دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں
دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں سایوں کے انتظار میں شب بھر کھڑا ہوں میں کیا ہو گیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مری کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں پھیلا ہوا ہے سامنے صحرائے بے کنار آنکھوں میں اپنی لے کے سمندر کھڑا ہوں میں سناٹا میرے چاروں طرف ہے بچھا ہوا بس دل کی ...