قومی زبان

سکھایا عشق نے مجھ کو کہ جنگجو کیا ہے

سکھایا عشق نے مجھ کو کہ جنگجو کیا ہے یہ کیا ہے زخم کی شدت کہ پھر رفو کیا ہے اگر سکوں ہے کسی اک جگہ ٹھہر جانا تو پھر یہ خوب سے برتر کی جستجو کیا ہے اصول ہوتے ہیں کچھ دوستو محبت کے اگر نماز ہے سب کچھ تو پھر وضو کیا ہے اگر ہو چھوڑ گئے مجھ کو چھوڑنے والے تو تیری یادوں سا یہ میرے روبرو ...

مزید پڑھیے

سکوں کو چھوڑ کے غم بے حساب لاتا ہوں

سکوں کو چھوڑ کے غم بے حساب لاتا ہوں سہانے خواب بھی سارے خراب لاتا ہوں جو تم نے توڑے پرانے تھے سارے کے سارے ذرا رکو نیا کوئی میں خواب لاتا ہوں مکان نہر کنارے تمہیں مبارک ہو میں کم سہی مگر آپ اپنا آب لاتا ہوں وہ بولے مجھ سے محبت گناہ تھی سو میں انہیں لٹانے کو اپنے ثواب لاتا ...

مزید پڑھیے

اپنی بھی ایسی اک کہانی ہے

اپنی بھی ایسی اک کہانی ہے درد ہے اور بے زبانی ہے آپ کیا مجھ سے سننے آئے ہیں میرا تو کام خود کلامی ہے ہم نہ جو مانتے تھے اپنی بھی ہم نے بھی بات اس کی مانی ہے عشق ہوگا تو آپ جانیں گے آنکھ میں اشک ہیں یا پانی ہے کان میں انگلیاں رکھو جلدی میں نے اک آرزو سنانی ہے لوگ پڑھتے ہیں تازہ ...

مزید پڑھیے

شرح جمال کیجے شہادت کے ماسوا

شرح جمال کیجے شہادت کے ماسوا حسن ازل کی بات روایت کے ماسوا رگ رگ میں دوڑتی تھی بہاروں کی تازگی اب کچھ نہیں لہو میں حرارت کے ماسوا معنی میں ڈھال دیجئے اک ایک حرف کو کیجے مگر کلام عبارت کے ماسوا ملتا نہیں جہان میں رنگ آستان کا ماتم ہے کربلا میں شہادت کے ماسوا بس اک قیام دید پہ ...

مزید پڑھیے

طلسم لفظ و معانی کو تار تار کریں

طلسم لفظ و معانی کو تار تار کریں تصورات کی ندرت کو آشکار کریں اتار لائیں فلک سے مہہ‌ و نجوم تمام زمیں پہ عظمت آدم کو استوار کریں ہیں سمت سمت عیاں خیر و شر کے ہنگامے کہ آدمی کو خدائی کا راز دار کریں ہیں جمع دہر میں فتنے سبھی قیامت کے اب اور کون سے محشر کا انتظار کریں گزر کے ...

مزید پڑھیے

حق نوائی کو زمانے کی زباں کون کرے

حق نوائی کو زمانے کی زباں کون کرے ایسی تلخی کو صمدؔ لذت جاں کون کرے اب سر دار وفاؤں کے لیے کون آئے چند خوابوں کے لیے ترک جہاں کون کرے ہم نے مانا کہ بڑی چیز ہے پابندیٔ وقت سجدۂ شوق کو پابند اذاں کون کرے وقت کی چاپ سے گونجی ہے مری تنہائی وقت کی چاپ کو اب اور گراں کون کرے کون اونچی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں خواب سی ہیں یادیں ذرا ذرا سی

آنکھوں میں خواب سی ہیں یادیں ذرا ذرا سی دن پر جھکی ہوئی ہیں راتیں ذرا ذرا سی موسم بدل گئے ہیں سب شہر آرزو کے کیا کر گئیں قیامت باتیں ذرا ذرا سی یہ زندگی کی بازی بازی گری نہیں ہے کیا کھیل کھیلتی ہیں ماتیں ذرا ذرا سی گزرے ہیں کارواں جب شاداب منزلوں سے قدموں میں رہ گئی ہیں راہیں ...

مزید پڑھیے

آزاد نہیں ذہن ابھی فکر بدن سے

آزاد نہیں ذہن ابھی فکر بدن سے نکلا نہیں انسان ابھی اپنے گہن سے اب دار سے ملتا ہے ترا قامت بالا شکوہ تھا ترے قد کو بہت سرو و سمن سے موسم کا نہیں اپنے کوئی جسم شناسا ماتھے کا تعلق نہیں ماتھے کی شکن سے دشوار تھا کچھ میں بھی زمانے کے ہنر پر کچھ دور رکھا وقت نے مجھ کو مرے فن سے کیا ...

مزید پڑھیے

دست شبنم پہ دم شعلہ نوائی نہ رکھو

دست شبنم پہ دم شعلہ نوائی نہ رکھو صبح کی گود میں شب بھر کی کمائی نہ رکھو میری یادوں کے صنم خانوں سے اٹھنے دو دھواں میرے سینے پہ ابھی دست حنائی نہ رکھو جاگ جائے نہ کہیں حسن کا سوتا پندار دیدۂ شوق میں انداز گدائی نہ رکھو شب کو رہنے دو یوں ہی شام و سحر کا پیوند ڈر کے ظلمات سے بنیاد ...

مزید پڑھیے

وہ گم ہوئے ہیں مسافر رہ تمنا میں

وہ گم ہوئے ہیں مسافر رہ تمنا میں کہ گرد بھی نہیں اب آرزو کے صحرا میں ہے کون جلوہ سرا بام آفرینش پر اتر گئے ہیں ستارے سے چشم بینا میں ملی تھی جس کو نمو درد کی صلیبوں سے وہ لمس بھی نہیں باقی مرے مسیحا میں کشید جن سے ہوئی تھی نئے زمانوں کی وہ میکدے بھی ہوئے غرق موج صہبا میں اٹھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1213 سے 6203