قومی زبان

ہزاروں رنج ملے سینکڑوں ملال ملے

ہزاروں رنج ملے سینکڑوں ملال ملے ہم اپنے آپ سے جب بھی ملے نڈھال ملے ہر ایک شخص سے ملنا کہاں مناسب تھا ملے انہیں سے جہاں دل ملے خیال ملے وفا کی راہ میں کس پر نہ تہمتیں آئیں کوئی تو ایسی زمانے میں اک مثال ملے نہیں ہے تیرے جہاں میں کوئی بھی شے ایسی جسے عروج ملے اور نہ پھر زوال ...

مزید پڑھیے

کبھی ملی ہے جو فرصت تو یہ حساب کیا

کبھی ملی ہے جو فرصت تو یہ حساب کیا ثواب کتنے کئے کتنا ارتکاب کیا ہمیشہ اپنے عمل کا خود احتساب کیا خود اپنے آپ کو ایسے بھی بے نقاب کیا تمام عمر بھٹکتے رہے گمانوں میں وہ شے ملی ہی نہیں جس کا انتخاب کیا دراز کر نہ سکے پھر بھی کاسۂ غیرت طرح طرح سے طبیعت نے بے حجاب کیا کبھی تو ضبط ...

مزید پڑھیے

مخالف جب سے آئینہ ہوا ہے

مخالف جب سے آئینہ ہوا ہے مرا چہرہ ہی کچھ بدلا ہوا ہے اسے بھولے ہوئے عرصہ ہوا ہے یہ سچ ہے یا مجھے دھوکا ہوا ہے کوئی کھیلا کسی نے توڑ ڈالا یہ دل کے ساتھ بھی کیا کیا ہوا ہے کنارے لگ گیا گستاخ تنکا سمندر فکر میں ڈوبا ہوا ہے سمٹنے کا بھی ہے اب ہوش کس کو ابھی رخت سفر بکھرا ہوا ...

مزید پڑھیے

سالم یقین عظمت سحر خدا نہ توڑ

سالم یقین عظمت سحر خدا نہ توڑ مایوس ہو کے کاسہ دست دعا نہ توڑ شیرازۂ حیات بکھر جائے گا مرا اے سنگ زاد شیشۂ عہد وفا نہ توڑ کچھ اور ہونے دے رہ منزل کو تیز گام اے خضر تو ابھی مری زنجیر پا نہ توڑ تیشے کی ضرب سہہ نہیں سکتا ہر اک وجود آذر ہر ایک پیکر سنگ انا نہ توڑ چہرے کی سلوٹوں کا ...

مزید پڑھیے

مجھے جب بھی کبھی تیری کمی محسوس ہوتی ہے

مجھے جب بھی کبھی تیری کمی محسوس ہوتی ہے تری خوشبو تری موجودگی محسوس ہوتی ہے یہی انعام ہے شاید مری چہرہ شناسی کا خود اپنی شکل بھی اب اجنبی محسوس ہوتی ہے یونہی بے کیف لمحوں کے گزر جانے سے کیا حاصل کسی کا ساتھ ہو تو زندگی محسوس ہوتی ہے کسی کی یاد کے جگنو سفر میں جھلملاتے ...

مزید پڑھیے

آج شاید زندگی کا فلسفہ سمجھا ہوں میں

آج شاید زندگی کا فلسفہ سمجھا ہوں میں ہوں ضرورت زندگی کی اس لئے زندہ ہوں میں ہے مری تخلیق میں عنصر بغاوت کا کوئی جس جگہ پابندیاں تھیں اس جگہ پہنچا ہوں میں اک عجب سا ہے تعلق اس کے میرے درمیاں ایسا لگتا ہے کہ اس کی ذات کا حصہ ہوں میں ہیں نمایاں جس کے چہرے پر حقیقت کے نقوش تیرے شہر ...

مزید پڑھیے

وہ تیرگیٔ شب ہے کہ گھر لوٹ گئے ہیں

وہ تیرگیٔ شب ہے کہ گھر لوٹ گئے ہیں اس در سے ابھی نجم و قمر لوٹ گئے ہیں اے موسم گل تو ابھی آیا ہے یہاں پر جب شاخ و شجر دیدۂ تر لوٹ گئے ہیں شب بھر تو تری یاد کا میلہ سا لگا تھا اس بھیڑ میں کچھ خواب سحر لوٹ گئے ہیں ہم ہیں کہ ترے ساتھ چلے جاتے ہیں ورنہ سب لوگ شروعات سفر لوٹ گئے ہیں جب ...

مزید پڑھیے

ہر چند مرا شوق سفر یوں نہ رہے گا

ہر چند مرا شوق سفر یوں نہ رہے گا کیا خار سر راہ گزر یوں نہ رہے گا ممکن ہے تری یاد سلگتی رہے تا عمر یہ شعلہ شرر بار مگر یوں نہ رہے گا اس دھوپ میں میری بھی جھلس جائیں گی آنکھیں تیرا بھی رخ غنچۂ تر یوں نہ رہے گا موقعہ ہے گل و برگ سجا لو سر مژگاں ہر فصل میں سر سبز شجر یوں نہ رہے گا کچھ ...

مزید پڑھیے

تری تلاش میں گزرے کئی زمانے مجھے

تری تلاش میں گزرے کئی زمانے مجھے خدا ہی جانے تو جانے ہے یا نہ جانے مجھے دھواں دھواں ہیں جہاں پر خیال کی راہیں مثال گرد اڑایا تری ہوا نے مجھے نہ اس طرح مجھے دیکھو کہ جیسے پتھر ہوں جو ہو سکے تو پکاروں کسی بہانے مجھے وہ بات بات پہ ہنسنا تری ادا ہی سہی تمام عمر رلایا ہے اس ادا نے ...

مزید پڑھیے

دل میں اوروں کے لئے کینہ و کد رکھتے ہیں

دل میں اوروں کے لئے کینہ و کد رکھتے ہیں لوگ اخلاص کے پردے میں حسد رکھتے ہیں آپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے ڈر لگتا ہے آپ تو پیار کے رشتوں میں بھی حد رکھتے ہیں یہ ضروری نہیں دل ان کے ہوں حق سے معمور وہ جو چہروں پہ عبادت کی سند رکھتے ہیں کیا پتہ کب کسی رشتے کا بھروسہ ٹوٹے ایسے لوگوں سے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1251 سے 6203