرا وجود قید ہے دریا بھی ...

مزید پڑھیے

اوجھل ہوں نگاہوں سے مگر دل میں پڑے ہو

اوجھل ہوں نگاہوں سے مگر دل میں پڑے ہو لیلیٰ کی طرح کون سے محمل میں پڑے ہو در پردہ سہی سحر نظارہ کے اثر سے سو طرح سے تم دیدۂ غافل میں پڑے ہو کھلنے لگے اسرار وفا دیدہ و دل پر جس دن سے غم ہجر کی مشکل میں پڑے ہو آوارگئ دل بھی گئی قید وفا بھی جس دن سے محبت کے سلاسل میں پڑے ہو ہر لحظہ ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی کر پائے نہ ہم ہجر کی حیرانی میں

کچھ بھی کر پائے نہ ہم ہجر کی حیرانی میں گھر بھی ویران کیا دل کی پریشانی میں رنگ ہی رنگ ہیں بکھرے ہوئے دامن میں مرے رچ گیا ہے مری آنکھوں کا لہو پانی میں جسم اپنا بھی مہکتا ہوا گلزار لگا پھر ترے غم کی ہوا آئی ہے جولانی میں یوں نگاہوں میں اترنے لگے یادوں کے نجوم درد بھی محو ہوا ...

مزید پڑھیے

غم ہوں جو اپنے آپ میں رستا دکھائی دے

غم ہوں جو اپنے آپ میں رستا دکھائی دے دریا میں ڈوب کر ہی کنارا دکھائی دے دیکھو جو غور سے کبھی چہروں کی وحشتیں آبادیوں میں بھی تمہیں صحرا دکھائی دے سورج کی روشنی میں کبھی اپنی سمت دیکھ تاریکیوں میں کیا تجھے سایہ دکھائی دے نظروں میں بس گیا مرے دل میں اتر گیا صورت سے اجنبی کہ جو ...

مزید پڑھیے

دھواں دھواں ہیں نگاہوں کی بستیاں کیا کیا

دھواں دھواں ہیں نگاہوں کی بستیاں کیا کیا چمک رہی ہیں خیالوں کی بجلیاں کیا کیا بھنور کی آنکھ سے تکتے ہی رہ گئے طوفاں پہنچ گئی ہیں کناروں پہ کشتیاں کیا کیا ملے گی میری بھی کشت نظر کو سیرابی ہر ایک سمت اچھلتی ہیں ندیاں کیا کیا مری نگاہ کے دامن کو کھینچ لیتی ہیں ترے خیال کی گل پوش ...

مزید پڑھیے

لفظ ناگن کی طرح ڈستے ہیں گویائی میں

لفظ ناگن کی طرح ڈستے ہیں گویائی میں خامشی زہر ملا دیتی ہے تنہائی میں دل کی باتوں کو زباں پر نہیں آنے دیتے کتنی زنجیریں نظر آتی ہیں یکجائی میں ٹھہرے پانی میں گرا سنگ روانی کوئی چاہیے تازہ ہوا روح کی گہرائی میں کیا نظر آئے گا موسم کے نشے میں تجھ کو کتنے پتے ہیں کہ اڑ جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

زخم سینے پہ لگا آنکھ سے آنسو نکلے

زخم سینے پہ لگا آنکھ سے آنسو نکلے غم کی آہٹ سے کئی درد کے آہو نکلے حلقۂ ریگ رواں دشت کے دریا کا بھنور وحشت دل کے سفینے میں اگر تو نکلے بد گمانی کی نگاہوں سے جو دیکھا ہے تجھے تیری ہر بات میں سو طرح کے پہلو نکلے مہک اٹھے یہ بیاباں بھی گلستاں کی طرح قید گلزار سے آزاد جو خوشبو ...

مزید پڑھیے

ہم برے لوگ ہیں

تم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کی تم کہ تکرار کے خوگر بھی نہ تھے تم ہی اچھے تھے جو منجملۂ ارباب نظر رہتے تھے شہر پر حوصلہ میں شیوۂ اہل ہنر پر کبھی تنقید نہ کی اتنے بے بس تھے کہ جب وقت پڑا اپنی بھی تائید نہ کی ہم برے لوگ ہیں سچ کہتے ہیں ہم برے لوگ ہیں خوش نودیٔ ارباب اثر کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1260 سے 6203