قومی زبان

ابر سرکا چاند کی چہرہ نمائی ہو گئی

ابر سرکا چاند کی چہرہ نمائی ہو گئی اک جھلک دیکھا اسے اور آشنائی ہو گئی سو گیا تو خواب اپنے گھر میں لے آئے مجھے جیسے میری وقت سے پہلے رہائی ہو گئی میرے کمرے میں کوئی تصویر پہلے تو نہ تھی اس کو دیکھا سادے کاغذ پر چھپائی ہو گئی میں کھلی چھت سے اتر آیا بھرے بازار میں سامنے کھڑکی کی ...

مزید پڑھیے

ہوں میں بھی وہی میرا مقابل بھی وہی ہے

ہوں میں بھی وہی میرا مقابل بھی وہی ہے پتھر بھی وہی آئینۂ دل بھی وہی ہے مجبور ہوں میں آب و ہوا ہے مری مختار جو لالہ و گل کی ہے مری گل بھی وہی ہے جیسے وہ کسی آئنہ خانہ میں مکیں ہو پیکر بھی وہی عکس وہی ظل بھی وہی ہے یہ خواب کا عالم ہے کہ لمحات ہیں ساکت میں اب بھی وہیں بیٹھا ہوں محفل ...

مزید پڑھیے

ہے آرزو کہ اپنا سراپا دکھائی دے

ہے آرزو کہ اپنا سراپا دکھائی دے آئینہ دیکھتا ہوں کہ چہرہ دکھائی دے مصروف اس قدر تھے کہ ساون گزر گیا حسرت رہی کہ ابر برستا دکھائی دے خاموش ہوں کہ بولنا تہمت ہے اس جگہ جب دیکھنا نہیں ہے تو پھر کیا دکھائی دے سوچا تھا بس کہ ذہن میں تصویر بن گئی اب آنکھ کہہ رہی ہے کہ چہرہ دکھائی ...

مزید پڑھیے

وہ خوں بہا کہ شہر کا صدقہ اتر گیا

وہ خوں بہا کہ شہر کا صدقہ اتر گیا اب مطمئن ہیں لوگ کہ دریا اتر گیا پھر جمع کر رہا ہوں پر کاہ سرگزشت حیران ہوں کہ ذہن سے کیا کیا اتر گیا آسیب راستے میں شجر روز و شب کے تھے جنگل کے پار میں تن تنہا اتر گیا غرقاب ہوکے سیکھی ہے گوہر شناوری پتھر نہ تھا کہ پانی میں گہرا اتر گیا مجھ کو ...

مزید پڑھیے

منظر مری آنکھوں میں رہے دشت سفر کے

منظر مری آنکھوں میں رہے دشت سفر کے کچھ ریت کے ٹیلے در و دیوار ہیں گھر کے لہروں پہ مرے پاؤں جمے ہیں کہ سفر میں ہے شرط ٹھہرنا کہ زمیں پاؤں سے سر کے تا عمر رہے جس کے لیے ذرۂ نا چیز دیکھے وہ کبھی کاش بلندی سے اتر کے پانی کے کئی رنگ دھنک میں ہیں کہ تو ہے تصویر میں آئی ہے تری شکل نکھر ...

مزید پڑھیے

فرش زمیں پہ برگ خزانی کا رنگ ہے

فرش زمیں پہ برگ خزانی کا رنگ ہے دیوار و در پہ نقل مکانی کا رنگ ہے آنکھوں میں تیرتے ہیں سفینے وداع کے لہجے میں آب جو کی روانی کا رنگ ہے افراط چشم و لب کی کہیں سیڑھیوں میں تھی لیکن چھتوں پہ قحط و گرانی کا رنگ ہے گالوں پہ اک لکیر سی سیلاب اشک سے دیوار پر کہیں کہیں پانی کا رنگ ...

مزید پڑھیے

درد کی خوشبو سے سارا گھر معطر ہو گیا

درد کی خوشبو سے سارا گھر معطر ہو گیا زخم کھا کھا کر بدن پھولوں کا پیکر ہو گیا مائل پرواز ہر لحظہ ہے مرغ جستجو میں جو سیڑھی پر چڑھا وہ اور اوپر ہو گیا گوہر امید لائیں کس اتھاہ میں ڈوب کر ہم جو غوطہ زن ہوئے گہرا سمندر ہو گیا ترچھے سورج کی شعاعیں دے گئیں اک ہم سفر میرا سایہ ہی مرے ...

مزید پڑھیے

مت پوچھ کہ اس پیکر خوش رنگ میں کیا ہے

مت پوچھ کہ اس پیکر خوش رنگ میں کیا ہے اک ریت کا ٹیلہ پس دیوار قبا ہے یہ خلق عبارت ہے لب گویا کی محتاج دیکھیں تو فقط داغ ہے بولیں تو صدا ہے آتی ہے سسکنے کی دل دشت سے آواز شاید کہ رگ و پے میں کوئی آبلہ پا ہے ہے بوجھ تن خستہ کا دیوار نفس پر گویا کہ مرے گھر کا ستوں موج ہوا ہے کچھ وحشت ...

مزید پڑھیے

مردہ رگوں میں خون کی گرمی کہاں سے آئی

مردہ رگوں میں خون کی گرمی کہاں سے آئی تھی شاخ سبز پھول میں سرخی کہاں سے آئی یہ عمر رائیگاں یہ سفر خواب میں کٹا پھر یہ تھکن یہ پاؤں پہ مٹی کہاں سے آئی دیوار خونچکاں نہ مرا زخم سر ہے سرخ یہ مصلحت بتا دل وحشی کہاں سے آئی میں صلح جو ہوا غلط الزام سے خفا اب پوچھتے ہو بات میں تلخی کہاں ...

مزید پڑھیے

کیا میرا اختیار زمان و مکان پر

کیا میرا اختیار زمان و مکان پر پہرے بٹھا دیئے ہیں کسی شے نے دھان پر تجھ سے بچھڑ کے گھر کی طرف لوٹتے ہوئے کیوں بستیوں کا وہم ہوا ہر چٹان پر حسرت رہی کہ صورت آب رواں چلیں کب سے مثال سنگ پڑے ہیں ڈھلان پر تھی جن کی دسترس میں ہوا پا بہ گل ہوئے اے مشت خاک زعم کہاں کا اڑان پر ہاں آرزو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1238 سے 6203