روشن سکوت سب اسی شعلہ بیاں سے ہے
روشن سکوت سب اسی شعلہ بیاں سے ہے اس خامشی میں دل کی توقع زباں سے ہے خاشاک ہیں وہ برگ جو ٹوٹے شجر سے ہوں ہم سے مسافروں کا بھرم کارواں سے ہے احساس گمرہی سے مسافت ہے جی کا روگ اب کے تھکن مجھے سفر رائیگاں سے ہے یا آ کے رک گئی ہے خط تیرگی پہ آنکھ ہے روشنی تو ٹوٹی ہوئی درمیاں سے ہے جب ...