قومی زبان

اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے

اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے دشت میں بھی در و دیوار کی بیماری ہے ایک ہی موت بھلا کسے کرے اس کا علاج زندگانی ہے کہ سو بار کی بیماری ہے بس اسی وجہ سے قائم ہے مری صحت عشق یہ جو مجھ کو تیرے دیدار کی بیماری ہے لوگ اقرار کرانے پہ تلے ہیں کہ مجھے اپنے ہی آپ سے انکار کی بیماری ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ہوا سے استفادہ کر لیا ہے

ہوا سے استفادہ کر لیا ہے چراغوں کو لبادہ کر لیا ہے بہت جینے کی خواہش ہو رہی تھی سو مرنے کا ارادہ کر لیا ہے میں گھٹتا جا رہا ہوں اپنے اندر تمہیں اتنا زیادہ کر لیا ہے جو کاندھوں پر اٹھائے پھر رہا تھا وہ خیمہ ایستادہ کر لیا ہے نہ تھا کچھ بھی مری پیچیدگی میں تو میں نے خود کو سادہ ...

مزید پڑھیے

بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے

بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے سو تاحد نظر وہم و گماں پھیلا ہوا ہے ہمارے پاؤں سے کوئی زمیں لپٹی ہوئی ہے ہمارے سر پہ کوئی آسماں پھیلا ہوا ہے یہ کیسی خامشی میرے لہو میں سرسرائی یہ کیسا شور دل کے درمیاں پھیلا ہوا ہے تمہاری آگ میں خود کو جلایا تھا جو اک شب ابھی تک میرے کمرے ...

مزید پڑھیے

پس نگاہ کوئی لو بھڑکتی رہتی ہے

پس نگاہ کوئی لو بھڑکتی رہتی ہے یہ رات میرے بدن پر سرکتی رہتی ہے میں آپ اپنے اندھیروں میں بیٹھ جاتا ہوں پھر اس کے بعد کوئی شے چمکتی رہتی ہے ندی نے پاؤں چھوئے تھے کسی کے اس کے بعد یہ موج تند فقط سر پٹکتی رہتی ہے میں اپنے پیکر خاکی میں ہوں مگر مری روح کہاں کہاں مری خاطر بھٹکتی رہتی ...

مزید پڑھیے

ذہن کی قید سے آزاد کیا جائے اسے

ذہن کی قید سے آزاد کیا جائے اسے جس کو پانا نہیں کیا یاد کیا جائے اسے تنگ ہے روح کی خاطر جو یہ ویرانۂ جسم تم کہو تو عدم آباد کیا جائے اسے زندگی نے جو کہیں کا نہیں رکھا مجھ کو اب مجھے ضد ہے کہ برباد کیا جائے اسے یہ مرا سینۂ خالی چھلک اٹھے گا ابھی میرے اندر اگر ایجاد کیا جائے ...

مزید پڑھیے

میری ارزانی سے مجھ کو وہ نکالے گا مگر (ردیف .. ے)

میری ارزانی سے مجھ کو وہ نکالے گا مگر اپنے اوپر ایک دن قربان کر دے گا مجھے منجمد کر دے گا مجھ میں آ کے وہ سارا لہو دیکھتے ہی دیکھتے بے جان کر دے گا مجھے کتنا مشکل ہو گیا ہوں ہجر میں اس کے سو وہ میرے پاس آئے گا اور آسان کر دے گا مجھے رفتہ رفتہ ساری تصویریں دمکتی جائیں گی اپنے کمرے ...

مزید پڑھیے

ایک ہنگامہ بپا ہے عرصۂ افلاک پر

ایک ہنگامہ بپا ہے عرصۂ افلاک پر خامشی پھیلا رکھی ہے آج میں نے خاک پر اب مرا سارا ہنر مٹی میں مل جانے ہے ہاتھ اس نے رکھ دئے ہیں دیدۂ نمناک پر روز بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بینائی مری روز رکھ دیتا ہوں آنکھوں کو تیری پوشاک پر

مزید پڑھیے

بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارۂ خواب

بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارۂ خواب سو ہم اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں خسارۂ خواب وہ اک چراغ مگر ہم سے دور دور جلا ہمیں نے جس کو بنایا تھا استعارۂ خواب چمک رہی ہے اک آواز میرے حجرے میں کلام کرتا ہے آنکھوں سے اک ستارۂ خواب میں اہل دنیا سے مصروف جنگ ہو جاؤں کہ پچھلی رات ملا ہے ...

مزید پڑھیے

سکوت ارض و سما میں خوب انتشار دیکھوں

سکوت ارض و سما میں خوب انتشار دیکھوں خلا میں اپنی صدا کا پھیلا غبار دیکھوں عجب نہیں ہے کہ آ ہی جائے وہ خوش سماعت دیار دل سے میں کیوں نہ اس کو پکار دیکھوں کھڑی ہے دیوار آنسوؤں کی مرے برابر تو کس طرح میں تری تمنا کے پار دیکھوں بکھرتا جاتا ہوں جیسے تسبیح کے ہوں دانے جب اس کے آنسو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سانس کے پیچھے کوئی بلا ہی نہ ہو

ہر ایک سانس کے پیچھے کوئی بلا ہی نہ ہو میں جی رہا ہوں تو جینا مری سزا ہی نہ ہو جو ابتدا ہے کسی انتہا میں ضم تو نہیں جو انتہا ہے کہیں وہ بھی ابتدا ہی نہ ہو مری صدائیں مجھی میں پلٹ کے آتی ہیں وہ میرے گنبد بے در میں گونجتا ہی نہ ہو بجھا رکھے ہیں یہ کس نے سبھی چراغ ہوس ذرا سا جھانک کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1245 سے 6203