ابر سرکا چاند کی چہرہ نمائی ہو گئی
ابر سرکا چاند کی چہرہ نمائی ہو گئی اک جھلک دیکھا اسے اور آشنائی ہو گئی سو گیا تو خواب اپنے گھر میں لے آئے مجھے جیسے میری وقت سے پہلے رہائی ہو گئی میرے کمرے میں کوئی تصویر پہلے تو نہ تھی اس کو دیکھا سادے کاغذ پر چھپائی ہو گئی میں کھلی چھت سے اتر آیا بھرے بازار میں سامنے کھڑکی کی ...