قومی زبان

دنیا کا ذرہ ذرہ میاں عشق عشق ہے

دنیا کا ذرہ ذرہ میاں عشق عشق ہے ادنیٰ ہو یا ہو آلا یہاں عشق عشق ہے جس روز ہم نے خواب میں دیکھا تھا آپ کو اس روز سے ہمارا مکاں عشق عشق ہے دنیا اسی لیے تو سمجھ ہی نہیں سکی یارو ہمارے دل کی زباں عشق عشق ہے آنسو جو تیری یاد میں ٹپکا تھا ایک شب رخسار پر جو ہے یہ نشاں عشق عشق ...

مزید پڑھیے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے بنا لیا ہے جو شیشے کا گھر یہاں میں نے ہر اک نگاہ میں پتھر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

میں بناتا تجھے ہم سفر زندگی

میں بناتا تجھے ہم سفر زندگی کاش آتی کبھی میرے گھر زندگی میرے خوابوں کے بھی پاؤں جلنے لگے بن کے دریا نظر میں اتر زندگی ہر گھڑی آدمی خود میں مرتا رہا اس طرح کٹ گئی بے خبر زندگی ہم فقیروں کے قابل رہی تو کہاں جا امیروں کی کوٹھی میں مر زندگی تو گزارے یا جی بھر کے جی لے اسے آج کی رات ...

مزید پڑھیے

سیلفی

نارسیسس کے پہلو میں بیٹھے ہوئے عکس اپنا ہی تالاب میں دیکھ کر کتنی صدیوں سے اپنی ہی الفت میں گم خود پسندی کے مارے ہوئے لوگ تھے خود نمائی کے زیر اثر آ گئے آئینے کا فسوں اس قدر بڑھ گیا خود کو تصویر کرنے کی خواہش اٹھی اپنے ہاتھوں میں اپنی ہی آنکھیں لیے مختلف زاویوں سے نظر خود پہ ...

مزید پڑھیے

شہر‌ زادے

اس دور کے ہیں قصہ گو ہم شہر زادوں کی سنو یہ داستان زیست ہے کچھ خواب کی تعبیر ہے کچھ درد کی تمثیل ہے آئندگاں کا شہر یا ہے رفتگاں کی آرزو اک گہما گہمی کو بہ کو پھیلی ہوئی ہے چار سو ایجاد در ایجاد ہوتی خواہشیں اور جستجو ہر سمت میں بڑھتا ہوا یہ کار زار رنگ بو آسائشوں کے اس گھنے جنگل ...

مزید پڑھیے

ایک نظم کہ غزل کہیں جسے

روایتوں کا لباس پہنے گزشتگاں کا نصاب تھامے طرازیت کے نگار خانوں میں بین کرتی گھٹن زدہ قافیوں ردیفوں کے درمیاں منتشر خیالوں کے بوجھ اپنے دل حزیں پر اٹھائے پھرتی ہوئی اکائی وفور تخلیق سے پریشاں قدم قدم فرد فرد ہوتی بکھر رہی ہے اسی کے جز ہیں جو اس پہ حاوی ہوئے تو ایسے کہ آپ اپنی ...

مزید پڑھیے

نثری نظم کی منظوم کتھا

اور پھر کچھ یوں ہوا لفظ کی تکرار سے مرتعش اظہار سے عقدۂ دشوار سے شاعری اکتا گئی شاعری کی بے کراں موج تخیل یوں اٹھی تنگ نائے نظم و نغمہ گم ہوئی امتیاز بحر و بر مٹتا گیا اہتمام‌ ذوق تر جاتا رہا چشمۂ‌ وہم و گماں پھوٹتا ہے وادئ عجز بیاں کے وسط سے پھیلتی ہے خیرگی لمحۂ معکوس ہے آب جوئے ...

مزید پڑھیے

شور آلود

ایک مدت ہوئی دشت‌ آواز میں کوئی تنہا صدا خامشی کی نوا میں نہیں سن سکا گوش مفلس مرے اب ترسنے لگے ہیں کہ فطرت کی آواز غم ہو گئی زندگی اپنے ہنگام میں کھو گئی شورش گوش و لب کاش کہ تھم سکے تو مجھے خود کلامی کا موقع ملے میں تخیل کی آہٹ سنوں اور تخلیق کے ان سنے گیت گانے لگوں شور و غل کے ...

مزید پڑھیے

مڈل کلاس

سفید پوشی کی اوٹ میں بے شمار آہیں چھپی ہوئی ہیں قرین جاں ہے وہی سبک سار زندگی کا خیال اور بس وہ پر سکوں دن وہ جھلملاتا جہاں کہ جس میں ہم اپنے حصے کی زندگی کاش والہانہ گزار پاتے یہ چھوٹی چھوٹی سی خواہشیں تھیں کسی بڑے شہر کی کئی منزلہ عمارت سے گر پڑیں ہیں پھر ان کا ملبہ سمیٹ کر ...

مزید پڑھیے

فصیل خواب پہ سیڑھی لگانے والا ہوں

فصیل خواب پہ سیڑھی لگانے والا ہوں میں ایک راز سے پردہ اٹھانے والا ہوں تخیلات کے دانے بکھیر کر ہر سو زمین عقل پہ حیرت اگانے والا ہوں مری نظر میں یہ جیون ہے جل پری جیسا میں شوخ رنگ کے ساگر دکھانے والا ہوں گماں کی حد سے بھی آگے پڑاؤ ڈالا ہے بہت رکا تو فقط شب بتانے والا ہوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1219 سے 6203