قومی زبان

چشم حیراں کو یوں ہی محو نظر چھوڑ گئے

چشم حیراں کو یوں ہی محو نظر چھوڑ گئے دل میں لہرائے خیالوں میں شرر چھوڑ گئے جن کے سائے میں کبھی بیٹھ کے سستایا تھا وہ گھنے پیڑ مری راہگزر چھوڑ گئے منتظر ان کے لیے ہے کسی گرداب کی آنکھ خود سفینوں کو جو ہنگام خطر چھوڑ گئے قافلے نور کے اترے نہ کسی منزل پر شب کے نم دیدہ کناروں پہ سحر ...

مزید پڑھیے

وہ آرزو کہ دلوں کو اداس چھوڑ گئی

وہ آرزو کہ دلوں کو اداس چھوڑ گئی مری زباں پہ سخن کی مٹھاس چھوڑ گئی لکھی گئی ہے مری صبح کے مقدر میں وہ روشنی جو کرن کا لباس چھوڑ گئی اٹھی تھی موج جو مہتاب کے کنارے سے زمیں کے گرد فلک کی اساس چھوڑ گئی یہ کس مقام تمنا سے بے خودی گزری یہ کس کا نام پس التماس چھوڑ گئی چراغ زیست سے ...

مزید پڑھیے

آہٹوں سے دماغ جلتا ہے

آہٹوں سے دماغ جلتا ہے آج سکہ ہوا کا چلتا ہے تھرتھراتی ہے لو مشیت کی ایک محشر فضا میں پلتا ہے سر اٹھاتے ہیں نقش پاؤں تلے سایہ جب آدمی کا ڈھلتا ہے رنگ چنتا ہے ذہن بلور جسم جب دھوپ سے پگھلتا ہے اپنے محور پہ شام تک سورج کتنے ہی زاویے بدلتا ہے کر کے پتھر سے پاش پاش ہمیں شہر کا شہر ...

مزید پڑھیے

آئینۂ دل داغ تمنا کے لیے تھا

آئینۂ دل داغ تمنا کے لیے تھا سینے کا صدف اک در یکتا کے لیے تھا جو تیرنے والے تھے وہ منجدھار سے گزرے دریا کا کنارہ کف دریا کے لیے تھا کیوں ہاتھ میں تیرے مجھے پتھر نظر آیا دیوانہ اگر تھا تو میں دنیا کے لیے تھا گزرا نہ ترے بعد کوئی کوچۂ دل سے یہ راستہ اک نقش کف پا کے لیے تھا دیوار ...

مزید پڑھیے

چشم نم پہلے شفق بن کے سنورنا چاہے

چشم نم پہلے شفق بن کے سنورنا چاہے اور پھر ریت کے دامن پہ بکھرنا چاہے عجب انسان ہے وہ سحر یہ کرنا چاہے آنکھ سے دیکھو اگر دل میں اترنا چاہے کچھ عجب اس سے تعلق ہے کہ اس کی ہر بات موج خوں بن کے مرے سر سے گزرنا چاہے سارا دن دھوپ کے صحرا میں رہے سرگرداں شام ہوتے ہی سمندر میں اترنا ...

مزید پڑھیے

ایک سوال

تمام عمر جو اپنے لئے نہ مانگ سکی وہ سب دعائیں تمہارے لئے ہی مانگی ہیں ہر اک دعا میں تمہارا ہی نام لب پہ رہا ہر ایک حرف محبت تمہارے نام رہا گئی رتوں کے حسیں خواب ساتھ ساتھ چلے ڈگر ڈگر پہ تمہارا ہی نام لکھتے چلے جو لوح سادہ پر اک بار تیرا نام لکھا غبار گرد زمانہ اسے مٹا نہ سکا یہ ...

مزید پڑھیے

بجھتے سورج کے شرارے نور برسانے لگے

بجھتے سورج کے شرارے نور برسانے لگے رفتہ رفتہ چاند تاروں میں نظر آنے لگے کر گیا بیدار پتھر کو فن خارا تراش کتنے نادیدہ صنم آنکھوں میں لہرانے لگے موج بوئے گل سے بھڑکی ہیں دبی چنگاریاں پھر ہوا کے سرد جھونکے جسم جھلسانے لگے کٹ کے رہ جائے گی آخر قسمت غم کی لکیر تیرے زندانی اگر ...

مزید پڑھیے

پتھر کی نیند سوتی ہے بستی جگائیے

پتھر کی نیند سوتی ہے بستی جگائیے آب حیات سا کوئی اعجاز لائیے جل جائیے مقام پہ اپنے مثال شمع اپنے بدن کی لو سے نہ گھر کو جلائیے اک نہر کاٹیے کبھی سینے سے چاند کے دامان شب میں نور کا دھارا بہائیے آ تو گئے ہیں آپ خریدار کی طرح کچھ تن کو خرچ کیجیئے جاں کو بھنائیے جن کے دھوئیں سے ...

مزید پڑھیے

روشنی تک روشنی کا راستہ کہہ لیجئے

روشنی تک روشنی کا راستہ کہہ لیجئے رات کو شام و سحر کا فاصلہ کہہ لیجئے دے گئی کتنی بہاریں ایک فصل آرزو رنگ و بو کو موسموں کا خوں بہا کہہ لیجئے گونجتی ہے عمر ویراں میں تمنا کی تھکن حرف غم کو گنبد جاں کی صدا کہہ لیجئے کند آخر کر گئیں تلوار کو خونریزیاں دوستی کو دشمنی کی انتہا کہہ ...

مزید پڑھیے

اترے طلسم شب کے اجالوں پہ رات بھر

اترے طلسم شب کے اجالوں پہ رات بھر قرباں ہوئی ہے صبح چراغوں پہ رات بھر ظلمت میں اپنی ڈوب گئیں دن کی بستیاں سورج تمام چمکے ستاروں پہ رات بھر اترے نہیں شبوں میں اڑانوں کے حوصلے بیٹھے رہے پرند بھی شاخوں پہ رات بھر اک لو نہیں نصیب غریبان شہر کو شمعیں جلی ہیں کتنی مزاروں پہ رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1214 سے 6203