قومی زبان

ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے

ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے تم کرو مشق ستم خیر تمہیں کیا اس سے صبح نو اب ہے شب غم میں بدلنے والی پھر نہ مل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر کتنے رسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے کاش آ جاتے کبھی پرسش غم کو میری کچھ تو رہ جاتا بھرم خیر ...

مزید پڑھیے

جو لوگ چھوڑ کے نقش قدم گئے ہوں گے

جو لوگ چھوڑ کے نقش قدم گئے ہوں گے کہوں میں کیسے کہ سوئے عدم گئے ہوں گے طلسم خانۂ محویت خیال نہ پوچھ نہ آئے ہوں گے یہاں وہ نہ ہم گئے ہوں گے جو ظلم ڈھایا ہے انساں نے آج انساں پر فرشتے بھی اسے سن کر سہم گئے ہوں گے حرم ہی کیا ترے دیوانے جستجو میں تری بتوں کے در پہ خدا کی قسم گئے ہوں ...

مزید پڑھیے

گھڑی دو گھڑی کے لئے کبھی جو تم آئے بھی وہی شان سے (ردیف .. و)

گھڑی دو گھڑی کے لئے کبھی جو تم آئے بھی وہی شان سے ہمیں شکوہ ہے تو اسی کا ہے کبھی حوصلے سے ملا کرو ابھی آسماں کی جو ہے نظر تو اسی کا زعم ہے ہر طرف یہ تو وقت وقت کی بات ہے مرے حال پر نہ ہنسا کرو کبھی لالہ زار تھا یہ چمن جو کہ اب خزاں میں بدل گیا کہیں باغباں کا پتا نہیں چلو بڑھ کے اس کا ...

مزید پڑھیے

اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا

اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا میں مانگوں قاتلوں سے خوں بہا کیا تمہیں پچھتاوے کا ہے روگ کافی تمہیں دے کر کروں میں بد دعا کیا مجھے یوں کر کے موجوں کے حوالے سکوں سے سو سکے گا ناخدا کیا نگہ کا اٹھنا تھا رازوں کا کھلنا مری آنکھوں میں تو نے لکھ دیا کیا میرے بالوں سے کلیاں نوچ لیں ...

مزید پڑھیے

ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں

ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں تمہیں سوچا شرمائے بہت ہیں جسے پھولوں کے تحفے ہم نے بھیجے اسی نے سنگ برسائے بہت ہیں جو سچ پوچھو تو اب کے یوں ہوا ہے تیرے غم سے بھی اکتائے بہت ہیں چبھے پاؤں میں کانٹے یاد آیا کہ ہم نے پیل ٹھکرائے بہت ہیں اور اب تو غم چھپانا آ گیا ہے کہ آنسو پی کے ...

مزید پڑھیے

جدائی کے چار موسم

پہلا موسم جلدی آنا دیکھ بہاریں آنے کو ہیں کلی کلی مسکانے کو ہے دوسرا موسم آ بھی جا نا کہیں بہاریں بیت نہ جائیں پھر یہ جدائیاں جیت نہ جائیں تیسرا موسم اب جو آنا ساتھ میں اک چنگاری لانا ڈھیر ہے اک سوکھے پتوں کا آخری موسم اب نہ آنا پتا پتا بکھر چکا ہے

مزید پڑھیے

نظم

میرے ہم راہ دکھوں کا یہ جھمیلا کیوں ہے زندگی تو ہی بتا تیرا رویہ مجھ سے اس قدر روٹھا ہوا اتنا سوتیلا کیوں ہے

مزید پڑھیے

نظم

میں پونم کا چاند ہوں جسے جبر کے گہن نے کھا لیا میرے حسین و جمیل اللہ حسین ہر معاملہ میرا کر دے شکستہ دل ہوں شکستہ پر ہوں شکستگی کو شگفتہ کر دے

مزید پڑھیے

بچپن

بچپن کے دکھ کتنے اچھے ہوتے تھے تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں تتلی کے پر نوچ کے ناچا کرتے تھے پاؤں مار کے خود بارش کے پانی میں اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے چھوٹے تھے تو مکر و فریب بھی چھوٹے تھے دانہ ڈال کے چڑیا پکڑا کرتے تھے اپنے جل جانے کا بھی ...

مزید پڑھیے

رنگ نکھرتے پھول بکھرتے جائیں گے

رنگ نکھرتے پھول بکھرتے جائیں گے جانے والے اک دن لوٹ کے آئیں گے جھوٹی سچی باتیں ان کی مت سننا پیار کے دشمن لوگ تمہیں بہکائیں گے تیرے بعد جدائیاں کیسے کاٹی ہیں اک اک لمحہ اک اک پل دہرائیں گے ہوش خرد اور عقل و خرد کے معنی اب دیوانے فرزانوں کو سمجھائیں گے امڈ رہی ہے یادوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1249 سے 6203