سکھایا عشق نے مجھ کو کہ جنگجو کیا ہے
سکھایا عشق نے مجھ کو کہ جنگجو کیا ہے یہ کیا ہے زخم کی شدت کہ پھر رفو کیا ہے اگر سکوں ہے کسی اک جگہ ٹھہر جانا تو پھر یہ خوب سے برتر کی جستجو کیا ہے اصول ہوتے ہیں کچھ دوستو محبت کے اگر نماز ہے سب کچھ تو پھر وضو کیا ہے اگر ہو چھوڑ گئے مجھ کو چھوڑنے والے تو تیری یادوں سا یہ میرے روبرو ...