چشم حیراں کو یوں ہی محو نظر چھوڑ گئے
چشم حیراں کو یوں ہی محو نظر چھوڑ گئے دل میں لہرائے خیالوں میں شرر چھوڑ گئے جن کے سائے میں کبھی بیٹھ کے سستایا تھا وہ گھنے پیڑ مری راہگزر چھوڑ گئے منتظر ان کے لیے ہے کسی گرداب کی آنکھ خود سفینوں کو جو ہنگام خطر چھوڑ گئے قافلے نور کے اترے نہ کسی منزل پر شب کے نم دیدہ کناروں پہ سحر ...