قومی زبان

دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں

دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں سایوں کے انتظار میں شب بھر کھڑا ہوں میں کیا ہو گیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مری کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں پھیلا ہوا ہے سامنے صحرائے بے کنار آنکھوں میں اپنی لے کے سمندر کھڑا ہوں میں سناٹا میرے چاروں طرف ہے بچھا ہوا بس دل کی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے یہ کاروبار دنیا بے کار چل رہا ہے وہ جو زمیں پہ کب سے اک پاؤں پر کھڑا تھا سنتے ہیں آسماں کے اس پار چل رہا ہے کچھ مضمحل سا میں بھی رہتا ہوں اپنے اندر وہ بھی بہت دنوں سے بیمار چل رہا ہے شوریدگی ہماری ایسے تو کم نہ ہوگی دیکھو وہ ہو کے کتنا تیار چل ...

مزید پڑھیے

جنون

فضائیں تھک چکی ہیں جسم ڈھوتی گاڑیوں کی سسکیاں اور سائرن کے بین سن سن کے در و دیوار کے نتھنے جھلسنے لگ گئے بارود کی بو سے بدن کے چیتھڑے چن چن کے اب بیزار ہیں گلیاں وہ ملبہ آگ کا چاٹا ہوا ملبہ اکٹھا کرتے کرتے خاک داں تنگ آ چکے ہیں مگر انسان اکتاتا نہیں ہے

مزید پڑھیے

نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتا ہے

نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتا ہے مرے مکاں میں وہ دیوار و در سا رہتا ہے کبھی کبھی تو ابھرتی ہے چیخ سی کوئی کہیں کہیں مرے اندر کھنڈر سا رہتا ہے وہ آسماں ہو کہ پرچھائیں ہو کہ تیرا خیال کوئی تو ہے جو مرا ہم سفر سا رہتا ہے میں جوڑ جوڑ کے جس کو زمانہ کرتا ہوں وہ مجھ میں ٹوٹا ہوا ...

مزید پڑھیے

مرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے

مرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے اب مجھے خود سے نکلنے کی اجازت دی جائے موت سے مل لیں کسی گوشۂ تنہائی میں زندگی سے جو کسی دن ہمیں فرصت دی جائے بے خدوخال سا اک چہرا لیے پھرتا ہوں چاہتا ہوں کہ مجھے شکل و شباہت دی جائے بھرے بازار میں بیٹھا ہوں لیے جنس وجود شرط یہ ہے کہ مری خاک ...

مزید پڑھیے

حدود شہر طلسمات سے نہیں نکلا

حدود شہر طلسمات سے نہیں نکلا میں اپنے دائرۂ ذات سے نہیں نکلا ابھی تو خود پہ مرا اختیار باقی ہے ابھی تو کچھ بھی مرے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ وقت بن کے مرے سامنے رہا ہر دن تمام عمر میں اوقات سے نہیں نکلا

مزید پڑھیے

نئے جہانوں کا اک استعارہ کر کے لاؤ

نئے جہانوں کا اک استعارہ کر کے لاؤ بدن کی خاک اٹھاؤ ستارہ کر کے لاؤ وگرنہ عشق میں اک آنچ کی کمی ہوگی یہ دل ہے جاؤ اسے پارہ پارہ کر کے لاؤ تمہارے پاس ہی ہم خود کو چھوڑ آئے ہیں کبھی تم آؤ تو ہم کو ہمارا کر کے لاؤ ہوس کے گہرے سمندر سے ہیں گھرے ہوئے ہم ہمارے سامنے خود کو کنارا کر کے ...

مزید پڑھیے

خود اپنی خواہشیں خاک بدن میں بونے کو

خود اپنی خواہشیں خاک بدن میں بونے کو مرا وجود ترستا ہے میرے ہونے کو یہ دیکھنا ہے کہ باری مری کب آئے گی کھڑا ہوں ساحل دریا پہ لب بھگونے کو ابھی سے کیا رکھیں آنکھوں پہ سارے دن کا حساب ابھی تو رات پڑی ہے یہ بوجھ ڈھونے کو نہ کوئی تکیۂ غم ہے نہ کوئی چادر خواب ہمیں یہ کون سا بستر ملا ...

مزید پڑھیے

بوسہ

جھیل کنارہ حبس میں ڈوبی بوجھل بھاری شام تین طرف جنگل کی خوشبو چوتھی کھونٹ طلسم سات درا اک شہر کہ جس میں صدیوں بوڑھے بھید پہلے در کا بھید ہوا الہام ابھی اس پل میں ہاتھوں سے تن ڈھکتی مورت میں آدم کا جایا تو بھی کچھ تو بول ترا کیا نام ابھی اس پل میں

مزید پڑھیے

سن باتھ

تمہارے ہاتھ کی خوشبو مرے الجھے ہوئے بالوں سے لپٹی ہے تمہارے لمس کا ہر ذائقہ محفوظ ہے اب تک مری پوروں کے ہونٹوں پر بدن پر گھاس کے پتوں نے رستہ روک رکھا تھا پسینے کی لکیروں کا مری بھیگی ہتھیلی کے تلے خواہش بدن میں کپکپاتی تھی تو جیسے جھیل کے ساحل پہ ٹھہری کشتیاں اٹھکھیلیاں کرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1246 سے 6203