اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے
اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے دشت میں بھی در و دیوار کی بیماری ہے ایک ہی موت بھلا کسے کرے اس کا علاج زندگانی ہے کہ سو بار کی بیماری ہے بس اسی وجہ سے قائم ہے مری صحت عشق یہ جو مجھ کو تیرے دیدار کی بیماری ہے لوگ اقرار کرانے پہ تلے ہیں کہ مجھے اپنے ہی آپ سے انکار کی بیماری ہے یہ ...