قومی زبان

بظاہر تو پرایا بھی نہیں ہے

بظاہر تو پرایا بھی نہیں ہے وہ اپنا ہو کے بھی اپنا نہیں ہے مرے لب سے ہنسی چھینی تھی جس نے سنا ہے وہ بھی اب ہنستا نہیں ہے مری آوارگی پہ راستوں نے مجھے پوچھا کوئی تیرا نہیں ہے زمانہ منتظر ہے اس لہو کا جو میری آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے مجھے تو خوف اپنے آپ سے ہے کسی سے ڈر مجھے لگتا نہیں ...

مزید پڑھیے

رحمت بن کے اتری تھی کیوں زحمت بن گئی بیٹی

رحمت بن کے اتری تھی کیوں زحمت بن گئی بیٹی میرا جرم گنہ بتلا دو پوچھتی رہ گئی بیٹی بڑھتی ہوئی تکرار جہیز کی اور غربت کا بوجھ اپنے آپ کو آگ لگا کے پھر اک مر گئی بیٹی باغی نا فرمان بنی اور کبھی کلنک کا ٹیکہ حق کی خاطر جب بھی کسی اصول پہ اڑ گئی بیٹی یہ لڑکی کمزور سی لڑکی مریم بھی ہے ...

مزید پڑھیے

تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا

تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا یاد رکھنا ہمیں آتا ہے بغاوت کرنا دونوں میدانوں میں اپنا نہیں ثانی کوئی ہم سے تم سوچ کے نفرت یا محبت کرنا خود سکھائے تھے جسے ہم نے یہ الفت آداب اب یہ لازم ہے کھلے اس پہ عداوت کرنا خود بخود لوگ بٹھائیں گے تمہیں پلکوں پر پہلے خود سیکھ تو لو اوروں ...

مزید پڑھیے

گلستاں ویران دیکھا

گلستاں ویران دیکھا دشت پر امکان دیکھا جب بھی جھانکا شہر دل میں یہ نگر سنسان دیکھا اس کو پا کر یوں لگا ہے اک کھرا انسان دیکھا کھنکھناہٹ کی دھنوں پر ناچتا ایمان دیکھا پھونک کر تحریر اس کی پہروں آتش دان دیکھا تھا وہی دل کا غنی جو بے سر و سامان دیکھا

مزید پڑھیے

کس کی آرزو تھے ہم کس نے بے اماں چھوڑا

کس کی آرزو تھے ہم کس نے بے اماں چھوڑا چھوڑو بیتی باتوں کو کس نے کیوں کہاں چھوڑا پیچھے پیچھے ہو لیتے جا کے ہم منا لیتے وہ تو یوں گیا کوئی نام نہ نشاں چھوڑا منہ چھپاتے پھرتے ہیں آپ اپنے دامن میں اس نے اس طرح چھوڑا کہ پھر کہیں کا نہ چھوڑا بات بات پر ہم کو جان چھوڑو کہتے ہو دعویٰ ہے ...

مزید پڑھیے

خاک بستہ ہیں تہ خاک سے باہر نہ ہوئے

خاک بستہ ہیں تہ خاک سے باہر نہ ہوئے جسم اپنے کبھی پوشاک سے باہر نہ ہوئے جرأت‌ بازوئے پیراک سے باہر نہ ہوئے یہ سمندر مری املاک سے باہر نہ ہوئے ذہن خفتہ نے ہمہ وقت سعی کی لیکن فکر کے زاویے ادراک سے باہر نہ ہوئے زخم دیتی ہے نیا روز مجھے بھوک مری یہ مصائب مری خوراک سے باہر نہ ...

مزید پڑھیے

غبار فکر کو تحریر کرتا رہتا ہوں

غبار فکر کو تحریر کرتا رہتا ہوں میں اپنا درد ہمہ گیر کرتا رہتا ہوں ردائے لفظ چڑھاتا ہوں تربت دل پر غزل کو خاک در میرؔ کرتا رہتا ہوں نبرد آزما ہو کر حیات سے اپنی ہمیشہ فتح کی تدبیر کرتا رہتا ہوں نہ جانے کون سا خاکہ کمال فن ٹھہرے ہر اک خیال کو تصویر کرتا رہتا ہوں بدلتا رہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

جب آسمان زمیں پر اترنے لگتا ہے

جب آسمان زمیں پر اترنے لگتا ہے تو زندگی کا تصور بکھرنے لگتا ہے کرید لیتا ہوں تیرے خیال سے اکثر تری وفا کا اگر زخم بھرنے لگتا ہے جسے فریب ملا ہو وفاؤں کے بدلے وہ شخص اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگتا ہے میں جب سمٹتا ہوں حالات کی پناہوں میں مرا وجود شکستہ بکھرنے لگتا ہے زمانہ کیوں نہ ...

مزید پڑھیے

پیش ادراک مری فکر کے شانے کھل جائیں

پیش ادراک مری فکر کے شانے کھل جائیں ہر طرف عالم امکاں کے بہانے کھل جائیں تجھ پہ موقوف ہے دنیا کی تہی دامانی تو جو کھل جائے تو عالم کے خزانے کھل جائیں پھر سے آنکھوں کو مری نور بصیرت ہو عطا اس صنم خانے میں پھر آئنہ خانے کھل جائیں شمع ہستی ہوئی بیدار فلک سے کہہ دو اژدہان شب ظلمت ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں بن کے جو سینے میں رہا کرتا تھا

دھڑکنیں بن کے جو سینے میں رہا کرتا تھا کیا عجب شخص تھا جو مجھ میں جیا کرتا تھا ناخن وقت نے ہر نقش کھرچ ڈالا ہے میرا چہرہ مری پہچان ہوا کرتا تھا کائی ہونٹوں پہ ہمہ وقت جمی رہتی تھی ایک دریا مری آنکھوں میں تھما کرتا تھا اک تلاطم تھا تہہ آب سکوت دریا دل خاموش میں اک شور رہا کرتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1250 سے 6203