ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے
ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے تم کرو مشق ستم خیر تمہیں کیا اس سے صبح نو اب ہے شب غم میں بدلنے والی پھر نہ مل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر کتنے رسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے کاش آ جاتے کبھی پرسش غم کو میری کچھ تو رہ جاتا بھرم خیر ...