قومی زبان

چمکتے چاند ستارو ذرا خیال کرو

چمکتے چاند ستارو ذرا خیال کرو کبھی تو دل سے پکارو ذرا خیال کرو حیا کے دھاگوں میں لپٹے ہوئے ہیں ہم دونوں نئی رتوں کے اشارو ذرا خیال کرو گری تو ٹوٹ کے بکھروں گی دور دور کہیں اے کاغذی سے سہارو ذرا خیال کرو سلگ رہا ہے کسی کا فراق تن من میں ادھر نہ آؤ بہارو ذرا خیال کرو ملن کی آس ہے ...

مزید پڑھیے

محبت کی نشانی کو کچل کر

محبت کی نشانی کو کچل کر وہ خوش ہیں اک کہانی کو کچل کر یہ دہشت کی جو آندھی چل رہی ہے رکے گی زندگانی کو کچل کر کریں گے شدھ گنگا کو لہو سے سبھی آنکھوں کے پانی کو کچل کر بھلا کیا جھوٹ قابض ہو سکے گا ہماری سچ بیانی کو کچل کر قلم کی دھار پینی ہو رہی ہے تمہاری بد گمانی کو کچل کر

مزید پڑھیے

بھری محفل میں رسوا کیوں کریں ہم

بھری محفل میں رسوا کیوں کریں ہم تری آنکھوں کو دریا کیوں کریں ہم ضروری اور بھی ہیں مسئلے تو محبت ہی کا چرچا کیوں کریں ہم گلے سلجھائیں گے دونوں ہی مل کر بھلا سب کو اکٹھا کیوں کریں ہم سیاست توڑ دینا چاہتی ہے مگر بھائی سے الجھا کیوں کریں ہم ہمارے دل میں ہی راون ہے یاروں زمانہ بھر ...

مزید پڑھیے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے بنا لیا ہے جو شیشے کا گھر یہاں میں نے ہر اک نگاہ میں پتھر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

بڑا جب سے گھرانا ہو گیا ہے

بڑا جب سے گھرانا ہو گیا ہے خفا سارا زمانہ ہو گیا ہے ہوئی مدت کئے ہیں ضبط موتی نگاہوں میں خزانہ ہو گیا ہے جڑیں کھودا کیے تا عمر جس کی شجر وہ شامیانہ ہو گیا ہے کریں گے خرچ اب جی بھر کے یارو بہت نیکی کمانا ہو گیا ہے

مزید پڑھیے

اسی قاتل کا سینے میں تیرے خنجر رہا ہوگا

اسی قاتل کا سینے میں تیرے خنجر رہا ہوگا کہ جو چھپ کر بہت احساس کے اندر رہا ہوگا نہ جانے کس طرح خاموش دریا میں مچی ہلچل نگاہوں میں تری شاید کوئی کنکر رہا ہوگا در و دیوار سے آنسو ٹپکتے ہیں لہو بن کر اسی کمرے میں ارمانوں کا اک بستر رہا ہوگا کہیں سمٹا ہے سناٹے کی چادر اوڑھ کر ...

مزید پڑھیے

سازشوں کی بھیڑ تھی چہرہ چھپا کر چل دئے

سازشوں کی بھیڑ تھی چہرہ چھپا کر چل دئے نفرتوں کی آگ سے دامن بچا کر چل دئے نا مکمل داستاں دل میں سمٹ کر رہ گئی وہ زمانہ کی کئی باتیں سنا کر چل دئے ذکر میرا گفتگو میں جب کبھی بھی آ گیا مسکرائے اور پھر نظریں جھکا کر چل دئے منزل دیوانگی حاصل ہوئی یوں ہی نہیں کیا بتائیں پیار میں کیا ...

مزید پڑھیے

ٹریفک

یہ شہر ستم مار دیتا ہے مجھ کو سر راہ شام و سحر کے کنارے نظار و پریشاں میں شوریدہ سر ازدحام کسالت میں گم اپنے چاروں طرف اک نظر ڈالتا ہوں تو یہ سوچتا ہوں کہ یہ گاڑیاں ہیں یا گاڑی نما وحشتیں رینگتی ہیں مجھے وحشتیں ڈس رہی ہیں تھکن سے بدن میں دراڑیں پڑیں ہیں کوئی منزل بے نشاں تک نہیں ...

مزید پڑھیے

مبادا

بڑی حیران کن ہے حقیقت خواب ہے یا خواب سے آگے کی منزل یہ دنیا خواب کی دنیا پہ سبقت لے گئی ہے فسانوں سے فزوں تر زندگی ہے گماں کی سرحدیں ہوں یا تخیل کی اڑانیں خرد کی جست سے پیچھے کہیں پیچھے دکھائی دے رہی ہیں خرد کی دسترس میں کیا نہیں ہے نہیں ہے غیر ممکن کبھی امکان سے جو ماورا تھا فقط ...

مزید پڑھیے

وقار عشق بڑھانے پہ طنز کرتے ہیں

وقار عشق بڑھانے پہ طنز کرتے ہیں کسی کے ناز اٹھانے پہ طنز کرتے ہیں میں جان بوجھ کے جب ان کو چھوڑ دیتا ہوں شکار میرے نشانے پہ طنز کرتے ہیں عجیب بات ہے یارو ہر اک زمانہ میں زمانہ والے زمانہ پہ طنز کرتے ہیں تجھے خبر ہی نہیں ہے اے مسخرے کچھ لوگ ترے مذاق اڑانے پہ طنز کرتے ہیں سرور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1218 سے 6203